امریکی صدر کا ویسٹ پوائنٹ اکیڈمی سے خطاب

امریکی صدر کا ویسٹ پوائنٹ اکیڈمی سے خطاب
امریکی صدر کا ویسٹ پوائنٹ اکیڈمی سے خطاب

  


امریکہ کی ویسٹ پوائنٹ ملٹری اکیڈمی، گویا پاکستان کی PMA کے برابر ہے۔.... ان دونوں عسکری درس گاہوں میں کئی مماثلات بھی ہیں اور تضادات بھی۔ اگرچہ یہ کالم ویسٹ پوائنٹ کی تاریخ رقم کرنے کی خاطر نہیں لکھا جا رہا پھربھی ایک مختصر سا تعارف بیشتر قارئین کے لئے شائد معلومات افزا ہو۔

ویسٹ پوائنٹ ملٹری اکیڈمی نیو یارک میں دریائے ہڈسن کے کنارے ایک خوبصورت مقام پر واقع ہے۔ اس کا قیام1802ءمیں عمل میں لایا گیا تھا۔ چار سال پر پھیلے اس تربیتی کورس میں لڑکے اور لڑکیاں دونوں حصہ لیتے ہیں۔اب تک لڑکوں اور لڑکیوں کے داخلے کا تناسب 85فیصد اور15فیصد رہا ہے۔ ہر سال اس میں تھوڑی بہت تبدیلی ہو جاتی ہے۔ کبھی لڑکیاں 17یا 18فیصد ہو جاتی ہیں اور کبھی یہ تناسب گھٹ کر13 یا 14 فیصد پر بھی آ جاتا ہے۔ درخواست دہندگان کی کل تعداد میں سلیکشن کا تناسب تقریباً9 یا 10فیصد رہا ہے۔ یعنی اگر 100امیدوار درخواست دیں تو9 یا 10ویسٹ پوائنٹ میں بار پاتے ہیں۔ عمر کی شرط18سال اور 23سال کے درمیان ہے۔ کنوارا ہونے کی شرط بھی ہے۔ (ڈی فیکٹو نہ سہی، ڈی جیور ضرور ہے!)

 تعلیم کی کم سے کم حد ہائی سکول سے فارغ التحصیل ہونا ہے۔ ریاضی، تاریخ (صرف امریکہ کی تاریخ) الجبرا، جیومیٹری، جغرافیہ اور معلومات عامہ کے مضامین (سکول میں زیر تعلیم رہنے کے دوران) لازمی ہیں۔ سیکنڈ ڈویژن میٹرک پاس امیدوار درخواست دینے کا / کی اہل ہے۔

لیکن ایک شرط جو بہت ضروری اور کڑی ہے وہ یہ ہے کہ امیدوار کو اپنے علاقے کے رکن ِ کانگریس کی سفارش درکار ہوتی ہے۔ اس سفارش کے بغیر درخواست Consider ہی نہیں کی جاتی۔ آرمی میں کمیشن پانے کے بعد پانچ برس تک سروس کرنا لازمی ہے اس کے بعد تین سال تک آپ مزید ریزروز میں شمار ہوتے ہیں۔ ویسے پانچ برس کے بعد اگر آرمی کو خدا حافظ کہنا چاہیں تو چشم ماروشن، دل ماشاد کہا جاتا ہے۔

پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں ایک تو کسی رکن ِ اسمبلی کی سفارش کی ضروت نہیں اور دوسرے کمیشن پانے کے بعد اگر سروس چھوڑنا چاہیں تو اذنِ عام نہیں بلکہ چند پابندیوں کے بعد ایسا کیا جا سکتا ہے۔

سالانہ Intake عام طور پر 1150 اور 1200 کے درمیان رہتی ہے۔ داخلہ ملنے کی صورت میں تمام اخراجات حکومت برداشت کرتی ہے۔ 600ڈالر ماہانہ وظیفہ دیا جاتا ہے جو کیڈٹوں کی وردی، کتب اور دیگر اخراجات کے لئے کافی ہوتا ہے۔

اس تمہید کے بعد آتے ہیں صدرامریکہ کے حالیہ دورہ¿ ویسٹ پوائنٹ کی طرف جو 28مئی 2014ء(بدھ) کے روز کیا گیا۔اس روز اکیڈمی میں 1064 کیڈٹس (مختلفTermsمیں) حاضر تھے، جنہوں نے اپنے کمانڈرانچیف کے خطاب کو سنا۔

اس خطاب کو مختلف معانی پہنائے جا رہے ہیں۔ اوباما کے مخالفین نے تو یہاں تک کہا ہے کہ تقریباً 20فیصد سے بھی کم کیڈٹس نے ان کے خطاب پر تالیاں بجائیں اور اکثریت نے اس خطاب کو توجہ سے سنا ہی نہیں۔ 20فیصد کیڈٹس نے صرف اس وقت خوشی کا اظہار کر کے تالیاں پیٹیں جب کمانڈرانچیف نے یہ کہا کہ: ”2001ءکے بعد اب پہلی مرتبہ ایسا ہو گا کہ آپ میں کسی کو عراق یا افغانستان کی جنگ میں نہیں جانا پڑے گا۔“

