ایس او ایس ویلج

ایس او ایس ویلج
 ایس او ایس ویلج
کیپشن: dr hamid islaam

  

وریسہ اسلام ٹرسٹ جو کہ ایکNon Profilable ادارہ ہے 2013ء میں رجسٹرڈ ہوا۔ اس کے سپیشل تعاون اور کاوشوں سے سینکڑوں لاوارث بچوں کے چہروں پر جو خوشیاں تھیں، وہ قابل بیان نہیں ہے۔ ایک دن کے Field Trip میں بچوں کی ضروریات اور ان کی چھوٹی چھوٹی خوشیوں کو بڑے قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔ مجھے زندگی کا یہ دوسرا رُخ دکھا نے پر میں وریسہ اسلام ٹرسٹ کا انتہائی مشکور ہوں۔ مُنہ بولی ماں اور بہن بھائیوں کے ساتھ یہ بچے دنیا میں درپیش ہر رکاوٹ کو عبورکرنے کے لئے تیار ہیں۔ عمر کے ہر حصے سے تعلق رکھنے والے ایس او ایس ویلج کے یہ بچے انتہائی ذہین، سلیقہ مند اور اخلاقی لحاظ سے well groomed ہیں۔ معلوم ہوا کہ عملی زندگی میں پاکستان کے چند بڑے تعلیمی اداروں کے ساتھ ان کی وابستگی اور شہرت یافتہ ملٹی نیشنل کمپنیوں میں ان کی خدمات قابل تحسین ہیں۔ ایس او ایس ویلج اِن بچوں کو ماں کے عِلاوہ ایک کنبہ گھر او ر گاؤں جیسی بیش بہا نعمتیں مہیا کرتا ہے اور اِس ادارہ کی بدولت جوکہ50 ہزار بچوں اور 15ہزار نوجوانوں کو اپنی آغوش میں لئے ہوئے ہے، انتہائی ہونہار اورقابل ِ فخر سپوت اِس قوم کی افرادی قوت میں شامل ہو رہے ہیں۔ یہ اِدارہ اِن لاوارث پھولوں کو ایک عظیم اور ذمہ دار شہری بناتے ہوئے کم و بیش 60 (ساٹھ) سال سے اس قرع عرض پر موجود لاکھوں بے سہارا اور یتیم بچوں کی کفالت کر رہا ہے۔

ایس او ایس ویلج کے متعلق معلومات شیئر کرتے ہوئے مَیں ضروری سمجھتا ہوں کہ آسٹریا کے اُس عظیم شخص کو جس کا نام Hermann Gmeiner ہے، خراج تحسین پیش کروں، جس نے 1949ء میں ایس او ایس ویلج کی بنیاد رکھی اور \"Save Our Souls\" کے مشن کے ساتھ میدانِ عمل میں نکلا اور فلاحِ اِساں کہ یہ منصوبہ شروع کیا۔ آج سے 60 (ساٹھ) سال پہلے اس شخص کے ایس۔او۔ایس ویلج کے لگائے ہوئے پودے کی جڑیں پوری دنیا میں پھیل چکی ہیں اور Dalai Lama اورNelson Mandela جیسی عظیم شخصیات بھی اس ادارے کی سپورٹر اور مداح رہی ہیں۔2002 ء میں Conred N-Hilton Humanitarian Prize وصول کرنے والا یہ ادارہ 2012ء میں دنیا کی 100 بڑی NGOS میں اس کا نمبر33 پر رہا ہے۔

یہاں پاکستان میں والدین کی ناگہانہ موت، بیماری، گھریلو ناچاکی اور گھریلو تشدد کی وجہ سے اپنی حقیقی اور Biological فیملیز کے ساتھ نہ رہ سکنے والے بچوں کو اس ادارے میں پناہ دی اور اُنہیں exploit یا spoilہونے سے بچا لیا ۔ پاکستانی سخی دِل لوگ بھی بے حد توصیف کے مُستحق ہیں جو اپنی Donations سے لاہوراور دوسرے شہروں میں ایس۔ او۔ ایس ویلج انتہائی کامیابی سے چلا رہے ہیں۔ اور بنیادی حقوق سے محروم بچوں کو ایک مصنوعی خاندان کے ذریعے قابلِ فخر اور مُفید شہری بنارہے ہیں۔ ایس۔ او۔ ایس ویلج میں ہر دس بچوں کو ایک گھردیا جاتا ہے، جس کی سربراہ ماں ہوتی ہے اور کئی ایسے گھر مل کر \"SOS Village\" بنتا ہے ۔

میری رائے میں انتہائی ضروری ہے اِس مُلک میں زیادہ سے زیادہ ایس۔ او۔ ایس ویلج بنائے اور چلائے جائیں اور نیم جاں کو جاں اور بے بسی کو زباں عطا کی جائے ۔ صاحب ثروت حضرات دِل کھول کر اِن اِداروں کو کامیابی سے چلانے میں مدد دیں ۔

Thanks to Wareesa Islam Trust اورThanks to SOS Village

مزید :

کالم -