امریکا کے خصوصی دستے لیبیا کے مشن پر روانہ ہوگئے

امریکا کے خصوصی دستے لیبیا کے مشن پر روانہ ہوگئے

طرابلس(آن لائن)امریکا ،فرانس اور الجزائر نے لیبیا کے جنوب میں دہشت گردی کے نیٹ ورکس کے خلاف کارروائی کے لیے اپنے خصوصی دستے روانہ کیے ہیں۔برطانوی روزنامے ٹائمز نے ان تینوں ممالک کے خصوصی دستوں کو لیبیا کی جانب روانہ کیے جانے کی اطلاع دی ہے۔اس نے لندن میں قائم ایک تھنک ٹینک ہینری جیکسن سوسائٹی کے ڈائریکٹر اولیور گیٹا کے حوالے سے لکھا ہے کہ ان خصوصی دستوں کا ہدف جنگجو تنظیم اسلامی مغرب میں القاعدہ ہے اور اب مغربی ممالک لیبیا میں مداخلت کرنے کا رجحان رکھتے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ الجزائر سے تعلق رکھنے والے یک چشم جنگجو مختار بالمختار میں مغربی ریاستوں کو دلچسپی ہوسکتی ہے اور وہ ان کا ہدف ہوسکتے ہیں۔انھوں نے اخبار کو بتایا کہ ''دہشت گردی ایک بہت بڑا خطرہ ہے۔

فی الوقت وہ لیبیا کے جنوبی علاقے کو اسلامی مغرب میں القاعدہ کے جنگجوو¿ں سے پاک اور مختار بالمختار کو تلاش کرنا چاہتے ہیں لیکن اس کے ساتھ ہی ساتھ اگر وہ شمالی افریقہ کے اس ملک کو زیادہ مستحکم کرنا چاہتے ہیں اور ان کا دوسری اسلامی ملیشیاو¿ں کی مدد کی جانب کم رجحان پایا جاتا ہے تو پھر انھیں یہ اقدام کر گزرنا چاہیے۔ادھر جرمنی میں قائم امریکا کی افریقی کمان کے ترجمان نے کہا ہے کہ جنوبی لیبیا میں کوئی امریکی فوجی موجود نہیں ہے۔وائٹ ہاو¿س کی ایک خاتون نے بھی اس دعوے کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ ہم جنوبی لیبیا میں حملے نہیں کررہے ہیں۔اخبار نے لکھا ہے کہ طرابلس میں امریکی سفارت خانے کو تحفظ مہیا کرنے کے لیے قریباً ایک سو اسی میرینز بالکل چوکس حالت میں ہیں۔انھیں سسلی کی جانب بھیجا گیا ہے۔گذشتہ منگل کو امریکا کے ایک دفاعی عہدے دار نے بتایا تھا کہ لیبیا کے ساحل کے نزدیک ایک ہزار میرینز پر مشتمل ایک لڑاکا بحری جہاز بھی بھیجا گیا ہے۔واضح رہے کہ گذشتہ سال مختار بالمختار کے چڈ کے فوجیوں کے ساتھ جھڑپ میں مارے جانے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں لیکن دی ٹائم نے حال ہی میں سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے لکھا ہے کہ وہ مالی سے اٹھ آئے تھے اور انھوں نے جنوبی لیبیا میں پناہ لے لی تھی۔

 

مزید : عالمی منظر