”ایڈورڈ امن پسند “ اورلارڈ منٹو کی واپسی

 ”ایڈورڈ امن پسند “ اورلارڈ منٹو کی واپسی
 ”ایڈورڈ امن پسند “ اورلارڈ منٹو کی واپسی

  

مصنف : ای مارسڈن 

آپ نہایت صلح پسند اور امن دوست تھے۔ اس لیے ان کے عہد میں بہت سی جنگوں کا خاتمہ ہوا۔ چنانچہ تاریخ میں ”ایڈورڈ امن پسند“ کے نام سے موسوم ہیں۔ ان سے تمام رعایا دل و جان سے محبت رکھتی تھی اور تمام قومیں ان کی قدرو منزلت کرتی تھیں۔

 گیارھویں وائسرائے لارڈ کرزن جو ملکہ آنجہانی کے عہد کے آخر میں مقرر ہو کر آئے تھے۔ 1899ءسے 1905ءتک 7 برس ہند کے وائسرائے رہے۔ آپ نے آتے ہی مملکت کے ہر صیغے کی اصلاح شروع کر دی۔ زرکثیر خرچ کر دیا اور عمدہ عمدہ تجویزیں نکالیں تاکہ سرکاری حکام آئندہ اہل ہند کو قحط اور طاعون سے جہاں تک انسان کی طاقت میں ہے بچا سکیں۔ سینکڑوں میل لمبی نہریں جاری کیں۔ وسیع قطعات زمین جو بے تردد پڑے تھے کاشت میں آئے۔ پانی کی قلت رفع کرنے کے لیے بہت سے کنوئیں اور تالاب کھدوائے۔ ملک کے کئی حصوں میں ریل جاری کی۔ تعلیم اور خصوصاً غربا ءکی ابتدائی تعلیم پر پہلے کی بہ نسبت زیادہ روپیہ خرچ کیا۔ محکمہ پولیس کی تنخواہوں میں اضافہ کیا اور اعلیٰ استعداد اور قابلیت کے لوگ محکمہ پولیس میں بھرتی کیے۔ فوج کی بہتری کی کئی تجویزیں عمل میں آئیں۔ 20 برس سے محصول برابر جوں کے توں چلے آتے تھے۔ مگر لارڈ کرزن نے ان میں تخفیف کی۔ خصوصاً نمک کے محصول میں جس سے غریب اور غربا ءکئے دل نہایت خوش اور احسان مند ہوئے۔ آپ نے تار برقی کا محصول بھی کم کر دیا۔ یہ سب باتیں اس وجہ سے ممکن ہوئیں کہ لارڈ صاحب موصوف کے عہد میں ایک چھوٹی سی لڑائی کے سوا برابر امن چین رہا اور تجارت کی بڑی ترقی ہوئی جس کے سبب سے سرکاری آمدنی میں بھی بڑا اضافہ ہوا۔

 ہند کو سرحدی قوموں کے حملوں سے محفوظ رکھنے کے لیے لارڈ کرزن نے لڑائی کے بجائے ان لوگوں سے دوستی پیدا کی اور ان کو سرکار ہند کی سپاہ میں بھرتی کر کے ان کے ہی ملک میں چھوڑ دیا تاکہ وہاں امن و امان قائم رکھیں۔ تبت کے حکام نے ان عہد ناموں کو توڑ دیا جو ان کے اور سرکار انگلشیہ کے مابین ہو چکے تھے۔ روسی اہلکاروں کو جو سرکار انگریز کے مخالف تھے۔ اپنے ملک میں مدعو کیا اور ہند کے باشندوں کو تجارت کے لیے بھی وہاں نہ گھسنے دیا لارڈ کرزن نے مقابلے کے لیے تھوڑی سی فوج روانہ کی جس نے کئی مقاموں پر تبت والوں کو شکست دے کر دارالحکومت لاسا پر قبضہ کر لیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ تبت والوں کو صلح کرنی پڑی اور ان کے ملک کے کئی حصوں میں ہند کے سوداگروں کو تجارت کرنے کی اجازت مل گئی۔

 انتظام کی سہولت اور بہتری کی غرض سے لارڈ کرزن نے 2نئے صوبے بنائے۔ سندھ پار کے شمال مغربی علاقے کو ملا کر شمال مغربی سرحدی صوبہ مقرر کیا۔ دریائے گنگا کے مشرق کا ملک علیٰحدہ کر کے وہ صوبہ بنایا جو مشرقی بنگال و آسام کے نام سے موسوم ہے۔