امریکی صدر کی اس تقریر کو امریکہ کی خارجہ پالیسی میں ایک بڑی تبدیلی (Shift) کا آغاز بھی بتایا جا رہا ہے۔ اوباما کی دوسری ٹرم کے اختتام کو ابھی اڑھائی برس باقی ہیں اس لئے ان کے ناقدین کہتے ہیں کہ انہوں نے امریکہ کی اس امتیازی حیثیت کے خاتمے کی طرف پہلا قدم اٹھایا ہے جو اس کو دوسری جنگ عظیم کے خاتمے کے بعد 60برسوں سے حاصل رہی ہے۔.... اور یہ ایک بڑی رسوا کن بات ہے۔

اوباما کے ناقدین نے کریمیا کی آزادی اور سوویت یونین کے ساتھ اس کا الحاق کرنا، یوکرائن میں روس کو مُنہ توڑ جواب نہ دینا اور شام میں بشار الاسد کے خلاف باغی فوج کی امداد نہ کرنا اوباما کے گزشتہ دور کی تین بڑی ناکامیاں ہیں۔

قارئین جانتے ہیں کہ حال ہی میں جب اوباما نے کابل کا دورہ کیا تھا تو حامد کرزئی نے اوباما سے ملاقات کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ اس انکار کی وجوہات چند در چند بتائی جاتی ہیں۔ مثلاً کرزئی نے امریکی فورسز کے (بعد از دسمبر 2014ئ) افغانستان میں قیام کے دوران ان کی سیکیورٹی کی ضمانت دینے سے انکار کر دیا تھا اور اس معاہدے پر یہ کہہ کر دستخط نہیں کئے تھے کہ اس پر آنے والی نئی حکومت دستخط کرے گی۔ دوسرے اوباما نے کرزئی کو افغانستان کی بگرام ائر بیس پر آنے کی دعوت دی تھی جبکہ کرزئی کا خیال تھا کہ اوباما اُن کے قصر ِ صدارت میں ان سے ملنے آتے۔ کرزئی کا بگرام میں جانا شائد مستقبل قریب کی عبداللہ عبداللہ حکومت کے حق میں شمار کیا جاتا۔ لیکن کرزئی کو معلوم ہے کہ ماضی کے شمالی اتحاد والوں کا سکہ زیادہ دیر تک افغانستان میں نہیں چل سکتا اور مستقبل دیدہ میں طالبان کی حکومت افغانستان میں نوشتہ ¿ دیوار ہے۔....شائد یہی وجہ ہے کہ امریکہ نے دسمبر2014ءکے بعد بھی5سے10ہزار تک امریکی ٹروپس (دسمبر 2016ءتک) افغانستان میں سٹیشن کرنے کا اعلان کیا ہے۔.... کہا جا رہا ہے کہ امریکہ کو شائد اپنا یہ فیصلہ تبدیل کرنا پڑے اور طالبان ان پانچ دس ہزار امریکیوں کو دسمبر 2016ءسے بہت پہلے اپنے کوہ ودمن سے نکال باہر کریں۔

بارہ چودہ برس تک عراق، افغانستان اور لیبیا میں وہاں کی حکومتوں کا تیا پانچہ کرنے (اور اپنا بھی کروانے )کے بعد صدر امریکہ کو اب یہ خواب آیا ہے کہ یہ سودا بہت مہنگا تھا!

ویسٹ پوائنٹ میں اوباما کے خطاب کے چند فقرے یہ بھی تھے جو ان کی آئندہ خارجہ/ سیکیورٹی پالیسی کے نئے خدوخال کا سراغ دیتے ہیں:

(1) اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اس خارجہ پالیسی کو بدلیں جو ہم نے ایک عشرے سے زیادہ مدت تک جاری رکھی ہوئی ہے اور جس کا فوکس افغانستان اور عراق کی جنگوں پر رہا۔

(2) اگر آپ کے پاس ہتھوڑا ہو تو یہ ضروری نہیں کہ آپ دنیا کی ہر پرابلم کو کیل سمجھ لیں۔

مَیں بدھ کو صدر امریکہ کی یہ تقریر Sky News پر Live سُن رہا تھا۔ ان کے سامنے ایک ہزار سے زائڈ کیڈٹ دم سادھے بیٹھے تھے۔ اوباما کو اپنی تقریر”حفظ“ کرنے میں کمال حاصل ہے۔ ان کا لب و لہجہ اتنا لاﺅڈ اور اتنا کلیئر ہوتا ہے کہ سامع یا ناظر کو کسی شک کی گنجائش نہیں رہتی! جب وہ ”ہتھوڑے اور کیل“ والا فقرہ ادا کر رہے تھے تو کیڈٹس کی تفہیم بہت پیچھے رہ گئی تھی اور کمانڈرانچیف بہت آگے نکل گئے تھے۔

لیکن وہی جو کسی نے زود پشیماں کے پشیمان ہونے کی بات کی تھی تو امریکی صدر کو اب یاد آیا ہے کہ امریکی ہتھوڑے کو ہر کیل پر مارنے کا مطلب کیا ہے۔.... ان کو اب معلوم ہوا ہے کہ بعض کیل سٹین لیس سٹیل کے بھی ہوتے ہیں اور ان کی ”ٹوپی“ فولاد سے بھی زیادہ مضبوط کسی اور دھات کی بنی ہوتی ہے۔ اس پر جب ہتھوڑے کی ضرب پڑتی ہے تو اس ٹوپی کا تو کچھ زیادہ نہیں بگڑتا البتہ ہتھوڑے کے ”پھل“ میں گڑھا پڑ جاتا ہے اور دستہ ٹوٹ جاتا ہے!

