تبدیلی آ ہی جاتی ہے

تبدیلی آ ہی جاتی ہے
تبدیلی آ ہی جاتی ہے

  


ملک میں اس قدر جلد تبدیلی کی باتیں کیوں ہونا شروع ہو جاتی ہیں؟.... وہ اس لئے کہ حکمران عوام سے کئے گئے وعدے بھول جاتے ہیں، وہ معاشرے میں اپنے مقصد اور مطلب کے گروپ تیار کر لیتے ہیں، جو عوام کے ساتھ جائز وناجائز طریقوں سے برسر پیکار ہو جاتے ہیں۔ ویسے بھی تبدیلی دنیا کی سب سے بڑی حقیقت ہے، انسان پیدائش سے موت تک مسلسل تبدیلی کے عمل سے گزرتا ہے۔ یہ تبدیلی جسمانی اور روحانی دونوں طریقوں سے رونما ہوتی ہے۔ خود سوچئے کہ دس سال پہلے آپ کو کیا پسند تھا۔ اب دس سال بعد آپ کو وہ قطعی طور پر پسند نہیں۔ ہم نہ تبدیلی کو روک سکتے ہیں اور نہ ہی تبدیل ہوئے بغیر ترقی کر سکتے ہیں۔ بزرگ کہتے ہیں کہ اگر ہم خود میں تبدیلی لانے کے قابل نہیں ہوں گے، تب بھی حالات و واقعات کے ساتھ سب کچھ خودبخود تبدیل ہونا شروع ہو جاتا ہے، چونکہ تبدیلی فطرت ہے، کوئی اس کو اچھا سمجھے یا بُرا، صحیح سمجھے یا غلط، تبدیلی آ کر رہتی ہے۔

چند سال پہلے ایک بہت بڑے سیاسی گھرانے کے چشم و چراغ کیمرے کے سامنے آنے سے کتراتے تھے، بلکہ خود فوٹو گرافی کو اچھا نہیں سمجھتے تھے، لیکن حالات کی تبدیلی کے ساتھ ساتھ ان کے خیالات بھی تبدیل ہو گئے ہیں۔ چند سال پہلے تک شناختی کارڈ اور پاسپورٹ پر خواتین کی واضح تصاویر کی بجائے ان کے انگوٹھے کے نشان اور نقاب والی تصاویر بھی زیادہ پرانی بات نہیں ہے، جبکہ اب سعودی عرب تک نے خواتین حاجیوں کے پاسپورٹ پر بغیر نقاب کے تصویر کو لازمی قرار دیا ہے، بلکہ اپنے ملک کی خواتین (بچیوں) کو کھیلوں میں حصہ لینے کی اجازت دے دی ہے۔ غرض تبدیلیاں ضرور آتی ہیں۔ ان کو روکنا شاید حکمرانوں یا دوسروں کے بس میں نہیں۔ یہ وقت کی ضرورت ہوتی ہے۔

جدید ترقی یافتہ ریاستوں میں خواتین اور مردوں کے حقوق برابر ہیں، پرانے وقتوں میں چونکہ روزگار کا حصول، مشقت اور طاقت پر منحصر تھا، لہٰذا مرد ہی یہ کا م کرتے تھے، مگر جدید دور میں روزگار کا حصول طاقت سے زیادہ ذہنی صلاحیتوں پر منحصر ہونے کی وجہ سے اب خواتین بھی ہر فیلڈ میں مردوں کے شانہ بشانہ ہیں۔ اس تبدیلی کے نتیجے میں خواتین نے جہاں سیاست، معیشت اور سماجی حوالوں سے اپنی شناخت بنائی، وہیں عسکری میدان میں بھی وہ تیزی سے آگے آ رہی ہیں۔ اب جنگیں نہ گھوڑوں پر لڑی جاتی ہیں اور نہ ہی ہاتھ میں بڑی بڑی تلواریں اٹھانی پڑتی ہیں۔ اب تلوار کی بجائے کلاشنکوف کے ذریعے لڑنا بہت آسان ہے، اس طرح خواتین اب جنگی جہاز بھی اڑاتی ہیں۔ بلاشبہ یہ مسلمان خواتین میں بہت بڑی تبدیلی ہے، حالانکہ مغربی ممالک نے بہت پہلے اپنی فوج میں خواتین کو بھرتی کیا۔ ایک غیر ملکی رسالے میں تھا کہ شام میں کرد نوجوان آرمی خواتین فوجیوں نے القاعدہ اور النصرہ فرنٹ جہادیوں کے شدت پسندوں کی بہت پٹائی کی ،اس کی مثال نہیں ملتی۔

