لیبیا کی ائیرفورس نے یونیورسٹی پر بمباری کر دی

لیبیا کی ائیرفورس نے یونیورسٹی پر بمباری کر دی
لیبیا کی ائیرفورس نے یونیورسٹی پر بمباری کر دی

  

تریپولی (مانیٹرنگ ڈیسک) لیبیا میں امریکی حمایت سے آنے والے نام نہاد انقلاب کے بعد مشرق وسطی کا یہ ملک بدترین بدامنی اور خانہ جنگی کا شکار ہے اور مرکزی حکومت جنگجو گروپوں کے سامنے بے بس ہو چکی ہے۔ اتوار کے روز سابقہ فوجی جنرل خلیفہ ہفتار کے مسلح گروپ کی طرف سے اسلامی شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کی گئی لیکن حملہ آور جنگی جہاز نے مشرقی شہر بن غازی میں واقع شدت پسندوں کے ٹھکانوں کی بجائے ایک یونیورسٹی پر راکٹ برسا دیئے۔ خلیفہ ہفتار کا موقف ہے کہ مرکزی حکومت اسلامی شدت پسندوں کے خلاف بے بس ہو چکی ہے اور اس لئے اس نے خود ان کے خلاف کاروائی شروع کر دی ہے۔ تاہم خلیفہ ہفتار کے ایک نمائندے کا دعویٰ ہے کہ ان کے جنگی جہاز نے انصار الشریعہ نامی شدت پسند گروپ کے ٹھکانوں پر حملہ کیا تھا لیکن حملے کی جگہ پر موجود ”رائٹرز“ کے نمائندہ نے تصدیق کر دی ہے کہ حملے کا نشانہ دراصل ایک یونیورسٹی کا انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ بنا جس پر تین راکٹ داغے گئے۔ ڈیپارٹمنٹ ڈین ناصر الافودیے بتایا کہ خوش قسمتی سے حملے سے پہلے ہی لیکچر ختم ہو چکے تھے اور اساتذہ اور طلباءجا چکے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ حملے میں دو افراد زخمی ہوئے اور بھاری مالی نقصان ہوا۔ اطلاعات کے مطابق حملہ آور جنگی جہاز بن غازی کے بنینہ ائیربس سے اڑا تھا اور خلیفہ ہفتار کا دعویٰ ہے کہ اس ائیربیس پر موجود سرکاری فوجی ان کے گروپ کے ساتھ مل چکے ہیں۔

مزید : بین الاقوامی