"سائیکل بھی عام آدمی کی پہنچ سے دور ، سپیئر پارٹس مہنگے ہوگئے" سروے رپورٹ میں حیران کن انکشاف

"سائیکل بھی عام آدمی کی پہنچ سے دور ، سپیئر پارٹس مہنگے ہوگئے" سروے رپورٹ ...

  

لاہور(افضل افتخار سے) ملک میں بڑھتے توانائی بحران کے اثرات اپنے پرپھیلانے لگے ملک کی بڑی سائیکل مارکیٹ میں سائیکلوں اور ان کے سپیئر پارٹس کی قیمتیں بڑھ گئیں۔  ملک میں تیل کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافے اور بجلی کی قیمتوں میں آئے روز اضافے سے 22انچ کی عام سائیکل کی قیمت 10ہزار روپے سے 16ہزار روپے تک پہنچ گئی جبکہ 20انچ کی عام دیسی سائیکل اب 9ہزار کی بجائے 15ہزار میں فروخت ہو رہی ہے جبکہ امپورٹڈ سائیکلوں کی قیمتیں کو بالکل پہنچ سے باہر ہو گئیں یہ سائز اور کوالٹی کے مطابق بالترتیب 20ہزار، 35ہزار اور 40ہزار روپے تک فروخت ہو رہی ہیں۔ پروفیشنل سائیکلز 30ہزار روپے سے 5لاکھ روپے تک کی قیمت میں مل رہی ہیں اسی طرح سائیکل کے ٹائرز اور دیگر سپیئر پارٹس بھی نہ صرف مہنگے ہوئے ہیں بلکہ بہت زیادہ مہنگے ہو چکے ہیں۔ نیلا گنبد سائیکل مارکیٹ کے سروے میں یہ بھی پتہ چلا کہ سپئرپارٹس کی تیاری میں لاگت بڑھ چکی ہے۔ دکاندار کبیر بٹ نے بتایا کہ برسوں سے یہ کاروبار ہے مگر عام بندے کو اس طرح پریشان نہیں دیکھا۔ ہماری سیل بڑھ ضرور گئی ہے ہمیں جس طرح مال ملتا ہے آگے بیچتے ہیں عام دکاندار کو دہاڑی بچتی ہے اصل کمائی تو بڑے بڑے سٹاک ہولڈرز کی ہے جن کی چاروں انگلیاں گھی میں ہیں۔ عام لوگ ایک مرتبہ پھر سائیکل خرید رہے ہیں جس کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں مگر سب سے بڑی وجہ پٹرول کی بڑھتی قیمتیں ہیں۔ مارکیٹ میں سائیکل کی خریداری کے لئے آئے فیروز بٹ، شہباز علی، خرم خان، سہیل علی، زبیر محمد نے" ڈیلی پاکستان" کو بتایا کہ گھر سے دکان کا فاصلہ 11کلومیٹرہے مگرپٹرول کی زیادہ قیمت اور دکان پر عائد ٹیکس کی وجہ سے سائیکل خریدنے کا فیصلہ کیا ہے کبھی کبھار موٹرسائیکل پر دکان جاؤں گا،سائیکل کے استعمال سے پٹرول کی بچت کے ساتھ ساتھ سائیکل چلانے سے صحت بھی اچھی ہو جائے گی۔ پتوکی سے آئے اختر علی نے بتایا کہ میں سائیکل پر دور دراز دیہات میں چھوٹی موٹی چیزیں بیچتا ہوں میری سائیکل چوری ہو گئی نئی لینے آیا ہوں۔

مزید :

بزنس -علاقائی -پنجاب -لاہور -