باجوڑ میں افغان دہشت گردوں کا حملہ

باجوڑ میں افغان دہشت گردوں کا حملہ

سیکیورٹی فورسز نے باجوڑ کے علاقے میں سرحد پار افغان علاقے سے آنے والے دہشت گردوں کا حملہ بھر پور جوابی کارروائی کر کے ناکام بنا دیا ہے۔ اس حملے میں پاک فوج کا ایک جوان شہید اور دو شدید زخمی ہو گئے، جبکہ حملہ آوروں کے 16افراد مارے گئے۔ ڈیڑھ دو سو کے قریب دہشت گردوں نے صبح سوا پانچ بجے کے قریب دو پاکستانی چوکیوں پر بھاری اسلحہ کے ساتھ ہلہ بول دیا۔ فورسز نے انہیں مُنہ توڑ جواب دیا اور پسپا ہونے پر مجبور کر دیا۔ جوابی کارروائی میں گن شپ ہیلی کاپٹروں نے بھی حصہ لیا۔ اُدھر افغان حکام نے کہا ہے کہ پاکستان کی سرحدی چوکیوں پر حملہ ہوا ہے،لیکن اس کا جواب افغان علاقے پر بمباری کی صورت میں دیا جاتا رہا، تو پھر پاکستان کو اس کا جواب دیا جائے گا۔

افغانستان کی طرف سے آج تک پاکستان پر یہ الزام دیا جاتا رہا ہے کہ پاکستان کے علاقے سے دہشت گرد افغانستان جا کر حملے کرتے رہے ہیں، اس کے جواب میں پاکستان نے ہمیشہ ان سے یہ کہا ہے کہ پاکستان ان دہشت گردوں پر کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے، لیکن افغانستان ایسے دہشت گردوں کو روکنے کا انتظام خود بھی کرے۔ اب پاکستان اپنے علاقے میں ان دہشت گردوں پر قابو پارہا ہے اور وہ لوگ جو پاکستان سے جا کر افغانستان میں حملے کرتے تھے پاکستانی آپریشن کے بعد بھاگ کرافغانستان میں چلے گئے ہیں اور اب ان کے افغانستان سے آ کر پاکستان پر حملوںکا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ اس سلسلے کو روکنے کا بہتر طریقہ یہی ہے کہ ان کو مُنہ توڑ جواب دیا جائے اور اُن کا پیچھا کیا جائے۔ آج تک افغانستان سے آنے والے ڈرونز کو پاکستان نے برداشت کیا ہے۔ افغانستان سے آ کر امریکی فوجیوں نے پاکستانی چوکیوں پر بھی حملے کئے۔ اب اگر پاکستان بھی ہاٹ پرسوٹ میں اپنے علاقے پر حملہ کرنے والوں کا پیچھا کرتا تو اس میں افغانستان کو زیادہ پریشان ہونے کی،اس لئے بھی ضرورت نہیں کہ ان دہشت گردوں کا خاتمہ دونوں ملکوں کے یکساں مفاد میں ہے۔ پاکستان کی بہادر افواج نے بروقت کارروائی کر کے پاکستانی قوم کے اطمینان کے مطابق کام کیا ہے۔ دہشت گردی کا خاتمہ اب برسوںکی نہیں ہفتوں اور مہینوں کی بات ہے۔ انشا اللہ!

مزید : اداریہ