انتخابی نعرے

انتخابی نعرے
انتخابی نعرے

  

عمران خان نے الیکشن دھاندلی کے خلاف اپنی مہم کو تیز کر دیا ہے۔ وہ جلسوں سے خطاب کر رہے ہیں اور حکومت کے لئے واضح پیغام اور وارننگ چھوڑ رہے ہیں کہ اُن کے تجویز کردہ چار حلقوں میں نادرا کے ذریعے ووٹوں کی تصدیق نہ کرائی گئی، تو وہ اپنی یہ مہم جاری رکھیں گے۔ انہوں نے خصوصی طور پر پنجاب کو اپنا ہدف یا ٹارگٹ بنا لیا ہے ، اس کی وجہ یہی ہو سکتی ہے کہ پنجاب کو مسلم لیگ(ن) کا قلعہ سمجھا جا تا ہے۔ یہاں اُن کی پوزیشن بہت مضبوط ہے۔عمران خاں سمجھتے ہیں کہ وہ اس قلعے میں شگاف ڈالنے میں کامیاب ہو گئے، تو آئندہ الیکشن میں جو 2017ءمیں ہوں گے، نواز شریف یا اُن کی جماعت مسلم لیگ (ن) کے لئے کافی مشکلات پیدا کر سکتے ہیں.... (گو کہ پی پی 107کے ضمنی انتخاب میں تحریک انصاف کی نگہت انتصار نے مسلم لیگ(ن) کے ذوالفقار بھٹی کو شکست دی ہے، لیکن اس میں عمران خان کی مقبولیت کا کمال کم اور مسلم لیگ(ن) کے عہدے داروں اور ورکروں کے اندرونی خلفشار کا کمال زیادہ ہے)۔

عمران خان کے مصاحبین یا قریبی ساتھیوں کا یہی خیال ہے اور تحریک انصاف کے جو پالیسی میکر ہیں، وہ بھی یہی سمجھتے ہیں کہ نواز شریف کے قلعے پنجاب کو ہلانے میں کامیاب ہو گئے، تو انہیں آئندہ اقتدار میں آنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ پنجاب میں تحریک انصاف کے بڑے بڑے جلسوں اور اُن میں کثیر تعداد میں لوگوں کی شرکت سے عمران خان کو یہ واثق گمان ہونے لگا ہے کہ چونکہ مسلم لیگ (ن) اپنے انتخابی وعدوں سے پیچھے ہٹ گئی ہے اور بجلی سمیت ہر طرح کے بحران کا پورے ملک کو سامنا ہے اور اُس کی کارکردگی خود اُن کے اپنے کارکنوں اور رہنماﺅں کے لئے سوالیہ نشان ہے، اس لئے آئندہ انتخابات میں جیت تحریک انصاف ہی کی ہو گی۔ عمران خان سمجھتے ہیں کہ انہوں نے پنجاب ”فتح“ کر لیا، تو وہ بلاشرکت غیرے پاکستان پر حکومت کرنے والے حکمران بن جائیں گے اور جس انتخابی منشور اور سوچ کے ساتھ سیاست میں قدم رکھے ہوئے ہیں، بالآخر اُس کی تکمیل ممکن ہو سکے گی۔

