صاحب جوتیاں مارنے والے بڑھا دیں 

صاحب جوتیاں مارنے والے بڑھا دیں 
صاحب جوتیاں مارنے والے بڑھا دیں 

  

 اب تو جس دن پٹرول کی قیمت بڑھنے کے بارے میں خبر سننے کو نہ ملے تو جی متلانے لگتا ہے اور یوں لگتا ہے جیسے کوئی کمی سی رہ گئی ہے۔ یہ مفتاح اسماعیل کا کمال ہے کہ انہوں نے پٹرول کی قیمت بڑھنے کا بھی نشہ لگا دیا ہے، حیرانی تو اس پر ہے کہ اس بار صرف 15روپے فی لٹر بڑھائے گئے ہیں۔ کوئی 30،40روپے بڑھاتے تو مزا بھی آتا کیونکہ تین بار تو اچھے خاصے جھٹکے لگائے گئے اب معمولی جھٹکا کچھ مزا نہیں دے رہا۔ویسے مفتاح اسماعیل نے درست کہا تھا کہ لوگ عمران خان کے ورغلانے کے باوجود پٹرول مہنگا کرنے پر باہر نہیں نکلے، ہاں باہر وہ صرف اُس وقت نکلتے ہیں جب انہیں پتہ چلتا ہے کہ پٹرول مہنگا ہونے والا ہے،پٹرول پمپوں کا رخ کرتے ہیں اور ایک دوسرے پر ٹوٹ پڑتے ہیں۔کل ایک صاحب اس کی مثال اُس بادشاہ کے واقع سے دے رہے تھے جسے عوام نے ہاتھ جوڑ کے کہا تھا حضور! ہم جوتیاں کھانے کو تیار ہیں بس آپ جوتیاں مارنے والوں کی تعداد بڑھا دیں۔یہ قوم اب آئی ایم ایف کے سامنے ڈٹ کے کھڑی ہے،اسے للکار رہی ہے کہ تو ستم آزما ہم جگر آزمائیں گے۔عمران خان نے کل پورے ملک میں احتجاج کی کال دے رکھی ہے، جس کا  اگر حکومت کو کوئی خوف ہوتا تو اس بار پٹرول کی قیمت بڑھانے کا فیصلہ نہ کرتی جیسا عمران خان نے اپنے دور میں کیا تھا کہ جب بلاول بھٹو زرداری نے کراچی سے لانگ مارچ شروع کیا تھا تو انہوں نے پٹرول کی قیمت بڑھانے کی بجائے 10 روپے لٹر کم کر دی تھی۔

اِدھر حکومت تیل کی قیمتیں بڑھا رہی ہے اور اُدھر اُس کے اتحادی اُس پر دباؤ بڑھاتے جا رہے ہیں۔متحدہ قومی موومنٹ، عوامی نیشنل پارٹی اور بلوچستان عوامی پارٹی نے حکومت سے نکلنے کی دھمکی دے دی ہے۔۔۔ جی نہیں!!! آپ غلط سمجھے، یہ دھمکی اس وجہ سے نہیں دی کہ حکومت نے عوام کا تیل نکال دیا ہے یا پٹرول مہنگا کرنے کے خلاف بطور احتجاج دی ہے بلکہ اس کا سبب صرف ذاتی مفادات ہیں، وہ دعوے ہیں جو اُس وقت کیے گئے جب اِن جماعتوں کو اپنی طرف لانے کے لیے آصف علی زرداری اور شہباز شریف ہر قیمت ادا کرنے پر تیار تھے، یہ تب کبھی صبح کے وقت عمران خان سے ملتے تھے اور کبھی شام کو آصف علی زرداری یا شہباز شریف سے ملاقات کرتے تھے، بھاؤ تاؤ چل رہا تھا،کچھ فون وغیرہ بھی شاید آئے ہوں،دباؤ بھی رہا ہو گا،اُس وقت بڑی پریس کانفرنسیں ہوئیں، یکجہتی کا بھرپور مظاہرہ کیا گیا لیکن اب اتنی جلد نوبت جوتیوں میں دال بٹنے تک آ گئی ہے۔ اِن لوگوں سے عوام کو کیا ہمدردی ہو سکتی ہے، ان کے ساتھ اگر اب برا سلوک ہو رہا ہے،اُن کی سنی نہیں جا رہی تو اس سے عوام کا کیا تعلق ہے؟ہاں اگر یہ جماعتیں یہ کہتیں حکمرانو! یہ تم کیا کر رہے ہو، عوام پر اتنا ظلم کیوں ڈھا رہے ہو، ہمارے غریب ووٹرز کو جیتے جی کیوں مار رہے ہو،پٹرول کو بریک لگاؤ، اپنی مراعات کم کرو، اشرافیہ کو ٹیکسوں کے نیچے لاؤ، حکمرانی کے اللے  تللے ختم کرو، قوم کو ریلیف دو۔۔۔ وگرنہ ہم اس گناہِ بے لذت میں شامل ہونے کو تیار نہیں،نکل جائیں گے اس حکومت سے، کھڑے ہوں گے عوام کے ساتھ اور کریں گے احتجاج اس مہنگائی پر جس نے ہر شخص کی زندگی اجیرن کر دی ہے تو عوام اُن کی پشت پر آکھڑے ہوتے پھر اُن کی باتیں ذاتی مفاد کا دکھڑا نہ ہوتیں بلکہ اجتماعی مفاد کے لیے اٹھائی گئی وہ آواز بن جاتیں جو  قوموں کی زندگی میں آکسیجن کا کام دیتی ہے۔

