آﺅ سب مل کر تعمیر پاکستان کریں

آﺅ سب مل کر تعمیر پاکستان کریں
آﺅ سب مل کر تعمیر پاکستان کریں

  

بدقسمتی سے پاکستان میں الزام بازی اور دشنام تراشی کا کام بہت وسیع پیمانے پر ہوتا ہے۔اب تو انتخابات ہو چکے ہیں۔عوام نے اپنا فیصلہ بھی انتہائی دانائی اور عقلمندی سے دے رکھا ہے۔ بہتر ہوگا کہ اب ہمارے قومی رہنما قومی مسائل کو حل کرنے کی طرف آ جائیں۔وہ ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنا بند کردیں، ہمارے رہنما سب کے سب محب وطن ہیں، کسی بھی شہری پر غداری کا الزام لگانا کسی کو بھی زیب نہیں دیتا۔کون غدار ہے اور کون محب وطن؟اس کا فیصلہ تو عوام کیا کرتے ہیں۔جمہوری نظام حکومت میں عوام ہی بہترین اور اعلیٰ منصف ہوتے ہیں۔لوگوں کے فیصلے کو آخر ماننا ہی پڑتا ہے۔11مئی کو ہونے والے انتخابات میں لوگوں نے اپنا فیصلہ دے دیا ہے۔اب ضرورت اس بات کی ہے کہ لوگوں کے اس فیصلے کو تسلیم کرلیا جائے۔سچی بات تو یہی ہے کہ جب لوگ کسی کو اپنے ووٹوں سے نوازتے ہیں تو وہ بلاشبہ حکمرانی کرنے کا حق رکھتا ہے۔ہم سب کا یہ فرض اول ہوتا ہے کہ ہم ایسے شخص کا احترام کریں، ایسے لوگ بجا طور پر قوم کے رہنما کہلاتے ہیں۔

عمران خان بلاشبہ کبھی اپنے واحد ووٹ سے اپنی اور اپنے حلقے کی نمائندگی کیا کرتے تھے۔آج وہ پاکستان کے چوٹی کے رہنماﺅں میں شامل ہوچکے ہیں۔اسی طرح ان کی جماعت تحریک انصاف بھی قومی سطح کی جماعت بن چکی ہے۔متحدہ قومی موومنٹ عرصے سے کراچی کے لوگوں کی نمائندگی کرتی آرہی ہے۔یہ اس جماعت کا حق ہے کہ وہ پاکستان کے لوگوں کی خدمت کرے۔پاکستان مسلم لیگ تو پاکستان کی خالق جماعت ہے۔اس جماعت نے برصغیر کے سوئے ہوئے اور پسے ہوئے مسلمانوں کو بیدار کیا تھا۔مسلم لیگ کے اس عظیم کام کو تو کوئی بھی پاکستانی قیامت تک نہیں بھول سکے گا۔اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہوگا کہ مسلم لیگ کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے سرزمین پاکستان پر حکومت کرنے کا حق ورثے میں مل چکا ہے۔جمہوری طرزِ حکومت میں تو لوگ ہی سب کچھ ہوتے ہیں۔وہ جس کو چاہیں اقتدار کی کرسی پر بٹھا دیں اور جب چاہیں اس کو اقتدار سے ہٹا دیں،کیونکہ لوگ حکمرانوں کی کارکردگی کو سامنے رکھ کر ان کی قسمت کا فیصلہ کرتے ہیں۔اگر ان کی کارکردگی اچھی ہوگی تو لوگ حکمرانوں کا ساتھ دیتے چلے جائیں گے،جب حکمران کرپشن اور بدعنوانی کی طرف راغب ہو جائیں گے تو لوگ بھی ایسے حکمرانوں سے اپنا منہ موڑ کر کوئی اور راستہ اختیار کرلیں گے۔

یہ بات اپنی جگہ درست ہے کہ پاکستان پیپلزپارٹی ایک نمائندہ جماعت رہ چکی ہے۔پاکستان میں اکثر ووٹر اس جماعت کی کارکردگی سے مایوس ہوگئے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ اس جماعت کو پورے پاکستان سے حکمرانی کرنے کا مینڈیٹ نہیں ملا ہے۔وہ پانچ سال انتظار کرے اور تازہ دم ہو کر عوام کی خدمات میں لگ جائے۔اندرون سندھ یہ جماعت آج بھی مقبول ہے۔کراچی ہماری سب سے بڑی بندرگاہ ہے، ملکی تجارت کا زیادہ تر دارومدار اسی پر ہے۔اس لحاظ سے کراچی پاکستان کی معاشی اور اقتصادی شہ رگ ہے۔کراچی کے امن و امان کو قائم رکھنا مرکز اور صوبہ سندھ کے حکمرانوں کا اہم فرض ہے۔پاکستان کے تمام رہنمااور سیاسی جماعتیں مل کر کراچی میں امن بحال کریں۔یہ کام ہرگز ایسانہیںہے جو سرانجام نہ دیاجا سکے۔کراچی میں کچھ جرائم پیشہ لوگ اپنے مفاد میں متحد ہو کر کراچی کے امن کو تباہ و برباد کررہے ہیں۔ایسے لوگوں کو قانون کے مطابق راہ راست پر لایا جا سکتا ہے۔سری لنکا کی مثال ہمارے سامنے ہے۔وہاں عرصہءدراز سے خانہ جنگی ہورہی تھی۔آخر کار سب رہنما ایک ہی میز پر بیٹھنے پر مجبور ہوگئے تھے۔اس طرح سری لنکا میں جاری جنگ کا خاتمہ ممکن ہوا تھا۔آج سری لنکا امن کا گہوارہ بن چکا ہے۔ملک ترقی کرتا چلا جارہا ہے۔پاکستان کی حکومت کے سامنے سب سے بڑا کام یہی ہوگا کہ وہ ملک میں امن و امان بحال کرے۔ جرائم پیشہ لوگوں کا خاتمہ ممکن ہے، شرط صرف یہ ہے کہ حکمران یہ کام کرنے کے لئے تیار ہو جائیں۔امن قائم ہوگا تب ہی ہمارا ملک ترقی کی شاہراہ پر چل سکے گا۔

