رہا ہونے والے فوجی ہیرو نہیں غدار ہے: ساتھی فوجیوں کا الزام

رہا ہونے والے فوجی ہیرو نہیں غدار ہے: ساتھی فوجیوں کا الزام
رہا ہونے والے فوجی ہیرو نہیں غدار ہے: ساتھی فوجیوں کا الزام

  

واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) ایک امریکی فوجی کی پانچ اہم طالبان قیدیوں کے بدلے رہائی نے امریکہ میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے اور ایک طرف امریکی حکومت اس فوجی کو ہیرو قرار دے رہی ہے تو دوسری طرف اس کے اپنے ساتھیوں نے اسے غدار اور متعدد امریکی فوجیوں کے قتل کا ذمہ دار قرار دے دیا ہے۔ امریکی آرمی کے سارجنٹ بو برگ ڈال کو حال ہی میں امریکہ نے طالبان کی قید سے آزاد کروایا ہے اور اس کے بدلے میں گوانتاناموبے میں قید پانچ اہم طالبان قیدیوں کو رہا کیا گیا ہے۔ پانچ سال تک طالبان کی قید میں رہنے والے برگ ڈال کو امریکی حکومت نے ہیرو کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی ہے لیکن اس کوشش کو برگ ڈال کے ساتھی فوجیوں کے انکشافات نے ناکام بنا دیا ہے۔ اس کے ساتھیوں نے اس پر شدید غصے کا اظہار کیا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ برگ ڈال اپنی فوجی چوکی کو چھوڑ کر چپکے سے غائب ہو گیا اور اس کی تلاش کے دوران متعدد امریکی فوجیوں کو طالبان نے ہلاک کر دیا. فوجی کی گمشدگی کی تحقیقات کے نتیجے میں یہ بات سامنے آئی کہ اس نے اپنی چوکی چھوڑی اور لوگوں سے پوچھنا شروع کر دیا کہ طالبان کدھر ہوتے ہیں ، میں ان سے ملنا چاہتا ہوں ۔ ساتھی فوجیوں کا کہنا ہے کہ اس کے پاس ایک ڈائری ہوا کرتی تھی جس میں وہ اس طرح کی باتیں لکھتا تھا کہ وہ ایک بے مقصد زندگی گزار رہا ہے اور وہ زندگی میں اس سے کئی بہتر کام کر سکتا ہے. انہوں نے یہ بھی کہا کہ برگ ڈال کے غائب ہونے کے بعد امریکی فوجیوں پر طالبان حملوں میں شدت آ گئی۔ برگ ڈال کی پلاٹون سے تعلق رکھنے والے طابقہ سارجنٹ میٹ ورکانٹ نے کہا کہ وہ تو پہلے ہی بہت طیش میں تھا اور اب برگ ڈال کی رہائی اور اس کو ہیرو بنائے جانے نے اسے اور مشتعل کر دیا ہے۔ کئی اور فوجیوں نے بھی کہا ہے کہ برگ ڈال وہ شخص ہے جس نے جنگ میں فرار اختیار کیا اور کئی فوجیوں کی ہلاکت کا باعث بنا۔ برگ ڈال کے دیگر ساتھیوں نے بھی ایسے ہی خیالات کا اظہار کیا ہے۔ اس امریکی فوجی کی ایسی ای میل بھی سامنے آئی ہیں جس میں امریکہ سے مایوسی اور نفرت کا اظہار کیا گیا ہے۔

طالبان نے امریکی فوجی کو پٹھان بنا دیا، تفصیلات کے لئے یہاں کلک کریں 

مزید : بین الاقوامی