حکومت مشکل فیصلوں کے نام پر عوام کا جو کچومر نکال رہی ہے تاریخ میں اُس کی مثال نہیں ملتی۔ کہا جا رہا ہے کہ معیشت کو بچانا ہے اور ملک کو دیوالیہ ہونے سے محفوظ رکھنا ہے۔ اتنا بڑا ٹاسک ہے تو فیصلے بھی بڑے کریں ناں، ہر روز کابینہ میں کسی وزیر کا اضافہ کیا مشکل فیصلہ ہے؟مشکل فیصلہ تو یہ ہے کہ کابینہ مختصر رکھی جائے۔ اُدھر یہ خبر آئی ہے کہ چیئرمین سینیٹ اور سپیکر قومی اسمبلی کی مراعات و تنخواہ میں اضافہ کیا جا رہا ہے، کیا یہ بہت ضروری آئٹم ہے،کیا پہلے مراعات کم ہیں جو انہیں بڑھانا ضروری ہو گیا ہے۔ مفت بجلی اور پٹرول پر کوئی پابندی عائد کی گئی،شاہانہ پروٹوکول میں خاطر خواہ کمی آئی، اسمبلی میں آئے بغیر مشاہروں اور الاؤنسوں کی وصولی کا سلسلہ رُکا؟ سپر ٹیکس لگا کے بڑی کُلہ درازی گئی کہ دیکھو بڑے لوگوں پر بھی ٹیکس لگا دیا ہے،کیا کسی نے اُس کے بعد نوٹ کیا کہ سیمنٹ، سریے اور دیگر وہ اشیاء جن کی صنعتوں پر سپر ٹیکس لگا ہے کتنی مہنگی ہو گئی ہیں؟یہ بوجھ تو عوام نے اٹھانا تھا، کسی امیر پر تو اُسی وقت یہ ٹیکس لگتا جب اُس کی ذاتی آمدنی سے وصول کیا جاتا، صنعتی پیداوار کی آمدنی پر ٹیکس لگے لگا تو اُسے بے چارہ عام پاکستانی ہی برداشت کرے گا۔

ایک صاحب کی حسِ مزاح پھڑکی تو کہنے لگے اب تو پٹرول چھڑک کر مرنا بھی مشکل ہو گیا ہے، ڈیڑھ لٹر کی بوتل کون بھروائے، کہاں سے پیسے لائے،اس حکومت نے پٹرول لگ بھگ سو روپے فی لٹر بڑھا دیا ہے اور وہ بھی صرف سوا دو مہینے میں، ابھی یہ سلسلہ رکتا نظر نہیں آیا کیونکہ تیل کے سوا حکومت کے اندر کسی اور ذریعے سے ٹیکس اکٹھا کرنے کی جرأت ہی نہیں، ایک عام اور سہل راستہ ہے کہ راتوں رات پٹرول کی قیمت بڑھا دو اور رونا یہی روتے رہو کہ دیکھو عمران خان ہمارے راستے میں بارودی سرنگیں بچھا گیا تھا جنہیں عوام پر پٹرول بم گرا کے صاف کر رہے ہیں۔کیا اس طرح معیشت واقعی مضبوط ہو جائے گی یا پاؤں پر کھڑی ہو سکے گی؟میری نظر میں تو معیشت ہر دن کے ساتھ زمین بوس ہو رہی ہے کیونکہ عوام کی قوتِ خرید دم توڑنے لگی ہے اور اگر کسی ملک کا صارف ہی دیوالیہ ہو جائے تو اُس ملک کو دیوالیہ ہونے سے آئی ایم ایف بھی نہیں بچا سکتا۔یہ نہیں کہ صرف پٹرول سو روپے لٹر مہنگا ہوا ہے بلکہ اُس کی وجہ سے بجلی مہنگی ہو گئی ہے، اشیائے خوردو نوش کو آگ لگ گئی ہے، ٹرانسپورٹ کے کرائے آسمان سے باتیں کر رہے ہیں، صارفین کو جولائی میں بجلی کے جو بل آئیں گے اُن میں موجودہ بل کم اور فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی مد میں زیادہ رقم درج ہو گی۔خبر نہیں یہ حکمران کس ایجنڈے کے تحت اقتدار میں آئے ہیں لیکن اتنی خبر ضرور ہے کہ ان کے ہوتے ہوئے عوام کی زندگی میں سکھ چین کا امکان دور دور تک موجود نہیں۔

مزید :

رائے -کالم -