 ہمیں یہ یاد رکھنا ہوگا کہ کراچی کی بدامنی دراصل پاکستان کی بدامنی ہے۔کراچی منی پاکستان ہے۔ ملک کے کونے کونے سے آکر لوگ بڑی تعداد میں مدتوں سے وہاں آباد ہوچکے ہیں۔وہ سب لوگ کراچی کے شہری ہیں۔وہ لوگ جو کراچی کے امن کو تباہ کرنے کے منصوبے رکھتے ہیں،وہ پاکستان کے دشمن ہیں۔ایسے لوگوں کے خلاف قانونی کارروائی ہی واحد وہ ذریعہ ہے ،جس سے کراچی کا امن بحال ہو سکتا ہے۔اور یہ وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔خدانخواستہ اگر وقت پر امن بحال نہ کیا گیا تو اس سے خوفناک نتائج بھی سامنے آ سکتے ہیں۔ اگر کراچی کی بدامنی پر قابو نہ پایا گیا تو وہاں کے حالات یقینی طورپر کنٹرول سے باہر ہو جائیں گے۔کچھ طاقتیں کراچی کے امن کو برباد کرنے کی کوششوں میں لگی ہوئی ہیں۔کراچی میں بہت سے ملک دشمن لوگ موجود ہیں۔وہ وہاں قتل و غارت کا کام کرتے ہیں۔لوگ حکمرانوں کی اس ناکام کارکردگی سے ناخوش اور مایوس ہیں۔اس سلسلہ میں ہمیں ہرحالت میں اور ہر وقت سانحہ ءمشرقی پاکستان کو یاد رکھنا ہوگا۔

نئے حکمرانوں کا فرض یہی ہوگا کہ وہ پاکستان میں امن بحال کریں۔امن شکن اور جرائم پیشہ لوگوں کا جلد از جلد خاتمہ کریں۔قانون تو چلتے پانی کی مانند ہوتا ہے، اسے چلتے رہنا ہوگا۔اس کے راستے میں غیر ضروری رکاوٹ نقصان کا موجب بن جایا کرتی ہے۔مجھے اس بات پر افسوس ہوتا ہے کہ آج تک ہم نے پاکستان میں بدامنی اور لاقانونیت کی وجوہات پر غور نہیں کیا ۔ میری ذاتی سوچ کے مطابق بدامنی کی سب سے بڑی وجہ ملک میں بے حساب بے روزگاری ہے،اگر اس بے روزگاری کی بیماری پر قابو پایا جائے تو بہت حد تک جرائم پر بھی قابو پایا جا سکتا ہے۔یورپ اور دیگر ترقی یافتہ ملکوں میں پاکستان کے مقابلے میں بہت کم جرائم ہوتے ہیں۔وجہ یہی نظر آتی ہے کہ ان معاشروں میں بے روزگاری کم ہے۔حکومت وہاں بے روزگار لوگوں کی مالی امداد کے علاوہ اور بہت سی سہولتیں دینے کا اعلان کرتی ہے۔اس سے لوگوں کے جذبات اور احساسات میں ٹھہراﺅ پیدا ہوتا ہے۔

پڑھے لکھے نوجوان ہی کسی معاشرے کا سرمایہ شمار ہوتے ہیں۔پاکستان میں اس طرح کے لاکھوں نوجوان اپنی تعلیمی سندیں رکھے بے روزگار ہیں۔کیا حکومت کا یہ فرض نہیں ہے کہ وہ ایسے تمام لوگوں کی کفالت کا اہتمام کرے اور ساتھ ہی ساتھ ان کے روزگارکا بندوبست بھی کرے۔ پاکستان میں ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔پاکستان کی زراعت میں بریک تھرو کی ضرورت ہے۔جب ہم سائنس اور ٹیکنالوجی کی بنیاد پر زراعت کا کام کریں گے تو دیکھتے ہی دیکھتے ہماری زرعی پیداوار میں 2/3گنا اضافہ ممکن ہو جائے گا۔زرعی پیداوار میں ہم نہ صرف خود کفیل ہوں گے ، بلکہ اپنی پیداوار کو برآمد بھی کرسکیں گے۔ہماری زمینیں دنیا کی بہترین زرعی زمینوں میں شامل ہیں۔صنعتی انقلاب بھی پاکستان میں جلد آئے گا۔صنعتی انقلاب دراصل زرعی انقلاب سے بہت حد تک جڑا ہوتا ہے۔زراعت اور صنعت دونوں کی ترقی ساتھ ساتھ چلتی ہے۔چین، روس، یورپ اور امریکہ کی مثالیں ہمارے سامنے موجود ہیں۔ان سے ہم بہت سے مفید اسباق سیکھ سکتے ہیں۔

