انوویشن ہب کا قیام، قومی پالیسیوں میں سٹیک ہولڈرز کی رائے شامل ہو گی: شہباز شریف، آرمی چیف کی ملاقات، ملکی سکیورٹی سمیت اہم امور پر تبادلہ خیال 

انوویشن ہب کا قیام، قومی پالیسیوں میں سٹیک ہولڈرز کی رائے شامل ہو گی: شہباز ...

  

        اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) وزیراعظم شہباز شریف نے کہا  ہے کہ ملکی تاریخ میں  پہلی مرتبہ قومی پالیسیوں میں عوامی شمولیت کیلئے انوویشن ہب کا قیام عمل میں لایا گیا ہے،  پالیسی بنانے کے عمل میں تمام اسٹیک ہولڈرز کی رائے  کو اہمیت ملے گی،انوویشن ہب کا قیام پالیسی سازی اور ملکی عوامی ضروریا ت ہم آہنگی بنانے میں کردار ادا کرے گا، انوویشن ہب کو ذاتی طور پر پروموٹ کروں گا۔جمعہ کو اسلام آباد میں قومی پالیسیوں میں عوامی شمولیت      ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ قومی پالیسیوں میں عوامی شمولیت کیلئے انوویشن ہب کا قیام عمل میں لایا گیا ہے،وزیراعظم  نے کہا  پالیسی بنانے کے عمل میں تمام اسٹیک ہولڈرز کی رائے نو اہمیت ملے گی،باصلاحیت نوجوان افرادی قوت کے کردار کو اہمیت دینے کیلئے ہب کا قیام عمل میں لایا گیا،انوویشن ہب کا قیام پالیسی سازی اور ملکی عوامی ضروریا ت ہم آہنگی بنانے میں کردار ادا کرے گا۔وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ انوویشن ہب کو ذاتی طور پر پروموٹ کروں گاجدید دور سے ہم آہنگ ہونے کیلئے تمام ضروری اقدامات کئے جارہے ہیں،نوجوانوں کو قابل بنانے کیلئے ہماری کوششیں جاری ہیں۔انہوں نے کہاکہ جدید علوم عہد حاضر کی اہم ضرورت ہے،تعلیم، تحقیق اورت مباحثے سے قومیں آگے بڑھتی ہیں۔اس موقع پر وزیراعظم کے اسٹریٹیجک ریفارمز کے سربراہ سلمان صوفی نے کہا کہ ملک میں پہلی بار ہوگا کہ عوام کے آئیڈیاز کو نیشنل پالیسی کا حصہ بنایا جائے گا،شرکاء کی جانب سے کہا گیا کہ ہمارے تعلیم نصاب میں ٹیکنالوجی سے متعلق سبجیکٹ کو شامل کرنا چاہیے،وفاقی حکومت کو بچوں کی تعلیم اور صحت پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے جواباً کہا کہ ہمارے نوجوان ملک کا مستقبل ہیں،نوجوان ہی ہمارے ملک کو آگے لے کرجائیں گے،ہم نوجوانوں کے آئیڈیاز اورسوچ سے فائدہ حاصل کریں گے،ہمیں ملک کو ہر لحاظ سے آگے لے کرچلنا ہے،یہ بہت اہم مرحلہ ہے اس پر بھرپور توجہ سے کام کریں گے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ سابق حکومت نے بجلی کے پلانٹس کی مرمت کا کام نہیں کیا، لوڈشیڈنگ پر قابو پانا ہماری ذمہ داری ہے اور اس کے لیے سر توڑ کوششیں کررہے ہیں وزیر اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت توانائی کے حوالے سے اجلاس ہوا جس میں لوڈ شیڈنگ کم نہ ہونے پر وزیر اعظم حکام پر برس پڑے۔اجلاس تین گھنٹے تک جاری رہا، اجلاس میں وزیراعظم کو لوڈشیڈنگ کے حوالے سے رپورٹ پیش کی گئی، وزیراعظم نے رپورٹ کاغذی کارروائی قرار دے کر مسترد کر دی اور حکام کی سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ عملی کام کیا ہے تو بتائیں، باتیں مت کریں یہ کاغذ سامنے رکھ کر باتیں نہ کریں۔لوڈشیڈنگ کا دورانیہ کم ہوا یا نہیں وزیراعظم کے سوال پر توانائی کے حکام موثر جواب نہ دے سکے، وزیراعظم لوڈشیڈنگ اجلاس میں غصے سے دو دفعہ اٹھ کر باہر چلے گئے۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ عالمی مارکیٹ میں تیل اور گیس کی قیمتیں بلند ترین سطح پر ہیں، سابق حکومت نے سستی گیس خریدنے کا موقع گنوا دیا اور ہم نے مہنگی گیس خریدنے سے گریز کیا جبکہ قطر کے ساتھ کیے گئے معاہدے پرسابق حکومت نے الزامات لگائے۔