توانائی کابحران، ایرا ن سے رابطے کی ضرورت!

 توانائی کابحران، ایرا ن سے رابطے کی ضرورت!
 توانائی کابحران، ایرا ن سے رابطے کی ضرورت!

  

 اس سے پہلے میں اپنے آرٹیکل میں تیسری جنگ عظیم کے شروع ہونے کے بارے میں کہہ چکا ہوں چونکہ روس اور یوکرین کے درمیان جنگ میں امریکہ اور جی سیون کے ممالک کود چکے ہیں، اس وجہ سے عالمی سطح پر حالات کشیدہ ہیں توانائی کا بحران بڑھتا جا رہا ہے اورجو حالات نظر آرہے ہیں دنیا بھر کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوگا۔ امریکہ اور جی سیون ممالک کے حالیہ اجلاس میں روس کے خلاف حکمت عملی طے کرلی گئی ہے۔ امریکہ یوکرین کی چھ ارب ڈالر سے زیادہ کی مدد کر چکا ہے جس کا زیادہ تر حصہ اسلحے پر مشتمل ہے۔امریکہ کی طرف سے لانگ رینج میزائل بھی یوکرین کو فراہم کر دیئے گئے ہیں جو روس کے بڑے شہروں پر گرا ئے جا سکتے ہیں جبکہ اسی طرح باقی یورپی ممالک نے بھی یوکرین کو اسلحہ دینے کا اعلان کیا ہے۔یوکرینی صدر اس جنگ کو نتیجہ خیز بنانے کے لیے 2022ء کے آخر تک لے جانا چاہتے ہیں جبکہ یورپی ممالک کی کوشش ہے کہ اس کا جلد خاتمہ کیا جائے۔

اس حوالے سے دیکھا جائے تو یہ واضح ہے کہ یورپی ممالک میں آنے والی سردی میں گیس کی کم یا عدم دستیابی کی وجہ سے حالات خراب ہوں گے۔ جی سیون ممالک کا جو حالیہ اجلاس ہوا ہے اس میں امریکی صدر جو بائیڈن نے فرانس کے سربراہ مملکت سے کہا ہے کہ سعودی عرب اور مشرق وسطیٰ کے دیگر ممالک سے درخواست کریں کہ وہ تیل کی پیداوار بڑھائیں۔یہ پیغام فرانس کے صدرنے سعودی عرب تک پہنچایا مگر توقع کے برعکس انہیں مایوسی ہوئی، ان ممالک نے تیل کی پیداوار بڑھانے سے مکمل طور پر انکار کر دیا ہے۔ جو بائیڈن کی یہ کال لیک ہوگئی تو صورت حال سامنے آئی ہے کہ معاملات عالمی طاقتوں کے ہاتھ سے نکل رہے ہیں۔اس کے بعد تیل کی قیمت 10 سے 12 ڈالر بڑھ گئی ہے۔ اسی طرح کے پیغام کے جواب میں ایران نے بھی تیل کی پیداوار بڑھانے سے انکار کردیا ہے۔آنے والے وقت میں خدشہ ہے کہ خام تیل کی قیمت 150 ڈالر فی بیرل تک چلی جائے گی جس کے اثرات پاکستان پر بھی بہت زیادہ گہرے ہوں گے۔سری لنکا میں آج صورت حال یہ ہے کہ وہاں پٹرول نہیں مل رہا اور کوئی ملک بھی انہیں تیل فراہم کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ اسی طرح کوئی بڑی کمپنی پاکستانی ٹینڈرز کو قبول کرنے کو تیار نہیں جس کی وجہ سے اب آئل کمپنیاں یہ کوشش کر رہی ہیں کہ انہیں کوئی مڈل مین مل جائے جس کے پاس سرمایہ ہو تو وہ خریدار بنے اور منافع حاصل کر کے پاکستان کو فروخت کردے۔

