خدا کا واسطہ!

خدا کا واسطہ!
خدا کا واسطہ!

  


وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے اپوزیشن کو خدا کا واسطہ دیا ہے، تو مَیں سوچ رہا ہوں کہ یہ واسطہ تو ہر پاکستانی کسی نہ کسی حوالے سے آئے روز دیتا ہے۔ کہیں لوگ بجلی کے لئے خدا کا واسطہ دیتے ہیں، کہیں گیس کے لئے، کہیںخدا کا واسطہ دے کر انصاف مانگتے ہیں اور کہیں علاج و معالجے کی بھیک طلب کرتے ہیں۔ پچھلے دِنوں طالبان کو بھی خدا کے واسطے دیئے گئے تھے کہ وہ معصوم انسانی جانوں کو قتل کرنے سے باز رہیں۔ ایک مسلمان کے پاس آخری سہارا یہی ہوتا ہے کہ وہ کسی ظالم کو خدا کا واسطہ دے کر ظلم سے باز رکھنے کی کوشش کرے۔ تاہم وزیراعظم میاں محمد نواز شریف ملک کے طاقتور ترین حکمران ہونے کے باوجود اگر یہی راستہ اپناتے ہیں، تو حیرت ہوتی ہے۔ وہ پاکستان کو چلتا اور آگے بڑھتا دیکھنا چاہتے ہیں اور اسی لئے احتجاجی سیاست کرنے والوں کو خدا کا واسطہ دے کر کہہ رہے ہیں کہ پاکستان کو آگے چلنے دیں، بڑھنے دیں، اُن کی یہ بات مخالفین کو سمجھ آتی ہے یا نہیں، اس کا اندازہ تو آنے والے دِنوں میں ہو گا، مگر اتنا ضرور ہے کہ مخالفین نے وزیراعظم کو اس بے فکری سے محروم کر دیا ہے، جس میں وہ اقتدار میں آنے کے بعد سے اب تک زندگی گزار رہے تھے۔

وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کے لہجے میں مجھے بہت زیادہ درد مندی اور پریشانی نظر آئی۔ پہلی بار ایسا لگا کہ جیسے انہیں اپنے اردگرد سازش کا تانا بانا نظر آ رہا ہے۔ پہلے انہوں نے کہا کہ80ءکی دہائی والی سیاست کا دور چلا گیا، اُس وقت اُن کا لہجہ کچھ اور تھا، مگر نندی پور میں خطاب کرتے ہوئے اُن کے لہجے میں واضح قسم کی مایوسی اور جھنجھلاہٹ نظر آئی۔ البتہ ایک بات نمایاں تھی کہ انہوں نے روایتی حکمرانوں والا انداز تخاطب نہیں اپنایا۔ ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف جب تحریک چل رہی تھی، تو وہ یہ غلطی کر بیٹھے تھے، انہوں نے اپنی کرسی کے ہتھے پر ہاتھ مار کر کہا تھا کہ میری کرسی بہت مضبوط ہے کسی کو خوش فہمی کا شکار نہیں ہونا چاہئے۔ یہ بات ان کی سیاست کے لئے زہر قاتل ثابت ہوئی، اس بات نے اُن کے خلاف چلنے والی تحریک کو مزید ہوا دی اور بالآخر وہ حالات کی نذر ہو گئے۔ وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے اس طرز عمل کی بجائے ایک دوسرا راستہ اختیار کیا، اپنے خلاف ہونے والی سازشوں کو ایک خاص رنگ میں تسلیم کر کے مخالفین کو خدا کے واسطے یہ سازشیں ختم کرنے کی تلقین کی، تاکہ ملک آگے بڑھتا رہے۔ اب سوال یہ ہے کہ سیاست میں ایسی باتیں کارگر ثابت ہوتی ہیں یا نہیں۔ میرا خیال ہے سیاست اس قسم کے تصورات سے عاری ہوتی ہے۔ بے رحمی کا عنصر جس قدر سیاست میں موجود ہے، شائد ہی کسی اور جگہ ہو۔ اس شعبے میں رعایت کو حماقت سمجھا جاتا ہے، اس لئے میرا نہیں خیال کہ اس خدا کے واسطے کا حکومت کے مخالفین پر کوئی اثر ہو گا۔ اُلٹا اس بات سے انہیں مزید حوصلہ ملا ہو گا کہ وزیراعظم میاں محمد نواز شریف اتنے کمزور ہو چکے ہیں کہ اب بات خدا کے واسطوں تک پہنچ گئی ہے۔

وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے یہ بات شاید تجاہل ِ عارفانہ کے انداز میں کہی ہے کہ احتجاج کرنے والوں کا ایجنڈا سمجھ سے بالاتر ہے، حالانکہ اُن سے زیادہ کون اس بات کو جانتا ہے کہ اُن کے مخالفین کا ایجنڈا کیا ہے۔ حکومت کی رخصتی کے لئے وہ سب اکٹھے ہیں اور کل کی بجائے آج چاہتے ہیں کہ حکومت رخصت ہو جائے۔ وزیراعظم اگر غور کریں تو انہیں پاکستان عوامی تحریک اور مسلم لیگ(ق) کے درمیان ہونے والے معاہدے میں بہت سی ایسی باتیں مل جائیں گی، جو حکومت کی رخصتی کے ایجنڈے کو یقینی بنانے کے لئے منظر عام پر لائی گئی ہیں۔ گرینڈ الائنس کے دس نکاتی منشور میں عوام پر مراعات کی بارش کر دی گئی ہے۔ ایک بار تو ان نکات کو پڑھ کر دل عش عش کرنے لگتا ہے۔ عوام کو اگر ان نکات پر یقین آ جائے تو وہ ایک لمحے کی تاخیر نہ کریں اور موجودہ حکومت کو باہر نکال کر گرینڈ الائنس کی مجوزہ مراعات والی حکومت لے آئیں۔ دور جانے کی ضرورت نہیں، عوام کو صرف اس بات کا یقین آ جائے کہ کم آمدنی والے لوگوں کو آٹا، کپڑا، گھی، دودھ، بجلی اور گیس آدھی قیمت پر ملے گی، تو وہ ایک لمحے میں حکومت کا بوریا بستر لپیٹ کر اسے رخصت کر دیں، مگر میاں صاحب دَُعا دیں عوام کو کہ جو سالہا سال کے جھوٹے وعدوں اور جھوٹے خوابوں کی وجہ سے اب کسی کی بات پر اعتبار کرنے کو تیار نہیں، و ہ سمجھتے ہیں کہ سب شعبدہ باز ہیں، جن کا مقصد عوام کو بیوقوف بنا کر اقتدار میں آنا ہے، اس لئے عوام اُن کا ساتھ دینے کے لئے سڑکوں پر نہیں آتے۔

مخالفین کو خدا کے واسطوں سے قائل کرنے کی بجائے وزیراعظم میاں محمد نواز شریف اگر اپنی ساری توجہ گڈ گورننس پر مرکوز کریں اور عوام کو صحیح معنوں میں ایک فلاحی معاشرے کی نعمتوں اور سہولتوں سے سرفراز کر کے انہیں خوبصورت پاکستان کا تحفہ دیں، تو مخالفین اپنی تمام تر کوششوں کے باوجود اُن کا بال بھی بھیکا نہیں کر سکیں گے۔ میاں صاحب اگر گڈ گورننس کے اسلامی تصور کا اسلامی تاریخ کے حوالے سے مطالعہ کریں تو انہیں بخوبی یہ علم ہو جائے گا کہ اچھی طرز حکمرانی کا تعلق کبھی بھی سنگ دخشت سے بننے والے ترقیاتی منصوبوں سے نہیں رہا۔ حضرت عمر ؓ نے گڈ گورننس کے لئے انڈر پاسز، فلائی اوورز، میٹرو بس جیسے منصوبوں یا نندی پور پراجیکٹ جیسے پاور ہاﺅسز پر توجہ نہیں دی تھی، بلکہ اُن کا سارا فوکس اس نکتے پر تھا کہ لوگوں کو عزت نفس کے ساتھ دو وقت کی روٹی اور بغیر کسی رکاوٹ کے انصاف ملے۔ اُن کی ہر بنیادی ضرورت مملکت پوری کرے اور حاکم اس حوالے سے اُن کے سامنے جوابدہ ہو۔

