بیرونی معاملات کیلئے بنائی گئی ’خفیہ ایجنسی‘ کا کردار اندرونی ہوگیا: نجم سیٹھی

بیرونی معاملات کیلئے بنائی گئی ’خفیہ ایجنسی‘ کا کردار اندرونی ہوگیا: نجم ...
بیرونی معاملات کیلئے بنائی گئی ’خفیہ ایجنسی‘ کا کردار اندرونی ہوگیا: نجم سیٹھی

  


لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک)سینئر تجزیہ نگار اور پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین نجم سیٹھی باز نہ آئے اور ایک مرتبہ پھر آئی ایس آئی موضوع بحث رہی ، اُن کاکہناتھاکہ بیرونی معاملات کے لیے بنائی جانیوالی آئی ایس آئی کا کردار آہستہ آہستہ اندرونی ہوگیا، موجودہ حکومت بھی عمران فاروق قتل کیس کے دونوں ملزموں کو برطانیہ کے حوالے نہیں کرے گی ۔ جیونیوز کے پروگرام آپس کی بات میں گفتگوکرتے ہوئے نجم سیٹھی نے کہاکہ بھارت میں آئی ایس آئی جیسا ادارہ نہیں ، وہاں راءکی کوئی بات نہیں کرتاکیونکہ ایجنسی 90فیصد سے زائد بیرونی معاملات دیکھتی ہے ، آئی ایس آئی بھی بیرونی معاملات دیکھنے کے لیے بنائی گئی تھی لیکن اس کا کردار آہستہ آہستہ اندرونی ہوگیا۔ اُنہوں نے بتایاکہ مارشل لاءکے دوران آرمی کو انٹیلی جنس کی ضرورت تھی ، آئی بی کو مضبوط بنانے کی بجائے ایجنسی سے کام لیاگیا، بھارت میں فوج کبھی اقتدار میں آتی ۔ نجم سیٹھی کاکہناتھاکہ فوج کو 80کی دہائی میں جنرل ضیاءنے زیادہ اہمیت دی ، راءنے خارجہ اعتبار سے کبھی فوجی اور مسلح ایڈونچر نہیں کیے ، آئی ایس آئی نے افغانستان میں ایسا ہی کیا جیسے سی آئی اے اور ایم آئی سکس بھی کرتے رہے ہیں ۔اُنہوں نے کہا عمران فاروق کیس کے حوالے سے لندن پولیس کا برطانوی حکومت اور برطانوی حکومت کا پاکستان پر دباﺅ ہے ، برطانوی قانون کہتاہے کہ معاملے کو دبایانہیں جاسکتا۔ اُنہوں نے بتایاکہ وزیرداخلہ چوہدری نثار علی خان پر بھی اس حوالے سے دباﺅ ہے کہ یاتو ڈی این اے ٹیسٹ فراہم کیاجائے یا ملزموں تک رسائی دی جائے ، حکومت بہت دیکھ بھال کر آگے بڑھے گی ،حکومت نے جلدی کی تو ایم کیوایم چھلانگ مار کر ڈاکٹر طاہرالقادری کے ساتھ مل جائے گی ۔

مزید : لاہور