ریاض حسین پیرزادہ سے یونیسف نمائندے کی ملاقات، مختلف امورپر بات چیت

ریاض حسین پیرزادہ سے یونیسف نمائندے کی ملاقات، مختلف امورپر بات چیت

  

حاصل پور (نمائندہ پاکستان)وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق میاں ریاض حسین پیرزادہ نے  پاکستان میں یونیسیف کے ملکی سطح پر نمائندے  عبداللہ فدل سے ملاقات کی۔ دونوں فریقین نے بچوں کے حقوق کے تحفظ اور فروغ کے لئے اپنے ورکنگ تعاون کو مزید (بقیہ نمبر38صفحہ6پر)

بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا۔ حکومت پاکستان نے اقتصادی امور ڈویژن کے ذریعے پاکستان اور یونیسیف کے مابین ایک ملکی پروگرام 22۔2021 پر دستخط کئے ہیں۔ اس پروگرام کے تحت وزارت انسانی حقوق اور یونیسیف کے درمیان دو سالہ رولنگ ورک پلان (2021-22) طے کیا گیا ہے۔ اس ورک پلان کے اہداف آئی سی ٹی کی سطح پر بچوں کی حفاظت اور ان کے استحصال کی روک تھام ہے۔ جناب فدل نے بچوں کے حقوق کے ادراک کے لئے پاکستان کی کوششوں کا اعتراف کیا۔ انہوں نے جاری منصوبوں پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یونیسف بچوں کے حقوق کے تحفظ  اور حمایت کے لیے  وزارت انسانی حقوق کی ہر ممکن مدد کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کے حقوق کے تحفظ اور بچوں سے زیادتی کی روک تھام کے حوالے سے آگاہی پیدا کرنے کے لیے زیادہ سے زیادہ اسٹیک ہولڈرز اور سوشل موبلائزر کو شامل کرنے کی ضرورت ہے۔ وزیر برائے انسانی حقوق نے ملک میں ترقیاتی سرگرمیوں کے لئے مستقل حمایت، تعاون اور مدد پر یونیسیف کی ٹیم کے کردار کو سراہا اور شکریہ اداکیا۔ انہوں نے بچوں کے حقوق کے فروغ کے لئے حکومت کے عزم کا  حوالہ دیا۔. وزیر نے کہا کہ چائلڈ لیبر سروے جو یونیسیف کی مدد سے کیا جارہا ہے وہ بچوں کے مسائل کے بارے میں ڈیٹا حاصل کرنے میں بنیادی کردار ادا کرے گا جس کی وجہ سے پالیسی کی تشکیل بہتر ہو سکے گی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ وزارت انسانی حقوق دارالحکومت کو چائلڈ فرینڈلی سٹی بنانے کے ایجنڈے کے پر کام کر رہی ہے جو دیگر صوبائی حکومتوں کے لئے ایک ماڈل کا کام کرے گا اور اس مقصد کے لئے چائلڈ پروٹیکشن انسٹی ٹیوٹ اور قومی کمیشن برائے حقوقِ اطفال کے ڈھانچہ کی مضبوطی اور بحالی  کا کام بخوبی جاری ہے۔ اسلام آباد چائلڈ پروٹیکشن ایکٹ، 2018 کو آئی سی ٹی کی سطح پر کمزور بچوں کو حفاظتی خدمات فراہم کرنے کے لئے نافذ کیا گیا تھا۔ اس ایکٹ کے سیکشن 10 کے مطابق، چائلڈ پروٹیکشن انسٹی ٹیوٹ (سی پی آئی) وزارت انسانی حقوق کے تحت قائم کیا گیا تھا تاکہ بچوں کے ساتھ ہونے والی زیادتی، ناروا سلوک اور استحصال کی روک تھام کی جاسکے۔ سی پی آئی کو یونیسیف کے تعاون سے فنکشنل بنایا گیا تھا۔ سی پی آئی کے بنیادی مقاصد میں محفوظ پناہ گاہ، نفسیاتی سماجی، بحالی اور ریفرل  کی خدمات فراہم کرنا شامل تھا۔.

مزید :

ملتان صفحہ آخر -