سقراط اور اقریطون میں مکالمہ اور11قاضی

سقراط اور اقریطون میں مکالمہ اور11قاضی
سقراط اور اقریطون میں مکالمہ اور11قاضی

  

مصنف : ملک اشفاق

 قسط :42

اقریطون: آپ کا جواب یقینا ”ہاں“ ہو گا۔

سقراط : اچھا اگر ناموس مجھ سے پوچھے کہ کیا قرین انصاف ہے کہ تم پر الف ظلم کرے اور تو اس کے جواب میں ب پر ظلم توڑو تو میں کیا جواب دوں؟

اقریطون: آپ کا جواب یہی ہو گا کہ یہ اقدام ناجائز ہے۔

سقراط : پھر اگر ناموس یہ کہے کہ تم پر ظلم توپادریوں نے کیا اور ا س کے جواب میں تم مجھ پر ظلم توڑ رہے ہوتو میں کیا جواب دوں۔

اقریطون: میں آپ کا مطلب نہیں سمجھا۔

سقراط : مطلب صاف ہے کیامصائب میں صبر و استقامت کا دامن چھوڑ کر دنیا کے خلاف ننگ و ناموس نہیں؟

اقریطون: یقینا خلاف ننگ و ناموس ہے۔

سقراط : تو پھر آپ ہی فرمائیں کہ اگر مجھ پر پادری ظلم کریں تو اس کے جواب میں ناموس پر ظلم توڑنا اور بے حوصلہ ہو کر ادھر ادھر بھاگتے پھرنا کہاں تک جائز ہے؟

سقراط اور اقریطون میں یہ مکالمہ دیر تک جاری رہا۔ اس کے بعد اقریطون نے کہا کہ سزا کا وقت قریب آ گیا ہے اگر آپ کی کوئی خواہش ہو تو ہمیںاس کے پور ا کرنے میں بے حد مسرت حاصل ہو گی۔ سقراط نے جواب میں صرف اتنا کہا کہ میں نے آج رات ایک خواب دیکھا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ میری سزا کا وقت قریب آ پہنچا ہے۔

آخری دن ہم حسب عادت صبح سویرے جیل خانے میں جا پہنچے پہلے صاحب زندان فرآن آیا۔ دروازہ کھولاا ور ان 11 پادریوں کے ہمراہ سقراط کے کمرے میں چلا گیا۔ ہم کچھ دیر ٹھہرے اور پھر واپس چلے گئے۔ ا س کے بعد ہمیں دوبارہ سقراط کے ہاں جانے کی اجازت ملی دیکھا کہ اس کے پاﺅں کی بیڑیاں کٹ چکی ہیں۔ہم اندر جا کر زمین پربیٹھ گئے۔ سقراط بھی چارپائی سے اتر کر نیچے بیٹھ گیا اور پنڈلیوں کو ملتے ہوئے کہنے لگا۔ اللہ کا انتظام کس قدر عجیب ہے کہ تقریباً ہر مقام پر 2متضاد چیزیں آپس میں مل رہی ہیں۔ہر لذت کے بعد الم اور ہر الم کے بعد لذت ہے آج میرے پاﺅں کی بیڑیاں اتری ہیں تو مجھے ٹانگوں کے ہلکے پن میں ایک خاص لطف محسوس ہو رہا ہے۔

اس کے بعد سقراط نفسیات پر گفتگو کرنے لگا اور ہر سوال کا جواب اسی اطمینان سے دیتا گویا اسے موت کی کوئی فکر نہیں۔دوران گفتگو کبھی متین بن جاتا اور کبھی مذاق پر اتر آتا۔ ہم سب حیران تھے کہ موت سے عین پہلے یہ بے فکری و متانت آج تک سننے میں نہ آئی۔ اس دوران ہمارا ایک ساتھی سیماس کہنے لگا۔

”استاد محترم! آج اس حالت میں کہ موت سر پر منڈ لا رہی ہے۔ آپ سے سوالات پوچھنا موزوں معلوم ہوتا ہے اور کل آپ کی غیرموجودگی میں سوالات پوچھنے کی تمنا بے چین کر دے گی۔“

