فرانس ، مختلف شہروں میں پرتشدد مظاہرے جاری ، جلاﺅ گھیراﺅ میں ملوث 917افراد گرفتار 

فرانس ، مختلف شہروں میں پرتشدد مظاہرے جاری ، جلاﺅ گھیراﺅ میں ملوث 917افراد ...

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


پیرس(مانیٹرنگ ڈیسک)پولیس کے ہاتھوں نوجوان کے قتل کے خلاف فرانس کے مختلف شہروں میں پرتشدد مظاہرے جاری ہیں جنہیں روکنے کے لیے فرانسیسی حکومت نے پورے ملک میں بڑا کریک ڈاو¿ن کرتے ہوئے احتجاج اور جلاو¿ گھیراو¿ میں ملوث 917 افراد گرفتار کرلیے۔مظاہرین کی جانب سے عوامی املاک، پولیس اسٹیشنز اور دکانوں پر حملے کیے گئے ہیں، پیرس کی میونسپلٹیوں میں کرفیو کا اعلان کردیا گیا ہے اور لوگوں کے جمع ہونے پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔حالات کو قابو کرنے کےلئے ملک بھر میں 45 ہزار پولیس اہل کار تعینات کیے گئے ہیں۔فرانسیسی صدر میکرون نے کہا ہے کہ احتجاج میں اضافہ سوشل میڈیا کی وجہ سے ہوا، صدر نے سوشل میڈیا سائٹس سے اپنے پلیٹ فارم پر موجود تمام حساس نوعیت کی ویڈیوز ہٹانے کا مطالبہ کیا ہے۔فرانس میں نوجوان ناحیل مرزوق کی پولیس کے ہاتھوں ہلاکت کے بعد ہنگامے جاری ہیں جس کے باعث فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکرون نے اپنا جرمنی کا دورہ منسوخ کردیا۔خبرایجنسی کے مطابق فرانس میں 5 ویں روز بھی ہنگامے جاری ہیں اور نانتیغ کے علاقے میں پولیس اہلکار کے ہاتھوں قتل ہونےوالے ناحیل مرزوق کی نماز جنازہ بھی ادا کردی گئی۔پولیس کی جانب سے ناحیل کی نمازجنازہ کے موقع پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے جبکہ ان کی نماز جنازہ اور تدفین میں دوستوں اور خاندان کے افراد نے شرکت کی۔میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ نماز جنازہ کے موقع پر مظاہرین کی بڑی تعداد مسجد کے باہر جمع تھی اور مظاہرین نے ’جسٹس فار ناحیل‘ کے نعرے لگائے۔
فرانس/مظاہرے

مزید :

صفحہ آخر -