ہم پاور شیئرنگ کی بجائے مسائل کا بوجھ اٹھارہے ہیں، یوسف رضا گیلانی 

ہم پاور شیئرنگ کی بجائے مسائل کا بوجھ اٹھارہے ہیں، یوسف رضا گیلانی 

  

  ملتان (سٹی رپورٹر )سابق وزیراعظم و پاکستان پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما مخدوم  سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ عالمی مہنگائی کی وجہ سے ہم حکومت کے ساتھ پاور شیئرنگ کی بجائے مسائل کا بوجھ بھی اٹھا رہے ہیں عمران خان نے عالمی سطح پر ملک کو تنہا کیا جس کا خمیازہ پوری قوم کو بھگتنا پڑ رہا ہے عمران خان کے معاہدوں کو پورا نہ کرتے تو دنیا کا کوئی ملک بھی ہماری مدد نہ کرتااتحادی حکومت ملک میں سیاسی استحکام(بقیہ نمبر41صفحہ6پر)

 چاہتی ہے کیونکہ اس کے بغیر معاشی استحکام نہیں آ سکتا سندھ کے بلدیاتی انتخابات میں پیپلز پارٹی کو کامیابی پر مبارکباد پیش کرتا ہوں پنجاب سمیت دیگر صوبوں میں بھی بلدیاتی الیکشن ہونے چاہیئں جنوبی پنجاب صوبے کے لئے سینیٹ میں منظور شدہ بل موجود ہے لیکن ہمارے پاس دوتہائی اکثریت نہیں اکثریت میں آئیں گے تو صوبہ بنائیں گے پی پی 217سے ہمارا میدوار بھاری اکثریت سے کامیاب ہوگا آئندہ عام انتخابات کی تیاریوں کے لئے پارٹی کی بھی تنظیم نو کر رہے ہیں سابق وزیر خارجہ نے 2018کے الیکشن میں دھاندلی تسلیم کرکے ہمارے موقف کی تائید کی ہے ان خیالات کا اظہار اتنظیم سازی کا بھی آغاز کردیا ہے ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپنی رہائش گاہ پر میڈیا سے بات چیت کے دوران کیا اس موقع پر خواجہ رضوان عالم، خالد حنیف لودھی، ملک نسیم لابر، ایم سلیم راجہ، اے ڈی بلوچ، ارشد اقبال بھٹہ، سحرش خان، شگفتہ بلوچ، عابدہ بخاری، عاشق بھٹہ، چوہدری یسین، ضیا انصاری بھی موجود تھے سید یوسف رضا گیلانی نے مزید کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے آئین بنایا اور ہمیں آئین کی پاسداری کی ہم آئندہ الیکشن کے لئے پارٹی کی تنظیم نو کا کام کر رہے ہیں مہنگائی کے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ عمران خان کی حکومت نے سابقہ دور میں آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک سے جو معاہدے کئے ان پر عملدر آمد نہیں کیا بین الاقوامی معاہدوں پر عملدر آمد نہ کرنے کی وجہ سے پاکستان پر کئی قدغن لگ سکتی تھی اتحادی جماعتوں کے پاس ایک راستہ یہ تھا کہ ہم ملک کو گھمبیر حالات میں چھوڑ دیتے اور نگران حکومت آجاتی جو کوئی بھی بڑا فیصلہ نہ کرسکتی سابقہ حکومت نے کیونکہ ملک کو مشکل میں ڈال دیا تھا اس لئے ہمیں مشکل فیصلے کرنے پڑ رہے ہیں اگر اب بین الاقوامی معاہدوں پر عملدر آمد نہ کیا جائے تو ملک مذید مشکلات میں پھنس سکتا ہے کیونکہ بین الاقوامی معاہدے ریاست کے ساتھ ہوتے ہیں پارٹیوں کے ساتھ نہیں عمران خان نے تین وزیرخزانہ تبدیل کئے جنہوں نے بین الاقوامی معاہدے کئے انہوں نے کہا کہ قابل زکر بات یہ ہے کہ اس وقت پوری دنیا خاص طور پر امریکہ، سعودی عرب، چین اور یورپی ممالک بھی مہنگائی کی لپیٹ میں ہیں عمران خان نے پاکستان کو آئیسولیشن میں ڈال کر تنہا کردیا تھا اسی لئے اب ملک کو بچانے کے لئے مشکل فیصلے کرنے پڑ رہے ہیں یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ جب میں وزیراعظم تھا تو میں نے ملک کو مشکل سے نکالنے کے لئے زراعت کی ترقی پر توجہ دی تھی جس سے ہماری فوڈ باسکٹ فل ہو گئی تھی عمران خان موجودہ مسائل کا حل الیکشن میں بتا رہے ہیں حالانکہ الیکشن مسائل کا حل نہیں ہے ملک کو بحران سے نکالنے کے لئے بین الاقوامی معاہدوں کے تحت جو مشکل فیصلے کئے ہیں ان کے مطابق قربانی دینی چاہیئے اور قوم اس وقت قربانی دے رہی ہے موجودہ حکومت چونکہ اتحادی حکومت ہے اس لئے ہم انشا اللہ سیاسی استحکام کے زریعے معاشی استحکام لائیں گے ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ عمران خان کو یہ بتا دیا گیا تھاکہ آپ کی حکومت جانے والی ہے اس لئے انہوں نے پٹرول کی قیمت دس روپے اور بجلی کی پانچ روپے قیمت کم کرکے سارا ملبہ آنے والی حکومت پر ڈال دیا موجودہ حکومت بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی نہیں کرسکتی پنجا ب کی موجودہ صورتحال کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہم عدلیہ کے فیصلوں کا احترام کرتے ہیں ہم نے جیلیں کاٹیں، پھانسیاں دیکھیں مگر عمران خان نے ابھی تک کچھ نہیں دیکھا عمران خان موجودہ حکومت کو کام کرنے کا موقع نہیں دے رہے لیکن موجودہ اتحادی حکومت متحد ہے اور ملک کا نظام چلانے اور عوام کو ریلیف دینے کے لئے اقدامات کر رہی ہے اس حوالے سے عمران خان کا پروپیگنڈہ درست نہیں ہے ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پنجاب میں بلدیاتی انتخابات ہونے چاہیئں کیونکہ یہ سیاست کی نرسری ہے میں اسی نرسری سے پروان چڑھ کر وزیراعظم کے عہدے تک پہنچا سندھ کے بلدیاتی انتخابات میں پیپلز پارٹی کو کامیابی ہوئی ہے میں پارٹی کو مبارکباد پیش کرتا ہوں ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پی پی 217میں انتخابی عمل جاری ہے اس انتخابی مہم کے دوران سابق وزیرخارجہ نے تسلیم کیا ہے کہ 2018کے الیکشن میں دھاندلی ہوئی اور یہ دھاندلی ان کے خلاف ان کی جماعت نے کی ہمارا موقف بھی یہی تھا کہ 2018کے الیکشن میں دھاندلی کی گئی سابق وزیرخارجہ نے ہمارے موقف کی تائیدکی ہے انہوں نے کہا کہ جنوبی پنجاب صوبہ بننا چاہیئے جس کے لئے ہم نے بل منظور کرایا یہ ہمارے منشور کا حصہ ہے اکثریت میں آئیں گے تو صوبہ بنائیں گے۔

مزید :

ملتان صفحہ آخر -