شہباز شریف نے مزید کہا کہ ملک میں جاری لوڈشیڈنگ پر قابو پانے کے خاطر خواہ نتائج سامنے آئے ہیں، عوام کی مشکلات کا احساس ہے اور جلد حالات پرقابو پالیں گے۔وزیراعظم شہباز شریف سے ا?رمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے ملاقات کی جس کے دوران ملکی سکیورٹی صورتحال سمیت اہم امور پر بات چیت کی گئی۔تفصیلات کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے ا?رمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو سعودی ایوارڈ ملنے پر مبارک باد پیش کی۔ اس دوران پاک فوج کے پیشہ ورانہ امور پر بات چیت کی گئی۔دونوں رہنماوں نے خطے کی تازہ ترین صورتحال کے تحت ملکی سکیورٹی، معاشی معاملات اور چینی وفد کے حالیہ دورہ پاکستان کے تناظر میں سی پیک کے حفاظتی انتظامات سمیت امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔  وزیرِ اعظم شہباز شریف نے اورنج لائن میٹرو بس (فیض احمد فیض ٹرمینل H-9 تا ائیر پورٹ) کے اطراف لینڈ اسکیپنگ مکمل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ میٹرو بس کے کرایوں کو کم کرکے عوام کی سہولت کیلئے ایک مربوط نظام قائم کیا جائے،منصوبے میں شفاف طریقے سے بِڈنگ (Bidding) یقینی بنائی جائے۔ جمعہ کو وزیر اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اسلام آباد میٹرو (اورنج لائن، بلیو لائن، گرین لائن) پر پیش رفت اور اسلام آباد میں جاری ترقیاتی منصوبوں پر جائزہ اجلاس ہوا جس میں وزیرِ داخلہ رانا ثناء اللہ، وزیرِ اعظم کے مشیر احد چیمہ، طارق فضل چوہدری، حنیف عباسی، انجم عقیل خان، چیئرمین سی ڈی اے اور متعلقہ اعلی حکام نے شرکت کی۔اجلاس کو بتایا گیا کی 29 کلومیٹر طویل اورنج لائن میٹرو بس سروس کو این ایچ اے اسٹیشن کی بجائے فیض احمد فیض اسٹیشن سے جوڑ دیا گیا ہے جس سے مسافروں کی رش کے اوقات میں تعداد بڑھ کر دو سے تین ہزار اور یومیہ اوسط 18 ہزار تک پہنچ گئی ہے۔اجلاس کو بتایا گیا کہ 20 کلومیٹر طویل بلیو لائن میٹرو بس سروس (کورال تا پمز اسپتال) بھی افتتاح کیلئے تیار ہے. 13 اسٹیشنز پر مشتمل یہ روٹ اسلام آباد ایکپریس وے کے اطراف میں مسافروں کی بڑی تعداد کو معیاری اور کم قیمت سفری سہولیات فراہم کریگا۔اجلاس کو 15.5 کلومیٹر طویل گرین لائن میٹرو بس سروس کے حوالے سے بتایا گیا کہ بارہ کہو تا پمز ہسپتال میٹرو بس بارہ کہو سے آنے والے مسافروں اور اسلام آباد سے مری جانے والے سیاحوں کو سہولت فراہم کریگی اسکے علاوہ ائیرپورٹ سے اورنج لائن کے ذریعے آنے والے سیاہ بھی مری کیلئے ترانسپورٹ تک پہنچنے کیلئے اس سہولت سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔اجلاس کو بارہ کہو بائی پاس منصوبے پر پیش رفت سے بھی آگاہ کیا گیا،وزیر اعظم نے منصوبے کی تعمیر کے دوران جنگلات کے تحفظ اور منصوبے میں شفافیت کو یقینی بنانے کی ہدایات جاری کیں۔اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ راول چوک فلائی اوور وزیرِ اعظم کی خصوصی ہدایت ہر 31 جولائی تک مکمل کر لیا جائیگا جبکہ اسلام آباد ایکسپریس وے کی بحالی اور اسے وسیع کرنے کے منصوبے کا آغاز بھی جلد کر لیا جائے گا۔وزیر اعظم نے منصوبوں کو معینہ مدت میں مکمل کرنے کی ہدایات جاری کیں۔