دورہ زمبابوے، سیکورٹی اداروں نے قوم کے دل جیت لئے

دورہ زمبابوے، سیکورٹی اداروں نے قوم کے دل جیت لئے
دورہ زمبابوے، سیکورٹی اداروں نے قوم کے دل جیت لئے

  

پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کی چھ سال بعد بحالی خوش آئند ہے زمبابوین ٹیم کے دورہ کے بعد اب امید ہے کہ دیگر غیر ملکی ٹیمیں بھی پاکستا ن آکر کھیلیں گی اس موقع پر شائقین کرکٹ نے جس طرح مہمان ٹیم کا استقبال کیا اور سٹیڈیم میں جاکر میچز دیکھیں اس سے بھی پوری دنیا میں مثبت تاثر پیدا ہوا ہے پاکستانی شائقین ایک طویل عرصہ سے اس انتظار میں تھے کہ کوئی ٹیم پاکستان آکر کھیلے اور کئی مرتبہ ایسا ہوتے ہوتے رہ بھی گیا لیکن اب جس طرح پاکستان کرکٹ بورڈ نے اس حوالے سے اپنا کردار ادا کیا اور اس کے لئے اپنا بھرپور کردار ادا کیا اس کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے اور اس حوالے سے اگر سیکورٹی کی بات کی جائے تو جس طرح ڈی آئی جی آپریشن ڈاکٹر حیدر اشرف نے کردار ادا کیا وہ قابل تعریف ہے اور مہمان کھلاڑی بھی اس حوالے سے مطمئن نظر آئے سیکورٹی سب سے اہم کام تھا اور اس کو بخوبی سر انجا م دیا گیا دورہ سے قبل یہ ایک بہت بڑا چیلنج تھا اور اب جب زمبابوین کرکٹ ٹیم واپس چلی گئی ہے تو اب اس بات کی بہت زیادہ خوشی ہے کہ تمام کام بہت اچھا ہوگیا اور جس طرح ہم نے ٹیم کی آمد سے قبل سوچا تھا سب ویسا ہی ہوا دیگر ٹیموں کے لئے یہ انتظامات کافی ہیں او ر ان کو دیکھتے ہوئے اب ان کو بھی پاکستان آکر کرکٹ کھیلنے کی ضرورت ہے سیکورٹی کے موقع پر جس طر ح شائقین نے بھی بھرپور ساتھ دیا اور مشکل کے باوجود سٹیڈیم میچ دیکھنے کے لئے پہنچیں وہ بھی قابل تعریف ہے دوسری طرف پی سی بی کے چیف آپریٹنگ آفیسر سبحان احمد کو انکی محنت کا صلہ مل گیا ہے جس کے لئے انہوں نے ایک طویل عرصہ تک جدوجہد کی ان کی کوششیں رنگ لے آئیں اور اب وہ مطمئن ہیں کہ زمبابوے کی ٹیم اپنا دورہ مکمل کرکے وطن واپس خیریت سے چلی گئی ہے دوسری جانب ان کی اس کاوش پر حکومت کی جانب سے اعزاز دیا جانے چاہئیے تاکہ وہ مستقبل میں بھی اسی طرح جوش و جذبے سے اپنا کام کریں اور جس طرح زمبابوین کرکٹ ٹیم کی پاکستان آمد پر انہوں نے کردار ادا کیا ۔امید ہے کہ پاکستانی شائقین کو مستقبل میں بھی اسی طرح ملک کے سر زمین کے سٹیڈیم بھرے ہوئے نظر آئیں گے اور جس طرح انہوں نے جوش و جذبہ کا مظاہرہ کیا ہے اسی طرح مستقبل میں بھی وہ ایسا کرتے ہوئے نظر آئیں گے پاکستان میں اب انٹرنیشنل کرکٹ کی واپسی یقینی ہے او رجس طرح کے انتظامات کئے گئے ہیں امید ہے کہ مستقبل میں بھی اسی طرح غیرملکی کھلاڑیوں کو سیکورٹی دی جائے گی۔

مزید :

کالم -