ہمارا خاندان بڑا، گھرچھوٹا اور آمدن کم تھی، علاقے کے بچے ریہرسل کے دوران ہمارے گھر کی کھڑکیوں پر پتھر مارتے

ہمارا خاندان بڑا، گھرچھوٹا اور آمدن کم تھی، علاقے کے بچے ریہرسل کے دوران ...
ہمارا خاندان بڑا، گھرچھوٹا اور آمدن کم تھی، علاقے کے بچے ریہرسل کے دوران ہمارے گھر کی کھڑکیوں پر پتھر مارتے

  

مترجم:علی عباس

قسط: 4

میری ماں جانتی تھی کہ اُس کی بیماری سزا نہیں ہے بلکہ خدا کی طرف سے ایک امتحان ہے اور اُسے اس میں کامیابی حاصل کرنا ہے۔ اُس نے مجھے خدا سے محبت کرنے کا سبق دیا جو ہمیشہ میرے ساتھ رہے گا۔ اُس نے مجھے بتایا کہ میرا گلوکاری اور رقص کی جانب فطری میلان اُسی طرح خدا کی طرف سے عطا کر دہ نعمت ہے جیسے غروبِ آفتاب یا طوفان کے بعد برف میں کھیلتے ہوئے بچے خدا کا تحفہ ہیں۔ اس سے قطع نظر کہ ہمارا بہت سارا وقت ریہرسلیں کرتے ہوئے یا سفر میں گزر جاتا تھا، ماں مجھے گرجا گھر لے جانے کے لئے وقت نکال لیا کرتی تھی۔ عام طور پر ریبی اور لاتویا ہمراہ ہوتیں۔

ہمیں گیری سے منتقل ہوئے برسوں گزر چکے تھے۔ ہم ”دی ایڈ سولیوان شو‘ میں شریک ہوئے تھے۔ یہ اتوار کی شب براہ راست پیش کیا جانے والا شو تھا جس میں امریکہ نے پہلی بار بیٹلز، ایلوس پریسلے اور سلائے اینڈ دی فیملی سٹون کے فن سے آشنائی حاصل کی تھی۔ شوکے اختتام پر سولیوان نے ہم سب کا شکریہ ادا کیا اور ہمیں مبارک باد پیش کی لیکن میں سوچ رہا تھا کہ اُس نے شو شروع ہونے سے قبل مجھے کیا کہا تھا۔ میں سٹیج کے عقب میں پیپسی کے اشتہار میں نظر آنے والے بچے کی طرح حیران اور پریشان کھڑا تھا اور میں تیزی کے ساتھ سولیوان کی جانب بڑھ گیا تھا۔ وہ مجھے دیکھ کر خوش ہوا تھا اور میرے ہاتھ کو تھپتھپایا تھا، لیکن اس سے قبل کہ وہ وہاں سے روانہ ہوا، اُس نے مجھے خصوصی پیغام دیا تھا۔ یہ 1970ءکی بات ہے، ایک ایسا سال جب راک موسیقی سے وابستہ بہت سارے لوگ منشیات اور الکوہل کے زائد استعمال کے باعث اپنی زندگیوں سے ہاتھ دھو رہے تھے۔ شوبزنس سے وابستہ ہماری پیش رو نسل نوجوانوں کو کھونا نہیں چاہتی تھی۔ کچھ لوگوں نے مجھے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ میں انہیں فرانکی لائمن کی یاد دلاتا ہوں۔ وہ 50ءکی دہائی کا نوجوان گلوکار تھا اور اُسی طرح ہلاک ہو ا تھا جس کے بارے میں غالباً ایڈ سولیوان سوچ رہا تھا جب اُس نے کہا تھا: ”یہ کبھی مت فراموش کرنا کہ تمہاری صلاحیتیں تمہیں ودیعت کردہ ہیں۔ تمہاری صلاحیت تمہیں خدا کی طرف سے عنایت کیا گیا تحفہ ہے۔“

