تحقیقاتی ٹیم کا بلوچستان اور خیبر پختون خوا کے آئی جیز ،چیف اور ہوم سیکرٹریز سے رابطہ

تحقیقاتی ٹیم کا بلوچستان اور خیبر پختون خوا کے آئی جیز ،چیف اور ہوم سیکرٹریز ...

                  سرگودھا (سجاد اکرم)رکن پنجاب اسمبلی رانا محمد جمیل حسن کے اغواءپر وزیر اعلی پنجاب کی جانب سے تشکیل دی گئی جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم نے کے پی کے اور بلوچستان کے چیف سیکرٹریز ،ہوم سیکرٹریز ،آئی جیز پولیس کی وساطت سے بڑے قبیلوں کے سربراہوں جو ماضی میں اس نوعیت کے واقعات میں ملوث رہے سے رابطے کئے ہیںاور حکومت سے مذاکرات کرنیوالی طالبان کمیٹی کے ممبران سے بھی مغوی ایم پی اے رانا محمد جمیل حسن المعروف گڈخان کی بحفاظت بازیابی کےلئے تعاون کرنے کا کہا ہے ،تاہم ذرائع کے مطابق طالبان نے رانا محمد جمیل حسن ایم پی اے کے اغواءسے لاتعلقی ظاہر کرتے ہوئے حکومت سے واضح طور پر کہا ہے کہ ان کا اس واقعہ سے کوئی تعلق نہیں ہے،جس پر تحقیقاتی ٹیموں نے دیگر پہلوﺅں پر بھی تفتیش شروع کر دی ہے دوسری طرف رکن پنجاب اسمبلی رانا جمیل حسن خان کے اغواءکے بعد سرگودھا سمیت دیگر اضلاع سے تعلق رکھنے والے ارکان اسمبلی کی بڑی تعداد نے پرائیویٹ سکیورٹی گارڈ رکھنے کے علاوہ ان کی تعداد میں اضافہ کر دیا ہے اور ڈی سی اوز اور ڈی پی اوز کو سرکاری سکیورٹی دینے کےلئے باقاعدہ طور پر درخواستیں دینا شروع کردی ہیںیہی نہیں کئی ارکان اسمبلی نے اپنی گاڑیوں کے آگے لگی ایم این اے ‘ ایم پی ایز کی پلیٹس بھی اتروا دی ہیں،ایف آئی اے اور حساس ادار ے کی ٹیم نے سیال موڑ پر وقت وقوعہ کی شہادتیں جمع کرنا شروع کر دی ہیں،اس تفتیشی ٹیم نے اغواءکے روز نو بجے رات سے علی الصبح تک موٹر وے پر ننکانہ صاحب سے پشاور تک استعمال ہونیوالے موبائل فونز جن کی تعداد 671ہے کا ڈیٹا حاصل کرنے کےلئے کمپنیوں سے حاصل کر لیا ہے جس کی چھان بین جاری ہے ،اس پہلوکا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے کہ مغوی ایم پی اے کے فون پر کن لوگوں کی کالز آئیںیا اس بابت کون سی کالیں ہوئیں،ذرائع کے مطابق اس جدید طریقے پر ہونیوالی تفتیش کے مثبت نتائج متوقع ہیں،مغوی ایم پی اے کے عزیز و اقارب کے فون پر آنیوالی کالز کو بھی مانیٹر کیا جا رہا ہے ،بالخصوص ننکانہ صاحب ان کے حلقہ کے ہسٹری شیٹرزاور کریمنلز کی کڑی نگرانی کی جا رہی ہے پنجاب کے ڈی آئی جی عہدہ کے پانچ اور ایس ایس پی عہدہ کے آٹھ افسر آئی جی پنجاب خان بیگ کی زیر نگرانی ایم پی اے کی بازیابی کےلئے متحرک ہیں،گزشتہ روز مسلم لیگی کارکنوں نے ننکانہ صاحب اور سرگودھا میں مغوی ایم پی اے کی بحفاظت بازیابی کےلئے خصوصی دعائیں بھی کروائی ہیں،رانا جمیل حسن کے اغواءمیں پنجاب حکومت کو ہلاکر رکھ دیا ہے ،وزیر اعلی پنجاب میاں شہباز شریف وقفے وقفے سے اس حوالے سے کی جانیوالی کوششوں کا جائزہ لیتے اور ہدایات جاری کر رہے ہیں،اغواءکاروں کی جانب سے دی گئی ڈیڈ لائن بھی آج ختم ہو جائے گی،چونکہ بوقت وقوعہ اغواءکاروں نے مغوی کی بیوی کو راولپنڈی کے قریب موٹر وے پر اتارتے ہوئے یہ کہا تھا کہ وہ پانچ کروڑ روپے کا انتظام کریں،تین دن بعد ان سے رابطہ کیا جائے گا،اس طرح اغواءکاروں کی جانب سے آ ج رقم کے حصول کےلئے مغوی کے اہل خانہ سے رابطہ کئے جانے کابھی امکان ہے ،رانا جمیل کے اغواءکے بعد وفاقی وصوبائی حکومتوں میں مچ جانیوالی کھلبلی پر حکومت نے وزراءارکان اسمبلی اور سیاسی شخصیات کی سکیورٹی بڑھانے کی ہدایت بھی کی ہے اس ضمن میں قانون نافذ کرنیوالے اداروں سے کہا گیا ہے کہ وہ سیاسی، مذہبی و دیگر اہم شخصیات کی سکیورٹی بابت کئے جانیوالے انتظامات سے فوری آگا ہ کیا جائے ،وفاقی و صوبائی حکومت نے اہم شخصیات کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنی نقل و حرکت بارے متعلقہ قانون نافذ کرنیوالے اداروں کو آگاہ رکھیں،اس واقعہ کے بعد حکومت نے سرگودھا ڈویژن سمیت دیگر اضلاع میں میگا پراجیکٹس پر کام کرنیوالے غیر ملکی انجینئرز کو بھی ہدایت کی ہے کہ وہ اپنی سرگرمیاں انتہائی محدود رکھیںاور بغیر سکیورٹی شاہراﺅں پر سفر نہ کریںتاکہ کوئی نہ خوشگوار واقعہ پیش نہ آئے۔

مزید : صفحہ اول