بجٹ کا حجم 39 کھرب 60 ارب روپے رہنے کا امکان

بجٹ کا حجم 39 کھرب 60 ارب روپے رہنے کا امکان
 بجٹ کا حجم 39 کھرب 60 ارب روپے رہنے کا امکان

  


اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک )مالی سال 2014-15ءکا بجٹ کل پارلیمنٹ میں پیش ہوگاجس کا حجم 39 کھرب 60 ارب روپے رہنے کا امکان ہے۔ سود اور قرض کی ادائیگی پر 13 کھرب اور دفاع پر 7 کھرب روپے خرچ ہونے کا امکان ہے جبکہ عوام کو 229 ارب روپے کی سبسڈی مل سکتی ہے۔نجی ٹی وی کے مطابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار تین جون کی سہ پہر قومی اسمبلی میں بجٹ تقریر کریں گے۔ آئندہ بجٹ میں ٹیکس آمدنی کا ہدف 28 کھرب 10 ارب روپے ہوسکتا ہے جبکہ نان ٹیکس آمدنی 815 ار ب روپے ہوسکتی ہے۔ قومی مالیاتی کمیشن کے تحت وفاق صوبوں کو 17 کھرب روپے فراہم کرے گا۔صوبوں کو 35 ارب روپے کی گرانٹ بھی ملے گی۔ انکم سپورٹ پروگرام کے لیے 85 ارب روپے کا تخمینہ ہے۔ وفاقی حکومت تن خواہوں اور پنشن میں 10 سے 15 فی صد اضافے پر غور کررہی ہے۔ ملازمین کی پنشن پر 225 ارب روپے اور تنخواہوں کے لیے 295 ارب روپے خرچ کیے جانے کا تخمینہ ہے۔ وفاق کا ترقیاتی بجٹ 525ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔ وفاق کو آئندہ بجٹ میں 16 کھرب 30ارب روپے کا خسارہ ہوسکتا ہے تاہم چاروںصوبے وفاق کو 225 ارب روپے سرپلس دیں گے جس سے ملک کا مجموعی خسارہ 14 کھرب 95 ارب روپے ہو گا۔

مزید : بزنس