وائس چانسلر گومل یونیورسٹی کی تما م شعبہ جات کے بجلی نظام کو سولرائزیشن کرنیکی ہدایت

وائس چانسلر گومل یونیورسٹی کی تما م شعبہ جات کے بجلی نظام کو سولرائزیشن ...

  

       ڈیر ہ اسماعیل خان(بیورو رپورٹ)وائس چانسلر گومل یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر افتخار احمد کا یونیورسٹی کے مالی خسارے کو کم کرنے اور یونیورسٹی کو اپنے پاؤں پر کھڑاکرنے کیلئے ایک اور بہترین اقدام، ایس ڈی او الیکٹریکل فصیح اللہ کو اگلے ماہ تک یونیورسٹی کے تمام کیمپس کے شعبہ جات کے بجلی نظام کو سولرلائزیشن کرنے کی ہدایت۔ تفصیلات کے مطابق وائس چانسلر گومل یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر افتخار احمد نے یونیورسٹی کے ایس ڈی او الیکٹریکل فصیح اللہ کو ہدایت دی کہ گومل یونیورسٹی کا ماہانہ بجلی کا بل ایک کروڑ کے قریب آتا ہے جو کہ سالانہ 12کروڑ کے قریب بن جاتا ہے لہذا فوری طور پر گومل یونیورسٹی کے تمام شعبہ جات کو سولر سسٹم پر منتقل کرکے اس بل کو صفر پر لایا جائے جس سے ایک طرف لوڈشیڈنگ کے مسئلہ سے چھٹکارا ملے گااور دوسری جانب سب سے اہم گومل یونیورسٹی کامالی خسارہ کم ہوگا انہوں نے مزید کہا کہ یونیورسٹی کو سولر سسٹم پر منتقل کرنے کیلئے پہلے مرحلے میں وائس چانسلر سیکرٹریٹ اوراسکے ساتھ منسلک ایک اور بلڈنگ (سروس بلاک)کو سولر سسٹم پر منتقل کیا گیا جس میں ہم کامیاب ہوئے اوران دونوں بلڈنگ کا بل جو گزشتہ ماہ تقریبا 3لاکھ روپے کے قریب آیا تھا اس ماہ ان دونوں بلڈنگ کا بجلی بل صرف260روپے تک آیا۔ لہذا اگلے ماہ تک پوری یونیورسٹی کو فوری طور پر سولر سسٹم پر منتقل کرکے یونیورسٹی کے بجلی بل کو صفر کیا جائے۔ وائس چانسلر ڈاکٹر افتخار حمد نے مزید کہا کہ اگر گومل یونیورسٹی کی طرح ملک کی دیگر یونیورسٹیاں بھی شمسی توائی کی طرف چلی جائیں تو قومی خزانے کا سالانہ تقریبا20بلین بچا کر یونیورسٹیوں اور خصوصا ملک کو فائدہ پہنچایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ گومل یونیورسٹی جس طرح تعلیمی، تحقیقی میدان میں کامیابی کی طرف گامزن ہے اسی طرح مالی خسارے کو کم کرنے کیلئے بھی اقدامات تیزی سے جاری ہیں اور یہی وجہ ہے کہ گومل یونیورسٹی میں نئی فیکلٹی الائیڈ ہیلتھ سائنسز سمیت دیگر شعبہ جات شروع کئے جا چکے ہیں اور مزید شعبہ جات کو کھولنے کے حوالے سے بھی کام تیزی سے جاری ہے۔ انہوں نے مزید کہاکہ گومل یونیورسٹی کو خسارے سے نکالنے کیلئے ہر وہ مثبت اقدامات کرینگے جو یونیورسٹی کی بہتری، ترقی اور خوشحالی کیلئے ہوں اور یہی میری ترجیحات ہیں اور رہیں گی اور انشا اللہ جلد ہی گومل یونیورسٹی اپنے پاؤں پر کھڑی ہو جائے گی۔ 

مزید :

پشاورصفحہ آخر -