ریاستی نظام بری طرح بدنام اور ناکام ہوگیا،تنویر احمد خان

 ریاستی نظام بری طرح بدنام اور ناکام ہوگیا،تنویر احمد خان

  

  لاہو(پ ر) انٹرنیشنل ہیومن رائٹس موومنٹ کے مرکزی سیکرٹری جنرل تنویراحمدخان نے کہا ہے کہ ریاستی نظام بری طرح بدنام اور ناکام ہوگیا،بدلناہوگا۔ پارلیمانی جمہوریت کے نقصانات دیکھنے بلکہ جھیلنے کے بعد صدارتی طرز حکومت کوآزمانے میں کوئی قباحت نہیں۔سیاستدانوں نے ریاست کمزور جبکہ سیاست کورسوا کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔سیاستدانوں کی اپنے معاملات منتخب ایوانوں میں حل کرنے میں ناکامی افسوسناک ہے،سیاسی امورکیلئے عدلیہ کادروازہ کھٹکھٹانا اورپھر اداروں پرانگلیاں اٹھانا کہاں کی جمہوریت ہے  اپنے ایک بیان تنویراحمدخان نے مزید کہا کہ ملک میں رائج انتخابی نظام سیاسی ابتری کی روٹ کاز ہے۔پاکستان کی طرح جہاں آئین وقانون کی حاکمیت نہ ہووہاں ہرطاقتوردھونس جماتا اوردوسروں کاحق چھینتاہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں اہل اورسنجیدہ قیادت کی قلت نے عوام کوذلت کے سواکچھ نہیں دیا۔ ہمارے ملک میں پچھلی چاردہائیوں سے الیکشن کی آڑ میں سلیکشن ہوتی آئی ہے اوراس جمہوریت نے جمہور کوجنازوں کے سوا کچھ نہیں دیا۔عام آدمی انتخابات میں امیدوارکی حیثیت سے کھڑے ہونے کاتصور بھی نہیں کرسکتا۔ انہوں نے کہا کہ سرمایہ داراشرافیہ کو ووٹرز کے ضمیر کی قیمت لگانااوردوسروں کامینڈیٹ چوری کرناخوب آتا ہے،بدقسمتی سے اب تو سینیٹرز کیلئے بولیاں لگائی جا تی ہیں۔اس نام نہادانتخابی نظام نے قومی سیاست کوبنجر اوربانجھ بنادیا ہے۔ایک سازش کے تحت مخلص،دیانتدار،باکرداراورباضمیرسیاسی قیادت کوابھرنے نہیں دیا جارہا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں پرائمری ٹیچراور چوکیدار کیلئے بھی سخت میرٹ ہے لیکن ارکان اسمبلی اوراہم ترین وزارتوں کیلئے کوئی معیار نہیں۔اسمبلیوں سمیت ہرشعبہ میں جعلی ڈگریوں والے اہم عہدوں پربراجمان ہیں۔انہوں نے کہا کہ دوہری شہریت نہیں بلکہ دوہرے معیاراور بری شہرت والے پاکستان کے وقار اورمستقبل کیلئے خطرہ ہیں،اوورسیزپاکستانیوں کوووٹ کاحق دیاجائے۔جس ملک میں اہم ترین وزارتوں اورسرکاری عہدوں کی باگ ڈور بری شہرت اوردوہرے معیار والے نام نہادشرفاء کے ہاتھوں میں ہووہاں محض دوہری شہریت کی بنیاد پرکسی محب وطن کوانتخابی سیاست سے آؤٹ کر ناناقابل فہم ہے۔انہوں نے کہا کہ اگرامریکہ اوربرطانیہ میں دوہری شہریت والے اوورسیزپاکستانیوں کو منتخب ہونے کاحق ہے توانہیں اپنے ملک میں یہ حق کیوں نہیں ملتا۔

مزید :

میٹروپولیٹن 4 -