ہمارے حکمران اپنی تمام تر توجہ ملکی مسائل کے حل کی طرف مبذول کردیں۔اپوزیشن جمہوری معاشروں میں بڑی اہمیت کی حامل ہوتی ہے۔آج کی اپوزیشن کل کی حکمران ہوسکتی ہے۔یہی جمہوریت کا حسن ہے۔قومی مسائل کے حل کے لئے اپوزیشن کا فرض ہے کہ وہ حکمرانوں کا ساتھ دے۔کشمیر کا مسئلہ، پانی کا مسئلہ، شدت پسندی، بجلی کا مسئلہ، جہالت، بے روزگاری وغیرہ وغیرہ....یہ تمام ایسے مسائل ہیں،جن کے حل کے لئے حکمران اور اپوزیشن جماعتوں کو مل کر متفقہ لائحہ عمل تیار کرنا ہوگا۔ شدت پسندی نے ہمیں قومی سطح پر بے حساب نقصان سے دوچار کررکھا ہے۔ہمارے شہریوں کے جان ومال کی حفاظت حکومت کا سب سے بڑا کام ہوتا ہے۔اس کام کی انجام دہی میں حکومت ناکام نظر آتی ہے۔سب سے پہلے ہمیں قانون کی حاکمیت کو بحال کرنا ہوگا۔یہی وقت کی سب سے اہم اور بڑی ضرورت ہے۔وہ لوگ جو سرعام قانون شکنی کرتے ہیں، ان سے سختی سے قانون کی روح کے مطابق نمٹنا ضروری ہوگیا ہے۔ہمارے ملک کی ترقی و خوشحالی کا دارومدار صرف امن سے وابستہ ہوگا۔اگر من و عن آئین پاکستان پر عمل کیا جائے تو امن کا قیام یقینی ہوجائے گا۔

یہ بھی یاد رکھا جائے کہ بہت حد تک بے روزگار اور بے کار لوگ ہی قانون شکنی کرتے ہیں۔ بے روزگاری پوری قوم کا مسئلہ ہے۔میاں محمد نوازشریف ،عمران خان اور دیگر تمام قومی رہنما اکٹھے ہو کر ہی پاکستان سے شدت پسندی، لاقانونیت کو ختم کرسکتے ہیں۔شدت پسندی اور قتل و غارت کی وجہ سے پاکستان کا وقار بہت بُری طرح مجروح ہو چکا ہے۔شدت پسندی ایک مشکل کام ہے۔ہم سب مل کر ہی اس برائی کو ختم کرسکتے ہیں۔پسماندہ علاقوں کی معاشی اور اقتصادی بہتری کے لئے ترقیاتی کاموں کو اولیت دی جائے اور ان علاقوں کو جلد از جلد پاکستان کے ترقی یافتہ علاقوں کے برابر لانا قومی وحدت اور یکجہتی کے لئے انتہائی ضروری ہے۔ بلوچستان،پنجاب، سندھ اور خیرپختونخوا کے دور دراز علاقوں کی پسماندگی کو دیکھ کر بہت دکھ ہوتا ہے۔آج کا انسان تو چاند کو فتح کرنے کے بعد کائنات میں مزید پیش قدمی کرنے کا فیصلہ کئے بیٹھا ہے۔ہمیں بھی اہل مغرب کی طرح ہر میدان میں حیرت انگیز کامیابیوں سے سبق سیکھنا ہوگا۔

میرے نزدیک پاکستان کی کامیابی اور ترقی کا راز قومی یکجہتی اور اتحاد میں موجود ہے۔ہمارے لئے جدید ترین علوم کو حاصل کرنا ہی ہماری زندگی اور آزادی کی علامت ہے۔ہمیں اپنے نظام تعلیم میں انقلابی تبدیلیاں لانے کی ضرورت ہے۔ہمیں اس بات کو دل و دماغ میں نقش کر لینا چاہیے کہ جب تک ہم سائنس اور ٹیکنالوجی سے متعلقہ تمام علوم کو حاصل نہیں کریں گے،اس وقت تک ہم اس دور کی ترقی یافتہ اقوام کی صف میں شامل نہیں ہو سکیں گے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ ہم جہالت کو ملک و قوم کا سب سے بڑا دشمن خیال کرتے ہوئے اسے ختم کرنے کے لئے کمربستہ ہو جائیں۔  ٭

مزید :

کالم -