عمران خان کہتے ہیں کہ وہ لوگوں کی بھلائی کے لئے سیاست کر رہے ہیں تاکہ انہیں انصاف ملے، ہر طرح کا انصاف ،جس میں معاشی انصاف بھی شامل ہے....لیکن اگر خیبرپختونخوا میں تحریک انصاف کی حکومت کا جائزہ لیا جائے، تو بہت سے سوال اٹھتے ہیں، جن میں ایک اہم سوال یہ بھی ہے کہ کیا عمران خان خیبرپختونخوا میں لوگوں کو انصاف دے سکے ہیں؟ کیا اُن کے انتخابی منشور کے مطابق پوری طرح عمل ہو رہا ہے؟ جائزہ لیا جائے تو ہر سوال کا جواب نفی میں آئے گا، کیونکہ اس صوبے میں پچھلے ایک سال کی کارکردگی کا حال سب جانتے ہیں ۔ سب اچھی طرح آگاہ ہیں کہ خیبر پختونخوا کے لوگوں نے ”تبدیلی“ کے بڑے ہی مو¿ثر اور حسین و جمیل نعرے پر تحریک انصاف کو ووٹ دیئے تھے اور ووٹ بھی اس قدر زیادہ کہ وہ خیبر پختونخوا میں حکومت بنانے کے قابل بن گئے، مگر کیا ہوا؟ نظام جیسے چل رہا تھا، ویسے ہی اب بھی چل رہا ہے۔ فرق صرف اتنا آیا ہے کہ اب وہاں پیپلز پارٹی، جمعیت العلمائے اسلام یا اے این پی کی حکومت نہیں، تحریک انصاف اقتدار پر براجمان ہے، جس ”تبدیلی “کا ذکر عمران خان کر رہے تھے اور جس ” تبدیلی“ کے منتظر اس صوبے کے عوام تھے، اُس کا دور دور تک پتہ نہیں۔

اگرچہ عمران خان اب بھی اپنے حسین نعرے سے پیچھے نہیں ہٹے۔ وہ یوتھ کی بہت بڑی تعداد کو بھی اپنے ساتھ ملانے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ پڑھے لکھے لوگ بھی اُن کا ساتھ دے رہے ہیں، لیکن یہ ساتھ کب تک چلے گا۔ لوگ جلد ی میں ہیں۔ جلدی فیصلے چاہتے ہیں اور یہ خواہش بھی رکھتے ہیں کہ واقعی ”تبدیلی“ آئے، لیکن یہ تبدیلی کہیں نہیں ہے۔ نہ کسی شعبہ ¿ زندگی میں، نہ کسی سرکاری و نجی ڈیپارٹمنٹ میں....بہت سا وقت گزر گیا ہے اور بہت سا اور گزرے گا۔ کیا ہمارے عوام کے مقدر میں یہی لکھا ہے کہ وہ حسین اور متاثر کر دینے والے نعروں کے پیچھے بھاگتے رہیں۔ پیپلز پارٹی جب وجود میں آئی تھی تو اُس نے بھی عوام کو ایک بہت ہی دلکش نعرہ دیا تھا ، وہ نعرہ تھا ”روٹی، کپڑا اور مکان“ کا۔

بھٹو صاحب بھی برسر اقتدار رہے۔ بے نظیر بھٹو نے بھی اقتدار میں وقت گزارا، لیکن لوگوں کو یہ حسرت ہی رہی کہ انہیں وہ کچھ مل جائے، جو بنیادی انسانی حقوق کے زمرے میں آتا ہے۔ اس لئے ہم سمجھتے ہیں کہ انتخابی نعرے شاید ووٹ لینے کی غرض سے ترتیب دئیے جاتے ہیں، حقیقت میں اُن کا وجود تو ہوتا ہے، مگرصرف نعرے کی حد تک۔ لیکن اس میں بالکل بھی سچائی نہیں ہوتی۔ عمران خان پڑھے لکھے انسان ہیں۔ بہت کچھ کرنا چاہتے ہیں۔ شاید اُن کی امنگ بھی ہو، بہت کچھ کیا جائے، لیکن مسائل اتنے ہیں کہ انہیں غالباً موقع ہی نہیں مل رہا کہ اپنے خوابوں کو تعبیر دے سکیں۔عمران خان بہت سے لوگوں کے آئیڈیل ہیں۔ اگر وہ بھی اپنے ”تبدیلی“ کے نعرے کی لاج نہ رکھ سکے، تو شاید پھر لوگوںکا اس نعرے سے اعتبار ہی اٹھ جائے گا۔ اس لئے اس نعرے کی ”لاج“ رکھنے کے لئے ضروری ہے، بلکہ بہت ہی ضروری ہے کہ اس پر صدقِ دل سے عمل کیا جائے اور ثابت کیا جائے کہ کچھ لوگ نعروں کی لاج رکھنا چاہتے ہیں۔

مزید : کالم