پاکستان کو گیس کا مسئلہ بھی درپیش ہے۔ مجھ سمیت کئی رہنما بار بار مطالبہ کرچکے ہیں کہ ایران کے ساتھ جو گیس پائپ لائن معاہدہ ہے اس پر عمل درآمد کیا جائے۔ ایران نے گیس پائپ لائن ہمارے بارڈر تک پہنچا دی ہے۔کاش!ہمارے حکمران ذہین اور مخلص ہوں تو ایران کو کچھ معاملات میں سہولت فراہم کرکے اس سے درخواست کریں کہ پاکستان کے اندر گیس پائپ لائن بچھانے میں ان کی مالی مدد کرے۔اس حوالے سے بین الاقوامی سطح پر جو بھی ممکنہ متبادل انتظامات ہوں کرلئے جائیں یعنیB.O.T یا کسی اورسسٹم سے کام چل سکتا ہے تو آگے بڑھنے کی کوشش کی جائے ورنہ پاکستان کی اقتصادی صورت حال بد سے بدتر ہوتی جارہی ہے کیونکہ آنے والے دنوں میں مہنگائی،بیروزگاری،توانائی کے بحران،آبی وسائل کی قلت، اشیائے خوردونوش اور بنیادی ضروریات زندگی کی قلت پیداہونے سے ایک طوفان کھڑا ہو سکتا ہے۔ زرعی اجناس اور دیگر بنیادی اشیائے خورد و نوش کی باقاعدہ منصوبہ بندی بھی کی جائے۔اس حوالے سے میں پہلے بھی تجویز دے چکا ہوں کہ پاکستان ایک زرعی ملک ہے خاص طور پر پنجاب، سندھ اورخیبر پختونخوا کے کاشتکاروں کو سہولت فراہم کرنے،پانی کی قلت سے بچانے کے لیے سولر سسٹم دینے میں مدد کی جائے تو ہم اپنے قدرتی وسائل سے بہرہ ور ہوسکتے ہیں …… اور کچھ نہیں تو کم ازکم زرعی اجناس توہماری غذائی ضروریات کو پورا کر سکتی ہیں۔

ایران گیس پائپ لائن کی تعمیر میں مددکے ساتھ ہمیں پٹرولیم مصنوعات بھی مہیا کر سکتا ہے مگر نہ جانے ہمارے موجودہ اور سابق حکمران امریکہ سے خوفزدہ کیوں ہیں؟اسلامی جمہوریہ پاکستان کے 22 کروڑ عوام پر حکومت کرنے والے حکمران خوف کوایک طرف رکھ کراپنے برادر ہمسایہ ملک سے بات چیت کریں، امید ہے ایران ہمیں مایوس نہیں کرے گا اور اس حوالے سے کئی ممالک کی  مثالیں موجود ہیں کہ اگر ہم’تخلیقی‘نہیں تو ’تقلید ی‘ ہی بن کر دوسری قوموں سے سبق سیکھ لیں اور اپنے ملک کے بحرانوں پر قابو پانے کے لیے ابھی سے منصوبہ بندی کر لیں ورنہ جو حالات آنے والے ہیں وہ خطرناک ہی ہوں گے۔

 اچھی قوموں کی تقلید کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف اور حکومت میں شامل جماعتوں کے سربراہان اپنا سرمایہ وطن واپس لائیں۔  ہم سمجھتے ہیں کہ جبر کے ذریعے سپر ٹیکس لگانے کی بجائے،ملک بھر کے چیمبر آف کامرس سولر سسٹم لگانے میں کاشتکاروں کی مدد کریں۔ تاجر تنظیمیں آگے بڑھیں مختلف ڈویژنوں کا انتخاب کرلیں اور وہاں کے چھوٹے غریب کاشتکاروں کو ضروری سہولیات فراہم کریں تاکہ ملک کو معاشی بحران سے نکالا جاسکے۔

 ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ملک کو بحران سے نکالنے کے لیے ٹیکس مسلط کرنے کی نہیں بلکہ خلوص پیداکرنے کی ضرورت ہے۔ ٹیکس چوری کے لیے لوگ راستے ڈھونڈ لیتے ہیں لیکن خلوص کا سفرہمیشہ جاری رہتا ہے۔ ہمیں قوم کو انتظامی اور انتقامی معاملات میں الجھانے کے بجائے ان کی فکری تربیت کی طرف توجہ دینی چاہیے تاکہ واقعی ہم”ریاست مدینہ“ کی طرف سفر شروع کر سکیں۔ اس کے علاوہ میں یہ گزارش بھی کرنا چاہتا ہوں کہ میاں نواز شریف، شہباز شریف اور آصف علی زرداری، بلاول بھٹو زرداری اور دیگر صاحب ثروت لوگ اور ان کے ساتھی انسانیت کی بقا اور غربت کے خاتمے  اور ملکی معیشت کو بہتر کرنے کے لئے اپنی دولت میں سے اپنا حصہ ڈال کر اور مثال قائم کردیں۔یہ ان کی نیک نامی بھی ہوگی اور ملک کی خدمت بھی۔

مزید :

رائے -کالم -