 1905ءمیں لارڈ منٹو بارھویں وائسرائے مقرر ہو کر آئے۔ سو برس پہلے 1807ءمیں ان کے پردادا ہند کے چھٹے گورنر جنرل مقرر ہوئے تھے۔ انہوں نے ہندوستانیوں کو اعلیٰ عہدے دیئے۔ بعض صوبوں میں ایگزیکٹو (انتظامی) کونسلیں بنائی گئیں اور کونسل ہائے واضعان آئین و قوانین کو بڑھا کر ان میں بھی ہندوستانیوں کو زیادہ لیے جانے کےلئے انتظام کیا، ساتھ ہی کونسلوں کےلئے ممبر منتخب کرنے کا حق میونسپل اور ڈسٹرکٹ بورڈوں وغیرہ کو دیا۔ امیرِ کابل ان کی دعوت پر ہندوستان کی سیر کو آئے اور شاہی مہمان کی حیثیت میں ان کی شان کے مطابق ہر جگہ ان کا اعزاز و اکرام ہوا۔

 لارڈ منٹو بھی 1910ءمیں واپس چلے گئے جبکہ لارڈ ہارڈنگ وائسرائے ان کی جگہ مقرر ہو کر آئے۔ ان کے بعد کے وائسرائے کا نام لارڈ چمسفورڈ ہے جو لارڈ ہارڈنگ کے بعد آئے تھے۔ پھر لارڈ ریڈنگ وائسرائے ہوئے، موجودہ وائسرائے کا نام لارڈ ارون ہے۔

 1911ءمیں شہنشاہ جارج مع قیصرہ میری ہندوستان میں تشریف لائے۔ انہوں نے شہنشاہ ایڈورڈ ہفتم کی حیات میں بھی جیسا کہ پہلے ذکر ہو چکا ہے اس ملک کو عزت بخشی تھی۔ 12 دسمبر 1911ءکو دہلی کے قدیم شہر میں بڑے تزک و احتشام سے دربار تاجپوشی منعقد کیا گیا اور حضور شہنشاہ نے زبان فیض ترجمان سے اعلان فرمایا کہ اب سے دہلی کو پھر اسی طرح ہندوستان کا دارالسلطنت مقرر کیا جاتا ہے جس طرح وہ پہلے ذی شوکت مغلوں کے عہد میں تھا۔

 اسی وقت یہ بھی اعلان ہوا کہ بہار، اڑیسہ اور چھوٹا ناگپور کو ملا کر ایک صوبہ بنایا جائے گا جس کا صدر مقام پٹنہ ہو گا یہ وہی شہر ہے جو اب سے2 ہزار برس پیشتر پاٹلی پتر کے نام سے مگدھ کی سلطنت کی راجدھانی تھا۔ جب موریا خاندان کا راجہ چندرگپت 300 قبل مسیح میں وہاں بڑی شان سے حکومت کرتا تھا۔ اسی کے ساتھ یہ بھی ارشاد فرمایا کہ مشرقی بنگال اور آسام کا صوبہ توڑ کر اس کا جنوبی حصہ ڈھاکہ سمیت دوبارہ پرانے بنگال میں شامل ہو اور چیف کمشنر کے ماتحت آسام کو ایک علیٰحدہ صوبہ بنایا جائے۔ چنانچہ اس کی تعمیل ہو چکی ہے۔

 ہندوستان کے عوام امراء، شہزادہ اور حکمرانوں نے بڑی مسرت کے ساتھ اپنے شہنشاہ معظم کا خیر مقدم کیا اور ان میں سے لاکھوں اس پرشوکت دن کو یاد رکھیں گے جبکہ وہ شہنشاہ معظم اور قیصرۂ معظمہ کے دیدار فیض آثار سے شرف اندوز ہوئے۔

 دعا کرو کہ ہند میں امن و امان قائم رہے اور رعایا دن دگنی رات چوگنی ترقی کر کے خوش حال و فارغ البال ہو۔ سرکار کی بہادر سپاہ کی محافظت اور قیصر کے سایۂ عاطفت میں ملک ہند بیرونی دشمنوں کے کھٹکے سے ہمیشہ کے لیے محفوظ رہے ۔ (آمین) 

خدا ہمارے شہنشاہ کو سلامت رکھے۔(جاری ہے ) 

نوٹ : یہ کتاب ” بُک ہوم“ نے شائع کی ہے ۔ ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں ۔(جملہ حقوق محفوظ ہیں )۔

مزید :

ادب وثقافت -