مَیں جب اوباما کا یہ فقرہ سُن رہا تھا تو میری نگاہوں تلے وہ ہزاروں لاکھوں افغان، طالبان، عراقی اور لیبائی گزرنے لگے جو امریکی توپوں، بموں، میزائلوں، ٹینکوں اور ڈرونوں کا نشانہ بنے۔ یادش بخیر نو گیارہ کا جب حملہ ہوا تو امریکہ کی ایک بلڈنگ کو برباد ہوتے نجانے کتنی بار دنیا کو دکھایا گیا تھا۔ لیکن کسی ایک ایسے امریکی مرد و زن کو نہیں دکھایا گیا جو اُن2700 یا3000 مرنے والوں میں شامل تھے جن کا ایک عرصے تک ماتم کیا گیا اور اب بھی کیا جا رہا ہے۔.... کیا امریکہ اپنی پبلک کو وہ مناظر دکھانے سے گھبراتا ہے؟....

عراق، افغانستان اور ہمارے فاٹا میں جن حملوں اور ڈرونوں نے ہزاروں مسلمان شہید کئے، ان کے مناظر بھی خال خال دکھائے گئے۔ امریکہ کے جو ہزاروں فوجی افغانستان کی جنگ میں مارے گئے ان کی کوئی ویڈیو بھی امریکہ کے کسی چینل پر نہیں دکھائی جاتی۔ جب امریکی طیارے، امریکی فوجیوں کی لاشوں کو لے کر امریکی ائر بیسوں پر اترتے تھے تو ان کے کلپس بھی منظر ِ عام پر نہ لائے گئے۔ مبادا کہ امریکہ کا عالمی تشخص مجروح ہو جائے۔

لیکن اب دیکھئے کہ امریکی صدر خود یہ اعتراف کر رہا ہے کہ امریکہ کی یہ پالیسی غلط تھی۔ اب وہ کہہ رہا ہے کہ ہر مسئلے کا حل عسکری قوت نہیں ہوتی۔ امریکہ کو ہر مخالفت کا جواب ٹینک یا ڈرون سے نہیں دینا چاہئے۔ لیکن اوباما کی افواج توگزشتہ15برس سے یہی کرتی آ رہی ہیں اور اس کا نشانہ زیادہ تر وہ مسلمان بنتے آ رہے ہیں جن کا واحد جرم ،جرم ِ ضعیفی تھا!

مگر کہیں کہیں اور کبھی کبھی یہ جرمِ ضعیفی بھی طاغوت کے سامنے سینہ سپر ہو جاتا ہے۔ اور جب ایسا ہوتا ہے تو اگرچہ حملہ آور اور زیر ِ حملہ میں کسی بھی حوالے سے قوت کا کوئی تقابل نہیں ہوتا، پھر بھی آخر کار حملہ آور کو یہ کہنا پڑتا ہے کہ ”ہمارے پاس ہتھوڑا تو ہے لیکن ہر مسئلہ، کیل (Nail) نہیں ہوتا کہ اس پر مار دیا جائے“۔

مجھے ہتھوڑے اور کیل کی اس مثال پر کسی فارسی شاعر کا ایک لاجواب شعر یاد آ رہا ہے ۔ افغانستان کے وہ شہدا جو ان14برسوں میں ویسٹ پوائنٹ سے فارغ التحصیل ہونے والے امریکی آرمی آفیسرز کی جدید وار ٹیکنالوجی کا نشانہ بنے اور جن کی مادری زبان فارسی تھی (یا بیشتر فارسی سمجھتے تھے) وہ اس شعر کی معنویت سے بخوبی آگاہ ہوں گے۔ اور شائد اس میں بیان کی گئی حقیقت ِ ثابتہ ہی کا اثر ہو جس نے افغان قوم اور طالبان کو یہ حوصلہ بخشا کہ انہوں نے امریکی فوجیوں کے جورو ستم کا بھرم کھول کر رکھ دیا۔.... وہ شعر یہ ہے:

صدائے تیشہ کہ برسنگ می خورد دگر است

خبر بگیر کہ آوازِ تیشہ و جگر است

(وہ ہتھوڑا جو پتھر پر مارا جاتا ہے اس کی آواز اور ہوتی ہے۔ لیکن آگاہ رہو کہ جو تیشہ جگر پر مارا جاتا ہے اس کی آواز کچھ اور معانی رکھتی ہے!)

مزید : کالم