معاف کیجئے میاں صاحب! آپ پاکستان کو آگے چلنے کے لئے خدا کا واسطہ دے رہے ہیں، مگر تکلیف دہ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان 66برسوں میں ترقی کے لحاظ سے تو پھر بھی آگے بڑھا ہے، معاشرتی حوالوں سے وہ آج بھی پہلے دن کی طرح پسماندہ اور بے انصافی کے جال میں پھنسا ہوا ہے۔ میاں صاحب اور کچھ نہ بھی کریں، صرف پاکستان میں قانون کی عمل داری کو ہی یقینی بنا دیں تو مَیں دعوے سے کہتا ہوں کہ اُن کے خلاف کی جانے والی ہر سازش اور چلائی جانے والی ہر تحریک دم توڑ جائے گی۔ جہاں قانون کی بے بسی کا یہ عالم ہو کہ صوبے کی سب سے بڑی عدالت کے احاطے میں دن دیہاڑے لوگ ایک نہتی عورت کو اینٹیں مار مار کر ہلاک کر دیں اور پولیس سامنے کھڑی تماشا دیکھتی رہے، و ہاں کس بنیاد پر لوگ چاہیں گے کہ یہ نظام چلے۔ آج پوری پاکستانی قوم سراپا احتجاج بنی ہوئی ہے۔ بالادستوں کو خدا کے واسطے دے رہی ہے، ہر طرف ہڑبونگ اور نفسا نفسی کا دور دورہ ہے۔ ایک پُرامن اور پُرسکون معاشرے کا خواب چکنا چور ہو چکا ہے۔

طاقتوروں کی ایک اپنی ہی دنیا ہے اور انہوں نے کمزوروں کو اپنے پاﺅں کی ٹھوکر پر رکھا ہوا ہے۔ نصف سے زیادہ آبادی غربت کی لکیر کے نیچے زندگی گزار رہی ہے۔ ملک اب روایتی اقدامات اور روائتی طرز حکمرانی کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ ایک نئے نظام کی اشد ضرورت ہے۔ اس وقت ملک میں جتنی بھی بے چینی اور بے یقینی ہے۔ اس کا واحد سبب یہی ہے کہ موجودہ گلے سڑے نظام سے اب ملک کو مزید چلانا ممکن نہیں۔ نئے پاکستان کے نعرے اگر عوام کو اپنی طرف متوجہ کر رہے ہیں تو میاں محمد نواز شریف کو بھی اُن پر توجہ دینی چاہئے۔ وہی ایس ایچ او وہی پٹواری، وہی ڈپٹی کمشنر اور وہی ایس پی اب زیادہ دیر نہیں چل سکتے۔ یہ سارا نظام استحصال کی بدترین شکل بن چکا ہے۔ کرپشن کے ناسور نے عوام کی زندگی اجیرن کر دی ہے اور انہیں کسی طرف سے بھی کوئی ریلیف نہیں مل رہا۔ گڈگورننس صرف یہی نہیں کہ عوام کو بجلی ملنے لگے یا اُن کے لئے بلٹ ٹرین چل جائے۔ گڈ گورننس تو ایک طرز حکمرانی اور عوام کی طرز زندگی کا نام ہے اور اس کے لئے سب سے پہلی شرط یہ ہے کہ حکومت اپنے ہونے کا احساس دلائے۔ اس وقت یہ احساس عوام میں ناپید ہے اور وہ استحصالی نظام کے پروردہ مافیا طبقوں کو خدا کا واسطہ دے کر ایک ایک دن گزار رہے ہیں۔

مزید : کالم