داعش کو بنانے میں امریکہ نے کیا کردار ادا کیا؟تہلکہ خیز تفصیلات سامنے آ گئیں

داعش کو بنانے میں امریکہ نے کیا کردار ادا کیا؟تہلکہ خیز تفصیلات سامنے آ گئیں
داعش کو بنانے میں امریکہ نے کیا کردار ادا کیا؟تہلکہ خیز تفصیلات سامنے آ گئیں

  

نیویارک (نیوز ڈیسک) دن رات دہشت گردی کے خلاف شور کرنے والا امریکا اصل میں کس طرح دنیا کو دہشت گردی کے جہنم میں دھکیل رہا ہے اس کی ایک بڑی مثال شدت پسند تنظیم داعش کی پیدائش میں امریکا کے بنیادی کردار کے انکشافات کی صورت میں سامنے آئی ہے۔

مزیدپڑھیں:وزیراعظم مودی نے چین کو بتادیا ، پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ منظور نہیں

اخبار ”نیویارک پوسٹ“ نے اپنے ایک حالیہ مضمون میں عراق کی ایک جیل میں داعش کی پیدائش اور اس میں امریکا کے کردار کا تفصیلاً جائزہ لیا۔ عراق پر امریکی قبضے کے بعد کیمپ بکا کے نام سے ایک بڑی جیل قائم کی گئی جس میں 2003ءاور 2009ءکے درمیان تقریباً ایک لاکھ قیدی رکھے گئے۔ یہی وہ قید خانہ تھا جہاں قیدیوں کی امریکہ کے لئے نفرت نے دنیا کی خوفناک ترین شدت پسند تنظیم کی صورت اختیار کی۔ اس جیل میں نگرانی کے فرائض سرانجام دینے والے سابقہ امریکی اہلکار مشیل گرے کا کہنا ہے جب وہ 2008ءمیں کیمپ بکا پہنچے تو قیدیوں کے چہروں پر امریکا کے لئے جو نفرت نظر آئی وہ انہوں نے پہلے کبھی نہیں دیکھی تھی۔ انہوں نے اخبار سے بات کرتے ہوئے بتایا، ”جب میں کہتا ہوں وہ ہم سے نفرت کرتے تھے تو میری مراد یہ ہے کہ اگر انہیں موقع ملتا تو وہ ہمیں ایک لمحے میں ہلاک کردیتے اور ہمارے سرتن سے جدا کرکے ہمارا خون پی جاتے۔“

امریکی قید خانے کا نام 9/11 حملوں کے موقع پر ہلاک ہونے والے فائر مارشل رونلڈ بکا کے نام پر رکھا گیا تھا اور اس میں شدت پسندوں کے ساتھ ساتھ ہزاروں ایسے افراد کو بھی قید کیا گیا کہ جن کا دہشت گردی کے ساتھ کوئی تعلق نہ تھا۔ امریکی فوج کا کہنا ہے کہ انہیں معلوم نہ تھا کون شدت پسند ہے اور کون نہیں لہٰذا انہوں نے عراقی مردوں کو بڑے پیمانے پر کسی تفتیش کے بغیر قید میں ڈال دیا اور یوں خطرناک شدت پسندوں کے ساتھ ہزاروں معصوم شہریوں کو بھی طویل مدت تک اس جیل میں رہنا پڑا۔ اس کیمپ کو درجنوں کمپاﺅنڈز میں تقسیم کیا گیا تھا اور ہر کمپاﺅنڈ میں تقریباً ایک ہزار قیدی تھے۔ شدت پسند قیدیوں نے کیمپوں میں اپنا قانون نافذ کردیا اور ساتھی قیدیوں کو بھی امریکا کے خلاف اکسا کر شدت پسندی کی تربیت دینا شروع کردی۔ امریکی فوجیوں کی محدود تعداد کی وجہ سے وہ عام طور پر کیمپوں کے اندر جانے کی جرا¿ت نہیں کرتے تھے اور یوں شدت پسند قیدیوں کو بلا روک ٹوک اپنا نظام نافذ کرنے اور تنظیم سازی کرنے کا بھرپور موقع ملا۔ جو عام قیدی شدت پسند رہنماﺅں سے بغاوت کرتے انہیں سخت ترین سزائیں دی جاتیں اور حتیٰ کہ زبان کاٹنے اور آنکھیں نکالنے کے بھی بے شمار واقعات پیش آئے۔ مشیل گرے کا کہنا ہے کہ انہوں نے شدت پسندوں کو ساتھی قیدیوں کی تربیت کرتے دیکھا، وہ انہیں بم بنانے کے طریقے اور خود کش حملہ آور بننے کے طریقے بھی سکھاتے تھے۔

انہی قیدیوں میں ابوبکر بغدادی بھی شامل تھا جسے دس ماہ تک قید رکھنے کے بعد بے ضرر قرار دے کر دسمبر 2004ءمیں رہا کردیا گیا۔ قیدیوں میں صدام حسین کی ایئرڈیفنس فورس کا سابقہ افسر کرنل حاجی باقر بھی تھا جس کے بارے میں شدت پسندی میں ملوث ہونے کے ثبوت نہ ملے لیکن قید میں گزاری گئی زندگی نے اسے بھی شدت پسند بنادیا اور رہائی کے بعد اس نے داعش کی تنظیم سازی میں اہم ترین کردار ادا کیا۔

سابقہ امریکی اہلکار تسلیم کرتے ہیں کہ ہزاروں بے گناہ عراقیوں کو شدت پسندوں کے ساتھ قید رکھنا ہی وہ غلطی تھی کہ جس نے داعش کو جنم دیا۔ ان قیدیوں کو رہا کرتے وقت بھی یہ خیال نہ رکھا گیا کہ یہ باہرجاکر کس قسم کی سرگرمیوں میں ملوث ہوں گے اور ان میں سے جو عراقی حکام کے حوالے کئے گئے وہ بھی جلد ہی آزاد ہوگئے۔ کئی سال تک امریکی ظلم و جبر سہنے والے یہ قیدی جب آزاد ہوئے تو جلد ہی دوبارہ اکٹھے ہوئے اور پھر اس تنطیم کا وجود عمل میں آ گیا کہ جس کی دہشت سے آج دنیا لرز رہی ہے۔

مزید :

بین الاقوامی -