دیامربھاشا ڈیم: ایک ضروری وضاحت

دیامربھاشا ڈیم: ایک ضروری وضاحت

  

روزنامہ پاکستان میں یکم جون 2013ءکو”اور اب دیامربھاشا ڈیم بھی متنازعہ“؟ کے عنوان سے شائع ہونے والے اداریے کے حوالے سے گزارش ہے کہ مورخہ 31مئی کو دو اخبارات کی جس خبر کو بنیاد بنا کر مذکورہ اداریہ تحریر کیا گیا ہے، واپڈا کی جانب سے اس کی باقاعدہ تردید دونوں اخبارات میں آج (یکم جون) شائع ہوچکی ہے۔

قارئین کی معلومات اور ریکارڈ کی درستگی کے لئے عرض ہے کہ واپڈا دیامربھاشا ڈیم کے کثیر المقاصد منصوبے کو ترجیحی طور پر آگے بڑھا رہا ہے اور واپڈا کی موجودہ انتظامیہ نے داسوہائیڈروپاور پراجیکٹ کو کبھی بھی دیامر بھاشا ڈیم پر ترجیح نہیں دی۔ستمبر2012ءمیں موجودہ چیئرمین واپڈا سید راغب عباس شاہ نے اپنی تعیناتی کے بعد دیامربھاشا ڈیم پر تعمیراتی کام کو مزید تیز کرنے کے لئے بھرپور اقدامات کئے ہیں۔اس امر کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ انہوں نے اپنی تعیناتی کے بعد منصوبے کے مرکزی کاموں کی نگرانی کے لئے مشاورتی ادارے(کنسلٹنٹ) کی تقرری کے اہم عمل کو تیز تر تکمیل کی بنیاد پر آگے بڑھایا اور اب کنسلٹنٹ کی تقرری کا یہ عمل اپنے حتمی مراحل میں ہے۔

دیامربھاشا ڈیم کا ترجیحی منصوبہ ہونے کا دوسرا ثبوت یہ ہے کہ صدر مملکت کے سیکرٹری جنرل کی جانب سے تحریر کئے گئے خط سے یہ معلوم ہونے پر کہ عالمی بینک دیامر بھاشا ڈیم کی سٹڈی کے لئے تکنیکی معاونت فراہم کرنے پر رضامند ہے۔چیئرمین واپڈا نے 7مئی 2013ءکو ایک خط کے ذریعے وزارت پانی و بجلی سے درخواست کی کہ اس حوالے سے مزید کارروائی عمل میں لانے کے لئے عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک سے رابطہ کیا جائے۔یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ موجودہ چیئرمین واپڈا ہی کی جانب سے کئے گئے اقدامات کی روشنی میں دیامربھاشا ڈیم کی تعمیر سے متعلق مختلف امور میں تیزی لانے کے ساتھ ساتھ پراجیکٹ کے لئے درکار زمین کی خریداری کے جاری عمل سے متعلق معاملات کے حل کے لئے متعدد اجلاس بھی منعقد کئے گئے۔

قارئین کی معلومات کے لئے یہ بھی عرض ہے کہ دیامر بھاشا ڈیم عملدرآمد کے حوالے سے داسوہائیڈرو پاور پراجیکٹ سے کہیں آگے ہے، کیونکہ دیامر بھاشا ڈیم کا منصوبہ اپنے تعمیراتی مرحلے میں داخل ہوچکا ہے،جبکہ داسو ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کا ابھی پی سی۔ون (PC-1)تیار کیا جارہا ہے۔دیامربھاشا ڈیم کی تعمیر کے لئے درکار زمین کی خریداری کا عمل جاری ہے۔علاوہ ازیں اس منصوبے کے 15مختلف کنٹریکٹ بھی ایوارڈ کئے جا چکے ہیں، جن کے تحت واپڈا کے دفاتر، کالونیوں، کنٹریکٹرز کیمپ، پراجیکٹ ایریا میں سڑکوں سمیت دیگر انفراسٹرکچر اور پراجیکٹ متاثرین کے لئے مثالی گاﺅں کی تعمیر پر تیزی سے کام جاری ہے۔

مذکورہ بالا حقائق کی روشنی میں یہ بات عیاں ہے کہ دیامر بھاشا ڈیم واپڈا کی موجودہ انتظامیہ کے لئے ایک ترجیحی منصوبہ ہے اور قومی اہمیت کے حامل اس منصوبے پر تیزی سے پیش رفت کے لئے تمام ممکنہ اقدامات بھرپور طور پر عمل میں لائے جا رہے ہیں،لہٰذا یہ تاثر قطعی غلط اور بے بنیاد ہے کہ واپڈا کے موجودہ چیئرمین کی جانب سے دیامربھاشا ڈیم کی بجائے داسوہائیڈرو پاور پراجیکٹ تعمیر کرنے کی حمایت کی جارہی ہے۔ ٭

مزید :

کالم -