بجلی بلوں میں ”کرنٹ“ تیل مزید مہنگا، لوگوں کو قسطوں میں مارنے کا پلان تیار 

  بجلی بلوں میں ”کرنٹ“ تیل مزید مہنگا، لوگوں کو قسطوں میں مارنے کا پلان ...

  

ملتان،کبیروالا، راجن پور، کوٹ ادو(نیوز رپورٹر،نامہ نگار، ڈسٹرکٹ رپورٹر، تحصیل رپورٹر) بجلی کے بھاری بھرکم (بقیہ نمبر14صفحہ6پر)

بلوں نے غریب عوام کی چیخیں نکلوادیں،پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافے نے شہریوں کے ہوش اڑا دئیے،حکومت بجلی اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بار بار اضافہ کرکے عوام کو ”قسطوں“ میں مارنے کی بجائے ایک بار ہی ”اٹیم بم“ گرا کر مار دئیے،آنیوالا ہر دن عوام کی معاشی اور مالی مشکلات میں اضافہ کا باعث بن رہا ہے،ہوشر با مہنگائی کے ساتھ ساتھ کاروباری مندے اور بے روزگاری کا سامنا کرنا پڑرہا ہے،ان خیالات کا اظہار مختلف شعبہ ہائے زندگی کی نمائندہ شخصیات چوہدری محمد اسلم شاہد،ملک الطاف حسین،راؤ احتشام الحق ایڈووکیٹ،ملک فاروق احمد،حاجی مہر لیاقت علی جوتہ،صداقت حسین بھٹی،مطیع الرحمان خان نیازی،شہباز مسیح،مرزا فقیر حسین،چوہدری محمد قاسم ارائیں،شاہد رفیق خان پنیاں،چوہدری رفیع احمد بندیشہ،راؤ آصف علی سعیدی اور محمد اسلم رفیق نے پٹرولیم مصنوعات میں مسلسل اضافے اوربجلی کے حالیہ بھیجوائے گئے بھاری بھرکم بلز کے خلاف اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے ایک طرف عوام پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ کرنے کی صورت میں ”مہنگائی بم“ گرانے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے اور دوسری جانب سے شدید لوڈشیڈنگ کے باوجود بجلی کے بھاری بھرکم بلز بھیجوا دئیے ہیں،محدود اور کم آمدنی والوں کو ان کی ماہانہ آمد ن سے بھی کئی گنا زائد بھیجوا ئے گئے ہیں،ایسے حالات میں جب دو وقت کی روٹی کمانا مشکل ہوچکا ہے،اتنے بھاری بھر کم بلز کیسے ادا کئے جاسکتے ہیں،حکومت سے مطالبہ ہے کہ وہ عوام پر رحم کھاتے ہوئے ان کیلئے مزیدمشکلات کی بجائے آسانیاں پیدا کریں۔ دریں اثناء شہریوں نے کہا کہ  غریب عوام  کس سے فریاد اور کس سے ریلیف مانگیں۔پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ سے مہنگائی میں اضافہ ہو گا، ضروریات زندگی کی ہر شیے مہنگی سے مہنگی ہوتی جا رہی ہے حکومت ہوش کے ناخن لے، غریب تو پس چکا اب مڈل کلاس طبقہ کو ختم کرنے کی عالمی سازش پر من وعن عمل جاری ہے سرکاری و نجی ملازمین کا گذارہ مشکل ہو چکا، قیمتوں میں اضافہ واپس لیا جائے یہ باتیں راجن پور کی عوامی سماجی شخصیات اور ملازمین نے روزنامہ "پاکستان" سروے کے دوران کہیں سماجی شخصیات چوہدری عبدالمجید، عبدالرشید خان، تنویر احمد کا کہنا تھا کہ پٹرولیم مصنوعات کی بار بار قیمتوں میں اضافہ سے مہنگائی میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے اب تو اشیا خورد و نوش خریدنے کی استطاعت نہیں، حکومت نے غریب عوام کو پہلے ہی ختم کر دیا اب مڈل کلاس طبقہ کو بھی ختم کر رہی ہے کسان راہنماں سردار جلب خان گبول، راو افسر علی، رحمت اللہ خان شلوانی کا کہنا تھا کہ کھاد کے بحران کے بعد اب کسانوں کے لیے ڈیزل کی بڑھتی قیمتیں سنگین مسئلہ بنتی جارہی ہیں نہروں میں پانی نہیں، اب فصلات بچانے کے لیے ڈیزل سے بور چلا کر پانی فراہم کرنا ناممکن ہو چکا نتیجتا امسال فصلات کا ہدف ناممکن اور کسان معاشی طور پر بدحال ہوں گے۔حکومت نے 33روزمیں چوتھی مرتبہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کردیا ہے جس سے ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ پیٹرول کی قیمت 250روپے تک جا پہنچی، نئے اضافے سے ملک میں شدید مہنگائی کی نئی لہر آنے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے،شہریوں نے حکومت کی طرف سے اس اضافہ پر شدید تنقید کرتے ہوئے اسے'' پیٹرول بم'' قرار دیا ہے،شہریوں نے کہا کہ حکومت نے ایک ماہ میں پٹرول کی قیمت 4مرتبہ اضافہ غریب عوام کو زندہ درگورکرنے کے مترادف ہے،حکومت نے27 مئی  کو30 روپے،3جون کو 30 روپے، 15جون کو 24 رویے اور30 جون کو 14 روپیمجموعی طور پر 33 دنوں میں 98 رویے اضافہ  کردیا،پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر اضافہ موجودہ حکومت کی جانب سے غریب کے ڈیتھ وارنٹ پر دستخط کے مترادف ہے۔

مزید :

ملتان صفحہ آخر -