پاکستان میں امریکی سفیر ڈونلڈ بلوم نے پاکستان کے ساتھ دو طرفہ تعاون کو مضبوط اور مستحکم کرنے کرنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے جبکہ وزیر اعظم شہباز شریف نے اس بات پر زور دیا ہے کہ پاکستان اور امریکا کے درمیان تعاون سے افغانستان میں امن و استحکام کو فروغ ملے گا اور زلزلے سے متاثرہ ملک میں انسانی بحران کو روکنے میں مدد ملے گی۔جمعہ کو وزیراعظم شہباز شریف سے امریکی سفیر ڈونلڈ بلوم نے ملاقات کی، ملاقات کے دوران باہمی دلچسپی کے امور اور دوطرفہ تعلقات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات کے دوران وزیراعظم نے امریکی سفیر کو اسناد پیش کرنے پر مبارکباد پیش کی جبکہ ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مزید فروغ دینے کا عزم کا اعادہ کیا گیا۔وزیراعظم شہباز شریف نے باہمی احترام، اعتماد اور مفاد کی بنیاد پر تعلقات کو مزید فروغ دینے کی پاکستان کی خواہش پر زور دیا۔شہباز شریف نے کہا کہ امید ہے ڈونلڈ بلوم دو طرفہ تعلقات کو مزید گہرا کرنے کی کوشش کرینگے، رواں سال پاک امریکا تعلقات کی 75ویں سالگرہ ہے، دونوں ممالک اس تاریخی موقع کو بھرپور طریقے سے منائیں گے،جس سے دوطرفہ اور عوام کے درمیان تعلقات مزید گہرے ہوں گے۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان میں معاشی اور آبادیاتی صلاحیت بہت زیادہ ہے اور امریکی کمپنیوں کو پاکستان کی بڑی مارکیٹ میں سرمایہ کاری کرنی چاہیے۔انہوں نے تجارت اور سرمایہ کاری کے فریم ورک معاہدے کی وزارتی میٹنگ اس سال کے آخر میں منعقد کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اور امریکا کے درمیان مختلف ڈائیلاگ تجارت، سرمایہ کاری، آئی ٹی، موسمیاتی تبدیلی، توانائی، صحت اور صحت کے شعبوں میں ہمارے دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔شہباز شریف نے دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ سطح پر مزید تبادلوں کی ضرورت پر بھی زور دیا۔وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان اور امریکا کے درمیان تعاون سے افغانستان میں امن و استحکام کو فروغ ملے گا اور زلزلے سے متاثرہ ملک میں انسانی بحران کو روکنے میں مدد ملے گی۔ملاقات کے دوران شہباز شریف نے بی جے پی کے دو عہدیداروں کی جانب سے ہمارے نبی  ؐ کی ہستی کے بارے میں توہین آمیز ریمارکس کی مذمت کرتے ہوئے کہاگیا کہ اس سے مسلمانوں کے جذبات کو شدید ٹھیس پہنچی ہے۔وزیراعظم نے بھی زور دیتے ہوئے کہا کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا مرتکب ہو رہا ہے۔خطے میں امن کے فروغ کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے انہوں نے جموں و کشمیر کے تنازعہ کے پرامن حل کی اہمیت پر زور دیا۔شہباز شریف نے عالمی برادری پر زور دیتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی اخلاقی اور معیاری ذمہ داریوں کو پورا کرے، بھارت سے اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل کرنے کا بھی مطالبہ کرتے ہیں۔وزیر اعظم نے سفیر کو اسناد پیش کرنے پر مبارکباد دی اور امید کا اظہار کیا کہ سفیر پاکستان اور امریکا کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مزید گہرا کرنے اور بڑھانے کے لیے اپنا کردار اد اکرینگے۔سفیر بلوم نے وزیر اعظم کا استقبال کرنے پر شکریہ ادا کیا اور پاکستان امریکہ تعلقات کو مزید مضبوط اور مستحکم کرنے کے لیے امریکہ کے عزم کا اعادہ کیا۔انہوں نے افغانستان سے انخلاء  میں سہولت فراہم کرنے میں پاکستان کی فوری اور موثر مدد پر بھی شکریہ ادا کیا۔

شہباز شریف

مزید :

صفحہ اول -