ہاؤسنگ کالونیاں عوام سے فراڈ

ہاؤسنگ کالونیاں عوام سے فراڈ
 ہاؤسنگ کالونیاں عوام سے فراڈ

  


علماء کرام فرماتے ہیں کہ نبی اکرمؐ نے فرمایا ہے کہ جب کسی شہر کی آبادی بڑھ کر ایک خاص حد تک پہنچ جائے تو اسے پھیلنے سے روک کر نیا شہر بسا لینا چاہیے۔پاکستان اسلامی ملک ہے، یہاں مسلمان بستے اور ایمان رکھتے ہیں، لیکن فرمان نبویؐ پر عمل نہیں کرتے۔اس کی سب سے بڑی مثال شہروں کی آبادی کے حوالے سے فرمان نبیؐ ہے، اس پر عمل تو دور کی بات غور ہی نہیں کیا جاتا،لاہور کو ملاحظہ فرما لیں تو جوں جوں آبادی بڑھتی جا رہی ہے۔شہر کو بڑھایا جا رہا ہے، اب تو صورت حال یہ ہے کہ لاہور پھیل کر چاروں طرف پچاس پچاس میل تک چلا گیا ہے اور ایسی دور دراز کی آبادیوں کے لئے کوئی سٹی رابطہ سڑکیں بھی نہیں بنیں۔وہی پرانی ملتان روڈ ، فیروز پور روڈ اور جی ٹی روڈ ہیں، جواب ٹریفک کا بوجھ بھی برداشت نہیں کر پا رہیں۔اس کے علاوہ لاہور شہر کے اردگرد زرعی زمین جو شہر کے لئے سبزیوں کی فراہمی کا ذریعہ تھی، ختم ہو گئی اور ایسا ہی دوسرے شہروں کے ساتھ بھی ہو رہا ہے۔

آبادی کا بوجھ تقسیم کرنے کے لئے قصبوں کو باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت شہر بنایا جا سکتا ہے۔شہر کے پھیلاؤ کے ساتھ ساتھ جو لوٹ مار ہوئی اور ہو رہی ہے ، اس نے بھی شہریوں کو کنگال کرکے رکھ دیا ہے۔ہاؤسنگ سکیموں کے نام پر بہت فراڈ ہو رہے ہیں۔کوئی بھی صاحب کوئی نام رکھ کر ہاؤسنگ سکیم کا اعلان کرتے اور جدید ترین سہولتوں کی فراہمی کا یقین دلا کر اقساط پر پلاٹ دینے کے اشتہار دیتے ہیں، اس کے بعد شہریوں سے رقوم لے کر غائب ہو جاتے ہیں۔لوگ مارے مارے پھرتے ہیں۔ایک قسم ان بلڈرز کی ہے جو چند ایکڑ زمین لے کر اس کے پلاٹ بناتے اور ان کی تعداد سے کئی گنا زیادہ بکنگ کر لیتے ہیں۔جب خریدار پلاٹ لینے جاتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اول تو ان کا پلاٹ ہی نہیں،اگر کوئی ہے تو اس پر کوئی دوسرا قابض ہے۔یوں نہ پلاٹ ملتا ہے اور نہ رقم واپس اگر کوئی ضد کرے تو اس کے ساتھ غنڈہ گردی کی جاتی ہے ۔لاہور بیدیاں روڈ اور رائے ونڈ روڈ کی کئی رہائشی سکیموں میں لوگوں کی رقوم پھنسی ہوئی ہیں اور وہ پریشان ہیں ۔

ایک مثال ملک کے بہت بڑے بلڈر گروپ کی بھی ہے۔یہ گروپ کروڑوں روپے کی پبلسٹی کرکے لوگوں کو متوجہ کرتا ہے اور ہزار ہزار پلاٹوں کے عوض لاکھوں فائلیں بیچ کر اربوں روپے جمع کر لیتا ہے۔اس کے بعد پراپرٹی ڈیلر ان فائلوں سے کاروبار کرتے رہتے ہیں اور اصل پلاٹوں کی تعداد سے زیادہ فائلیں گھومتی رہتی ہیں۔سوال یہ ہے کہ کیا کسی ایک فرد کو یہ اجازت دی جا سکتی ہے کہ وہ پوری معیشت ہی کو یرغمال بنالے۔اطلاع کے مطابق ترقیاتی اداروں کے قوانین ہیں، لیکن یہ پرانے اور ناقص ہیں، ایسی جعلسازیوں کا سدباب نہیں کرتے جو رہائشی کالونیوں کے نام پر لوگوں کے ساتھ ہو رہی ہیں۔ ضرورت اس امرکی ہے کہ ایسے تمام قوانین کا جائزہ لے کر باقاعدہ مربوط اور نقائص سے پاک قانون بنایا جائے، جس کی رو سے نہ صرف ان فراڈیوں کا احتساب کرکے مظلوم اور معصوم لوگوں کی ڈوبی رقوم واپس دلائی جا سکیں، بلکہ آبادیوں کے بے ہنگم پھیلاؤ کو روکنے کے علاوہ اجارہ داریاں بھی نہ بن سکیں۔وزیراعظم صاحب کو نبی اکرمؐ کے فرمان کو پیش نظر رکھنا ہوگا۔

مزید : کالم