میں اُس کی اعلیٰ ظرفی پر اُس کا شکر گزار تھا لیکن میں نے اُسے بتا دیا تھا کہ میری ماں مجھے اس حقیقت سے غافل نہیں ہونے دے گی۔ میں پولیو کے مرض کا شکار نہیں رہا۔ ایسا تصور کرنا بھی ایک ڈانسر کے لئے سوہانِ روح ہے لیکن میں جانتا تھا کہ خدا مجھے، میری بہنوں اور بھائیوں کو کسی دوسرے طریقے سے آزما سکتا تھا۔ ہمارا بڑا خاندان، چھوٹا سا گھر، ضروریات کے اعتبار سے کم آمدن، حتیٰ کہ علاقے کے حاسد بچے ہماری ریہرسل کے دوران گھر کی کھڑکیوں پر پتھر مارتے۔ وہ چلاتے کہ ہم ایسا نہیں کر سکیں گے۔ جب میں ماں اور اپنی زندگی کے ابتدائی برسوں کے بارے میں سوچتا ہوں، میں آپ کو بتا سکتا ہوں کہ یہ اُسی کا صلہ ہے جوپیسے، شہرت اور اعزازات کا مرہون منت نہیں ہے۔

میری ماں حوصلہ افزائی کرنے میں بُخل سے کام نہیں لیتی تھی، جب اُسے یہ پتہ چلتا کہ ہم میں سے کسی کی کوئی دلچسپی ہے اور کوئی ممکنہ راستہ بھی ہے تو وہ ہماری حوصلہ افزائی کیا کرتی۔ اگر میں فلمی ستاروں میں دلچسپی ظاہر کرتا تو وہ فوری طور پر ان سے متعلق کتابیں خرید لاتی۔ حتیٰ کہ وہ اپنے 9 بچوں میں سے ہر ایک کے ساتھ کچھ یوں پیش آتی تھی جیسے وہ اُس کا اکلوتا بچہ ہو۔ ہم میں سے کوئی بھی ایسا نہیں ہے جو یہ بھُول سکے کہ وہ کس قدرمحنت کیا کرتی تھی اور کیسے ہماری ہر ضرورت کا خیال رکھتی تھی۔ یہ ایک بھولی بسری کہانی ہے۔ ہر بچہ یہ سوچتا ہے کہ اُس کی ماں دنیا کی عظیم ترین ماں ہے، لیکن ہم ”جیکسنز“ یہ احساس خود سے کبھی الگ نہیں کر سکتے کیونکہ کیتھرین کی محبت، پُرجوش اور مامتا سے لبریز انداز ناقابلِ فراموش ہے۔ میرے لئے یہ تصور کرنا محال ہے کہ ماں کی محبت کے بغیر پرورش کیونکر ممکن ہو سکتی ہے۔

میں بچوں کے بارے میں اس حقیقت سے آگاہ ہوں کہ اگر وہ اپنے والدین سے محبت کے حصول میں ناکام رہیں تو وہ دوسرے لوگوں سے محبت حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور اُن کے نزدیک ہو جاتے ہیں، وہ دادا دادی ہو سکتے ہیں یا کوئی بھی دوسرا شخص، ہماری محبت اور اُلفت کا مرکز ہمیشہ ہماری ماں رہی۔ اُس نے ہمیں جو علم دیا ہے، وہ بے مول ہے اور محبت، رحمدلی اور لوگوں پر توجہ دینے سے متعلق ہے۔ لوگوں کو تکلیف مت پہنچاﺅ، کبھی بھیک مت مانگو، دھوکہ مت دو۔ یہ سب عمل ہمارے گھر میں گناہ سے تعبیر کئے جاتے تھے۔ وہ چاہتی تھی کہ ہم معاف کرنے کا رویہ اپنائیں۔ اُس کی خواہش تھی کہ ہم دوسروں سے مدد یا بھیک نہ مانگیں۔ اُس نے اپنی زندگی کو اسی انداز سے گزارا ہے۔ (جاری ہے ) 

نوٹ : یہ کتاب ” بُک ہوم“ نے شائع کی ہے ۔ ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں ۔(جملہ حقوق محفوظ ہیں )۔

مزید :

ادب وثقافت -