سینیٹ میں اپوزیشن جماعتوں کا صدر ممنون حسین کے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلا س سے خطاب کا بائیکاٹ

سینیٹ میں اپوزیشن جماعتوں کا صدر ممنون حسین کے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلا س سے ...
سینیٹ میں اپوزیشن جماعتوں کا صدر ممنون حسین کے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلا س سے خطاب کا بائیکاٹ

  


اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک ) سینٹ میں اپوزیشن جماعتوں کا پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے صدر ممنون حسین کے خطاب کا بائیکاٹ، ایم کیو ایم اراکین بائیکاٹ میں شامل نہیں ہوئے۔ حکومتی اراکین کی ناراض سینیٹرز کو منانے کی کوشش، سینیٹر حاجی عدیل نے وزیر خزانہ اسحاق ڈار کا بازو جھٹک دیا۔ اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ ایک سال تک ایوان بالا میں نہ آنے پر وزیراعظم نواز شریف کا نام گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں درج کروانا چاہیے۔ نجی ٹی وی کے مطابق سینٹ میں قائد حزب اختلاف اعتزاز احسن کی زیر صدارت اپوزیشن جماعتوں کا اجلاس پارلیمنٹ ہاو¿س میں ہوا۔ اجلاس میں پاکستان پیپلز پارٹی، عوامی نیشنل پارٹی، پاکستان مسلم لیگ (ق) اور بی این پی عوامی کے سینیٹرز نے شرکت کی۔ اجلاس میں شریک سینیٹرز نے وزیراعظم نواز شریف کے سینٹ اجلاس میں نہ آنے پر سخت تنقید کی اور کہا کہ وزیر اعظم ایوان بالا کو اہمیت نہیں دیتے تو ہم صدر ممنون حسین کا خطاب کیوں سنیں۔ حکومتی ارکان احسن اقبال، اسحاق ڈار اور زاہد حامد نے اپوزیشن کو منانے کی کوشش کی۔ اسحاق ڈار نے سینیٹر حاجی عدیل کو بازو پکڑ کر اندر لے جانے کی کوشش کی جس پر حاجی عدیل نے ان کا بازو جھٹک دیا۔ اسحاق ڈار نے کہا کہ ضد نہ کریں اجلاس میں شرکت کریں۔ اس پر حاجی عدیل کا کہنا تھا کہ مجھے شرمندہ نہ کریں، میں مشترکہ اجلاس میں شریک نہیں ہو سکتا۔ پارلیمنٹ ہاو¿س کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینیٹر اعتزاز احسن نے صدر ممنون حسین کے خطاب کے بائیکاٹ کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت خصوصاٍ وزیراعظم پر ہمیں شدید اعتراض ہے۔ نواز شریف دنیا کے واحد وزیر اعظم ہیں جو ایک سال تک ایوان بالا میں نہیں آئے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بات خصوصی طور پر وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کے گوش گزار کرنی ہے کیونکہ انہوں نے سر سے اخروٹ توڑنے، ناک سے ٹماٹر کھانے اور ڈنڈ نکالنے کے ریکارڈ گنیز بک میں ریکارڈ کروائے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب وزیر اعظم نواز شریف کا نام بھی گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں لکھوا دیں۔ اعتزاز احسن نے کہا کہ صرف وزیر اعظم ہی نہیں، ان کے خاص وزیر چودھری نثار اور خواجہ آصف بھی سینٹ کو وقعت نہیں دیتے۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا کے توسط سے کہہ رہے ہیں کہ وزیر اعظم، وزیر دفاع اور وزیر داخلہ واپس آ جائیں، انہیں کچھ نہیں کہا جائیگا۔ سینیٹر حاجی عدالت کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کے پاس اپنا احتجاج ریکارڈ کروانے کا اس سے بہتر طریقہ نہیں۔ سینیٹر رضا ربانی نے کہا کہ آج ایک انتہائی بے بس صدر پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرنے جا رہے ہیں۔ ممنون حسین سندھ کے ترقیاتی منصوبے کو بجٹ میں شامل نہیں کروا سکے۔ صدر مملکت اپنے صوبے سے سے انصاف نہیں کر سکے، اس سے زیادہ بے بسی کیا ہوگی۔

مزید : اسلام آباد /اہم خبریں