بحران عوامی خدمت سے نہیں روک سکتے، ضمنی الیکشن جیتنے والے کو قائد ایوان منتخب ہو نا چاہیے: حمزہ شہباز

        بحران عوامی خدمت سے نہیں روک سکتے، ضمنی الیکشن جیتنے والے کو قائد ...

  

       لاہور(جنرل رپورٹر) وزیراعلیٰ پنجاب میاں محمد حمزہ شہباز نے کہا ہے کہ عدالت نے کہا ضمنی الیکشن کے بعد 22 جولائی کو دوبارہ الیکشن ہو گا، 17 جولائی کو جس کے حق میں فیصلہ ہو اس کو قائد ایوان منتخب ہونا چاہیے، آئینی بحران کے باوجود عوامی منصوبوں سے کوئی نہ روک سکے گا۔پہلے عدالت عالیہ کا فیصلہ آیا آج چیف جسٹس خود بیٹھے رہے،ان کے اپنے وکلا، پارلیمانی لیڈر نے جو موقف دیا بائیس جولائی کو انتخاب ہوگا جو بھی رزلٹ آئے گا قبول کریں گے،اللہ سے ڈر کر کہتاہوں پنجاب کی عوام نوازشریف اور شہبازشریف پر اعتماد کااظہار کریں گے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد پنجاب اسمبلی کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔حمزہ شہبازشریف نے کہا کہ صوبہ پنجاب کئی ماہ سے آئینی بحران کا شکار ہے،کبھی الیکشن ملتوی تو کبھی حلف کا معاملہ التوا، کبھی گورنر آ رہا تو کبھی وہ سمری کو مسترد کررہے ہیں،پنجاب میں جتنے آئینی بحران تین ماہ میں آئے تو گینز ورک آف ریکارڈ میں آ جائیں،کابینہ نہ ہونے کے باوجود گندم کسانوں سے بائیس سو روپے من خریدی جو ساڑھے پانچ من بین الاقوامی سطح پر ہے۔دس کلو آٹے پر دو سو ارب روپے کی سبسڈی دی۔ پہلی جولائی ہے پنجاب کے تمام اضلاع ٹی ایچ کیو اور چودہ ہسپتال میں مفت ادویات ملنے جارہی ہیں،نہیں کہا تین ماہ دیدو،دودھ کی نہریں بہا دوں گا چھ مہینے دیدو۔سپریم کورٹ میں پرویز الٰہی اور پی ٹی آئی کا موقف الگ تھا، جمہوری انسان ہوں ستائیس سال جدوجہد کی،عدالت عظمی کو بتایا کہ اگر میرے پاس نمبر نہ ہوتے تو سامنے پیش نہ ہوتا گھر چلا جاتا،ابھی الیکشن کروائیں جو ایوان فیصلہ کرے گا،دل سے قبول کروں گا،عمران خان ایک طرف آئی ایم ایف سے وعدے کررہا تھا دوسرا کہہ رہا تھا کہ عوام کو سستا پیٹرول دوں گا،دل پر پتھر رکھ کر حکومت بچانے کیلئے نہیں پاکستان کو ڈیفالٹ کو بچانے کیلئے سخت فیصلے کیے، سیاسی بوجھ جو (ن)لیگ نے اٹھایا ہے عوام کو معلوم ہے جب بجلی کے اندھیرے آئے تو ایٹمی قوت کے بعد بجلی کی لوڈ شیڈنگ ختم کی، میڈیا پر پابندیاں پنجاب اسمبلی سے اٹھائیں گے،گرانٹ اس ماہ صحافیوں کو دیں گے،عسکری ادارے کے سربراہ کے خلاف زہر اگلا گیا،نیازی کا سازشی جال پول کھل گیا۔فرح گوگی توشہ خانہ چوریاں چھپانے کا پروگرام تھا، اس کا دل اس وقت نہ کانپا کہ اگر حکومت نہ رہی تو ایٹمی قوت بھی نہ رہے گی،سترہ جولائی کا دن دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوگا ن لیگ سترہ جولائی کو جیتے گی۔مشکل وقت ہے دل پر پتھر کر فیصلے کررہ سخت فیصلے کے بعد عوام کیلئے آسانیاں آئیں گی، عدالت عظمی میں کہا آپ کا وقت قیمتی ہے جس طرح ڈپٹی سپیکر پر جان لیوا حملہ کیاگیا کون شاباشی کے اشارے کرتا رہا،ہم انتقام نہیں لیں گے قانون اپنا راستہ ضرور لے گا۔

حمزہ شہباز

مزید :

صفحہ اول -