سقراط کہنے لگا”اے سیماس! جستجو رازِ حیات ہے اسے میرے بعد بھی جاری رکھو کہ مجھے اسی سے مسرت ہو گی جہاں تک جستجو کا تعلق ہے موت و حیات میں کوئی فرق نہیں زندگی میں بڑے بڑے علماءسے ملاقات کا موقع ملتا ہے اور مر کر ہم اسلاورس، امارس اور ارقلیس جیسے فضلاءدہر کے پاس جا پہنچتے ہیں۔

نفسیات پر گفتگو کر چکنے کے بعد کسی نے ہیئت عالم کے متعلق ایک سوال پوچھا لیا۔ کہنے لگا کہ زمین گول ہے اور آسمان ایک دوسرے کو محیط ہیں نیز متحرک ہیں بس حقیقت صرف اتنی ہے باقی اس موضوع پر جو کچھ دیگر علماءنے اور اومیرس، ارفاﺅس اسیدوس اور ابیذقلیس جیسے شعراءنے کہا ہے۔ وہ سب کچھ ظنی و غیریقینی ہے اس موقع پر سقراط نے ان علماوشعراءکے بہت سے اقوال نقل کیے۔

پھر فرمایا اب میرے آخری سفر کا وقت قریب آ گیاہے۔ مناسب ہے کہ میں نہا لوں تاکہ عورتوں کو غسل دینے میں تکلیف نہ ہو۔ دنیا کی ہر چیز فانی ہے۔ میں عنقریب دوسری دنیا کی طرف اور تم اپنے گھروں کی طرف روانہ ہو جاﺅ گے۔ اس کے بعد غسل خانے میں چلا گیا۔ اس وقفے میں ہم یہی کہتے رہے کہ ایسا شفیق باپ پھر کہاں سے ملے گا۔ہم اس کے بعد یتیم ہو کر رہ جائیں گے جب غسل سے فارغ ہو کر باہر آیا تو اپنے بیٹوں اور بیوی کو اندر بلوایا۔ 3بیٹے تھے، 2 چھوٹے اور 1 بڑا۔کچھ نصیحتیں کرنے کے بعد انہیں رخصت کر دیا۔ اس پر اقریطون کہنے لگا۔ ”امام محترم! ہمیں بھی اپنے اہل و عیال کے متعلق کچھ وصیت فرمایئے۔“ فرمایا ”میں تم سے کوئی نئی بات نہیں کہنا چاہتا وہی پرانی باتیں یاد دلانا چاہتا ہوں کہ اپنی اصلاح کرو۔ اسی سے میں اور میرے ہم مشرب خوش ہوں گے۔“

اقریطون: آپ کی وفات کے بعد ہم کیا کریں گے۔

سقراط : (ہنس کر) بات یہ ہے کہ آج اقریطون کو مجھ پر اعتماد نہیں رہا۔ وہ سمجھتا ہے کہ آج جس قدر باتیں میں نے کہی ہیں وہ میں نے نہیں کہیں بلکہ میری نعش بول رہی ہے۔ اقریطون! میرے سفر کا وقت قریب آ گیا ہے اور موت کے بعد تم میری لاش حاصل کر سکو تو جو جی میں آئے کرو۔

سلسلۂ گفتگو جاری تھا کہ ان 11پادریوں کا نوکر آیا اور کہنے لگا۔ ”سقراط ! میں تمہارے اخلاق عالیہ سے اچھی طرح آگاہ ہوں اور مجھے محکم یقین ہے کہ تم مجھے مجبور محض سمجھ کر معاف کر دو گے۔ بہ حیثیت ملازم میرا فرض ہے کہ زہر کا پیالہ تمہاری خدمت میں پیش کروں ورنہ اصلی مجرم وہ 11 قاضی ہیں اللہ کی قسم! تم سے بہتر انسان آج تک اس جیل خانے میں نہیں آیا جب پیالہ آئے، تو نہائیں صبر و سکون سے پی لو“ یہ کہہ کر وہ ملازم چلا گیا۔ سقراط کہنے لگا ”یہ شخص میرے پا س اکثر آیا کرتا تھا اور یہ اپنے مذہب کا بہت فاضل ہے۔“ پھر اقریطون سے کہا ”جاﺅ اور اس ملازم سے کہو کہ زہر کا پیالہ لے آئے اگر تیار نہیں تو کر لے۔“(جاری ہے ) 

نوٹ : یہ کتاب ” بُک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں )۔

مزید :

ادب وثقافت -