اس تبدیلی کے نتیجے میں پسند کی شادیوں کا رجحان بڑھ رہا ہے، پرانے وقتوں میں لوگ اپنے رشتہ داروں، قبیلوں میں اور خاندانوں میں شادیاں کرتے تھے، اس سے محبت، یکجہتی پیدا ہوتی تھی، لیکن اب یکسر حالات تبدیل ہو گئے، جس میں ذات پات، خاندان کی کوئی پوچھ گچھ نہیں یا بہت کم برائے نام، اب یہ روایت باقی ہے انسان کی ترجیحات میں ضروریات، خواہشات کی نسبت زیادہ اہمیت رکھتی ہیں۔ بے شک ہمارے معاشرے میں پسند کی شادی کو اچھا نہیں سمجھا جاتا اور کئی مواقع پر پسند کی شادیاں کرنے والوں کو مار دیا جاتا ہے، چونکہ حفاظت جان و مال کی سلامتی کی ضمانت دینا ریاست کا کام ہوتا ہے، جس میں معذرت کے ساتھ پاکستان کی حکومت بالکل ناکام ہے، امن و امان کی صورت حال مخدوش ہو چکی ہے، جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا قانون لاگو ہے۔ زمانہ قدیم میں جو اجارہ داری مذہب کو حاصل تھی، وہ اب قانون کی بالادستی کو حاصل ہو رہی ہے۔ قانون سے مراد جمہوری عمل کی وجہ سے وجود میں آنے والے قوانین ہیں نہ کہ بادشاہوں کے شاہی فرمان اور نہ ہی چند مخصوص مذہبی لوگوں کی طرف سے تشریح کردہ قانون۔ آج کے مہذب جمہوری معاشرے میں قانون سازی کے عمل میں جمہوری اتفاق رائے کو سب سے زیادہ اہمیت حاصل ہے۔ پاکستان کی چند برسوں کی تاریخ کے علاوہ اگر نظر ڈالی جائے، تو ہرآمریت یا مذہبی اور لسانی شدت پسندی کو آئین اور قانون نے شکست دی ہے، لیکن چند موقعوں پر قانون کے رکھوالے بھی حکمرانوں کی منشاءکے مطابق قانون کو استعمال کر چکے ہیں، جس کی وجہ سے پاکستانی معاشرہ اور ملک مختلف خراب حالات سے دوچار ہو چکا ہے۔

وطن عزیز گزشتہ ایک دہائی سے جس طرح دہشت گردی، انتہا پسندی اور فرقہ واریت کی آگ میں جھلس رہا ہے، اس نے قومی معیشت، سیاست، صحافت سمیت ہر شعبہ زندگی کو بُری طرح متاثر کیا ہے۔ تمام مکاتب فکر کے اکابرین اور عوام الناس خوف و ہراس میں مبتلا اور شدید عدم تحفظ کا شکار ہیں اور ملک کے مستقبل کے حوالے سے فکر مند نظر آتے ہیں۔ پاکستان کبھی امن و امان کے حوالے سے قابل ِ اعتبار قرار دیا جاتا تھا۔ غیر ملکی سرمایہ کاری کے لئے پاکستان کو ترجیح دیتے تھے، ملکی معیشت بھی استحکام کی طرف رواں تھی۔ عوام مطمئن اور پُرسکون تھے، ملک کا مستقبل تابناک نظر آ رہا تھا، لیکن آج یہ حالت ہے کہ چوری، ڈکیتی،اغوا برائے تاوان، بھتہ خوری، سٹریٹ کرائمز، ٹارگٹ کلنگ، خود کش حملے، بم دھماکے، دہشت گردی، قتل و غارت، فرقہ واریت و انتہا پسندی کے عناصر نے ملک کو اپنے شکنجے میں جکڑ لیا ہے،جو قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لئے بہت بڑا چیلنج ہے۔ دہشت گردی کی جنگ میں شامل ہونا ملک و قوم کے لئے ایک عذاب بن گیا ہے، ہزاروں بے گناہ لوگ اور فوجی جوان اس جنگ میں اللہ کو پیارے ہو چکے ہیں۔ پاکستانی معیشت کو تقریباً 70ارب کا خسارہ ہو چکا ہے۔

ملک میں امن و امان کا قیام ایک چیلنج بن چکا ہے۔ رینجرز، فرنٹیئر کانسٹیبلری اور پولیس کے اہلکار و افسران اپنی تمام تر کوششوں، جدوجہد کے باوجود امن قائم کرنے میں پوری طرح کامیاب نہیں ہو سکے۔ ان اداروں کی کارکردگی پر ہر جانب سے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں، لیکن حیرت و افسوس کی بات ہے کہ شرپسند، تخریب کار اور جرائم پیشہ افراد جس منظم طریقے سے دہشت گردی کی کارروائیاں کر رہے ہیں اور کراچی سے خیبر تک آگ و خون کی ہولی کھیلی جا رہی ہے، اسے روکنے اور دہشت گردوں کا نیٹ ورک توڑنے میں ہمارے عسکری اداروں کے اہلکار اور خفیہ ایجنسیوں کے بہادر نوجوان بھی پوری طرح کامیاب نہیں ہوئے۔ بے شک سول حکومت ملک میں امن و امان قائم کرنے کی ذمہ دار ہوتی ہے۔ پاکستان کی موجودہ حکومت کی کوئی سیاسی یا دوسری مجبوری ہو سکتی ہے، جس کی و جہ سے وہ عسکری اداروں کو مکمل اختیارات دینے میں لیت و لعل سے کام لے رہی ہے۔ بہرحال اگر حکومت ملک اور عوام کی حفاظت کرنے میں ناکام ہو گئی ہے تو پھر ملک میں حکومت کی تبدیلی بہت ضروری ہے، کیونکہ ملک میں صورت حال زیادہ خراب رہنے سے حالات کنٹرول سے باہر بھی ہو سکتے ہیں۔

مزید : کالم