وفاقی حکومت نے تمام سیاسی جماعتوں کے مینڈیٹ کو تسلیم کیا ہے،پرویز رشید

وفاقی حکومت نے تمام سیاسی جماعتوں کے مینڈیٹ کو تسلیم کیا ہے،پرویز رشید

اسلام آباد(آن لائن)وفاقی وزیر اطلاعات سینیٹر پرویز رشید نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت نے تمام سیاسی جماعتوں کے مینڈیٹ کو تسلیم کیا ہے،وزیراعظم صوبائی حکومتوں کے ساتھ مشاورت کرتے رہتے ہیں،حکومت کی حکمت عملی سے دہشتگردی میں کمی آئی ہے،وزیراعظم پنجاب کے نہیں پورے ملک کے وزیراعظم ہیں،اپوزیشن جماعتوں کو تنقید کا موقع نہیں دیں گے۔نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ(ن) کی حکومت اپنے منشور پر عمل کر رہی ہے،حکومت پاکستان کے مستقبل کو محفوظ بنانے کیلئے رات دن کوشاں ہے،حکومت کی حکمت عملی سے دہشتگردی میں کمی واقع ہوئی ہے۔انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ(ن) نے جمہوریت کیلئے تمام سیاسی جماعتوں کے مینڈیٹ کو تسلیم کیا ہے،کے پی کے ،بلوچستان،سندھ اور دیگر صوبوں میں حکومت کے بہتر اقدامات سے امن وامان میں بہتری آرہی ہے۔انہوں نے کہا کہ سابق صدر پرویز مشرف کے مریدین کو صرف تکلیف ہے۔انہوں نے کہا کہ مولانا طاہر القادری صرف سیاست چمکا رہے ہیں جبکہ وہ پارلیمنٹ میں نہیں آسکتے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت اور فوج میں تناؤ نہیں،کچھ قوتیں حکومت اور فوج کے درمیان افواہیں پھیلا رہے ہیں،حکومت اپنے ایجنڈا کے مطابق اپنے کاموں میں مصروف ہے،انہوں نے کہا کہ فوج کے ساتھ حکومت کا کوئی مسئلہ نہیں حکومت نے ماضی کی غلط پالیسیوں سے سبق سیکھا ہے،حکومت ماضی کی تاریخ کو نہیں دہرائے گی بلکہ مستقبل کے لئے آگے بڑھ رہے ہیں،حکومت سابق صدر پرویز مشرف کے معاملے میں مداخلت نہیں کر رہی ہے بلکہ قانون کے مطابق سابق صدر کے خلاف کارروائی ہورہی ہے،سابق صدر پرویز مشرف نے (ن) لیگ کی قیادت کو نظر بند کردیاتھا لیکن حکومت ایسا نہیں کرے گی۔انہوں نے کہا کہ حکومت اور فوج ایک مؤقف پر ہیں،فوج اپنے وزیر دفاع کی اہمیت سمجھتی ہے،وزیر دفاع کے ساتھ فوج نے غلط رویہ نہیں اپنایا۔حکومت نے میڈیا پر کوئی پابندی نہیں لگائی بلکہ خود میڈیا کے لوگ اپنے اوپر قدغن لگا رہے ہیں،ماضی میں کچھ سیاسی جماعتوں نے میڈیا پر پابندیاں لگائی ہیں۔انہوں نے کہا کہ جیو کے خلاف حکومت نے جیو کے اعتراض پر پیمرا میں درخواست دائر کی ہے،جیو کے پروگرام سے آئی ایس پی آر کے سربراہان کی دل آزاری ہوئی ہے،جیوگروپ کو چاہئے کہ وہ یہ مسئلہ حل کرے،انہوں نے کہا کہ پیمرا اپنے قانون کے مطابق فیصلے کرے گا حکومت کوئی مداخلت نہیں کرے گی

مزید : صفحہ اول