جماعت اسلامی نے سود کیخلاف ایک طویل عرصہ جنگ لڑی،جواد نقوی

 جماعت اسلامی نے سود کیخلاف ایک طویل عرصہ جنگ لڑی،جواد نقوی

  

کاہنہ(نامہ نگار)تحریکِ بیداریِ اْمتِ مصطفیٰ، جامعہ عروۃ الوثقیٰ اور مجمع المدارس تعلیم الکتاب والحکمہ کے سربراہ علامہ سید جواد نقوی نے علماؤ مشائخ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جماعت اسلامی نے سود کیخلاف ایک طویل عرصہ جنگ لڑی ہے اور اب انہیں اس مقصد میں کامیابی ملی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سراج الحق لائق تحسین ہیں، جنہوں نے جماعت اسلامی کو اْمت اسلامی کا پلیٹ فارم بنایا ہے، مقصد کے حوالے سے بھی شرح صدر کا مظاہرہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ یہ لبرل، سیکولر اور بے دین نظام ہے، اس نظام سے ہم سود کے خاتمے کا مطالبہ کرنے جا رہے ہیں، ہم اتنے کمزور نہیں، اگر تمام مسالک کے علماء مشترکہ موقف اپنائیں تو ہم اپنے اہداف حاصل کر سکتے ہیں۔

 علامہ جواد نقوی کا کہنا تھا کہ سود کے خاتمے کیساتھ ساتھ موجودہ نظام سے بھی جان چھڑوانا ہوگی، ہم نظام مصطفیٰ(ص) کی بات تو کرتے ہیں، اس کیلئے کوشش نہیں کرتے، یہاں مذہب کو ہمیشہ اپنے مفادات کیلئے ہی استعمال کیا گیا ہے، ہماری اسٹیبلشمنٹ کو بھی جب ضرور پڑتی ہے تو وہ بھی مذہب کا سہارا لیتی ہے، سویلین بھی مذہب کا سہارا لیتے ہیں، اپنی سیاست کو مذہب کا ٹچ دے کر مفادات حاصل کئے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی اس پلیٹ فارم سے استفادہ کرے، صرف سود کی بات نہ کی جائے بلکہ اس نظام سے نجات کی بھی بات کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ یہ حکمران ہمارے حکمران نہیں بلکہ ہم پر مسلط عذاب ہیں، سرمایہ داری نظام کی بنیاد ہی سود پر ہے، سرمایہ داری نظام کو ختم کریں گے تو سود خودبخود ختم ہو جائے گا۔ علامہ جواد نقوی کا کہنا تھا کہ سرمایہ داری نظام کی روح سود ہے، ہم کیسے ججز، سیاستدانوں سے توقع کرتے ہیں کہ وہ سود کیخلاف فیصلہ دیں گے، وہ خود اس نظام کا حصہ ہیں، وہ کیسے اس نظام کیخلاف فیصلہ دے سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سراج الحق نے اپنے خطاب میں انقلابِ اسلامی کی بات کی، آج ان میں مولانا مودودی کی روح نظر آئی، یقیناً پاکستان کو انقلاب اسلامی کی ضرورت ہے، جماعت اسلامی، اسلامی نظام کیلئے قدم بڑھائے، پوری اْمت ان کیساتھ ہے۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کو اسلامی سیاست کی مادر جماعت کہا جاتا ہے، جماعت اسلامی مادر ہونے کا ثبوت دے اور عملی طور پر میدان میں نکلے، تمام علماء ہر حوالے سے ساتھ دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کے پاس افرادی قوت بھی ہے، اور مولانا مودودی کی فکر بھی یہی تھی کہ وہ پاکستان میں اسلامی انقلاب کے خواہاں تھے، وہ اس نظام سے جان چھڑوانا چاہتے تھے، جماعت اسلامی آج قدم بڑھائے پوری امت ان کیساتھ کھڑی ہوگی۔

مزید :

میٹروپولیٹن 4 -