سٹاکسٹ اور ریٹیلرز کے پاس وافر چینی کا سٹاک موجود، شوگر ملز ایسوسی ایشن

سٹاکسٹ اور ریٹیلرز کے پاس وافر چینی کا سٹاک موجود، شوگر ملز ایسوسی ایشن

  

 بہاولپور(بیورو رپورٹ)پاکستان شوگر ملز ایسوایشن کے ترجمان نے(بقیہ نمبر28صفحہ6پر)

 منسٹری آف کامرس کے اس بیان کی سختی سے تردید کی ہے جس میں یہ کہا گیا ہے کہ ملک میں صرف 4 لاکھ ٹن سرپلس چینی کے ذخائر موجود ہیں جبکہ منسٹری آف انڈسٹریز اور کامرس کے ڈیٹا سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ملک میں اس وقت 2 ملین ٹن اضافی چینی کے ذخائر ہیں ترجمان نے کہا کہ شوگر ایڈوائزری بورڈ کی گزشتہ میٹنگ کے مطابق پچھلے کرشنگ سیزن کے دوران 7.8 ملین ٹن چینی بنائی گئی۔ چقندر سے بنائی گئی چینی بھی سرپلس چینی کے ذخائر میں شامل ہے جس کے بعد چینی کے کُل ذخائر سیزن کے اختتام تک 8.1 ملین ٹن تک پہنچ گئے تھے۔ اگر چینی کی ماہانہ کھپت 5 لاکھ ٹن کے حساب سے لگائی جائے تو یہ پورے سال کی 6.1 ملین ٹن بنتی ہے۔ ان اعدادوشمار کے حساب سے ملک میں اس وقت سرپلس چینی کے 2 ملین ٹن ذخائر موجود ہیں انھوں نے کہا کہ کامرس منسٹری کے اعدادوشمار رواں سیزن کی اوسطاََ کھپت کے حساب سے مرتب کیے گئے ہیں اور یہ شوگر ملوں کے پاس موجود آخری سٹاک کے حوالے سے ہیں جبکہ اسٹاکسٹ اور ریٹیلرز کے پاس وافر چینی کا سٹاک موجود ہے۔ کامرس منسٹری کے اعدادوشمار زمینی حقائق سے بالکل مختلف ہیں۔ ترجمان نے کہا کہ شوگر ایڈوائزری بورڈ کی 14 اپریل، 2022 کی میٹنگ میں کین کمشنر اور دیگر منسٹریز کے حکام نے بھی شوگر انڈسٹری کے بیان کردہ سرپلس چینی کے اعدادوشمارکی تصدیق کی تھی۔ اس کے علاوہ ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کی بدولت ایف۔بی۔آر کیپاس نہایت موئثر ڈیٹا  ہر وقت موجود ہوتا ہے۔ ترجمان نے کہا کہ سرپلس چینی کی برآمد میں مسلسل تاخیر سے پاکستان کو 2017  والی صورتحال میں دھکیلا جا رہاہے جب پاکستان کے پاس وافر چینی کا سٹاک موجود تھا اور تب بھی شوگر انڈسٹری مسلسل حکومت سے فاضل چینی کی برآمد کی اجازت مانگتی رہی کیونکہ بین الااقوامی قیمت بلندی کو چھو رہی تھی مگر فیصلہ سازی میں تاخیر کی وجہ سے بین الااقوامی قیمتیں نیچے گر گئیں اور حکومت کو فاضل چینی کو برآمد کرنے کیلئے اور چینی کی پیداواری لاگت کو پورا کرنے کیلئے سبسڈی دینی پڑی تھی۔ موجودہ حالات میں جب پاکستان کو غیرملکی زرِمبادلہ کی اشد ضرورت ہے تو 2 ملین ٹن فاضل چینی میں سے 1.5 ملین ٹن چینی برآمد کر کے  ملک کیلئے 1 بلین ڈالر کا بیش قیمت غیرملکی زرِمبادلہ کمایا جاسکتا ہے۔ برازیل اور بھارت بھی اپنی سرپلس چینی انٹرنیشنل مارکیٹ میں پھینکنے کا سوچ رہے ہیں جس کی وجہ سے چینی کی بین الااقوامی قیمت نیچے آ جائے گی، اس لیے حکومتِ پاکستان کو چاہیے کہ فوراََ سرپلس چینی کو برآمد کرنے کے حوالے سے اقدامات اُٹھائے انھوں نے کہا کہ اگلے کرشنگ سیزن میں گنے کی پیداوار میں 10 سے 15 فیصد اضافہ متوقع ہے جو کہ سرپلس چینی کے ذخائر کو 3 ملین ٹن تک لے جائے گا اور پچھلے سیزن کی 2 ملین ٹن اضافی چینی اس کے علاوہ ہے۔ اگر حکومت نے اکتوبر کے بعد فاضل چینی کی برآمد کا فیصلہ کیا تو تب انٹرنیشنل مارکیٹ بہت نیچے ہو گی اور پاکستان کی شوگر انڈسٹری کیلئے یہ صورتحال کسی بھی طرح سودمندثابت نہیں ہو گی اور شوگر ملوں کی جانب سے کسانوں کو ادائیگیاں مشکل ہو جائیں گی جس کا براہِ راست اثر کسان پر یہ پڑے گا کہ وہ گنے کو کاشت کرنا بند کر دے گا اور حکومت کو لاکھوں اور اربوں روپے کی چینی درآمد کرنی پڑے گی۔

مزید :

ملتان صفحہ آخر -