کشمیری پاکستانی پرچم لہراتے رہیں گے ‘ سید علی گیلانی

کشمیری پاکستانی پرچم لہراتے رہیں گے ‘ سید علی گیلانی

  

 سرینگر (اے پی پی) بزرگ حریت رہنما سید علی گیلانی نے کہا ہے کہ علاقے میں پاکستان پرچم 1947ء سے لہرائے جارہے ہیں اوریہ مستقبل میں لہرائے جائیں گے۔کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق حیدرپورہ سرینگر میں ایک غیر معمولی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سید علی گیلانی نے کہا کہ پاکستانی پرچم لہرانا کشمیر میں پرانی روایت ہے اور یہ 1947ء سے لہرائے جاتے ہیں ۔ اجلاس کا مقصد آر ایس ایس کی حمایت یافتہ بھارتی حکومت کے فرقہ پرست منصوبوں اور پالیسیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے لائحہ عمل طے کرنا تھا۔سید علی گیلانی نے کہا پاکستان کشمیر کاز کا سب سے بڑا حمایتی اور خیرخواہ ہے۔ سید علی گیلانی جو گزشتہ پانچ سال کے دوران زیادہ تر گھر میں نظربند رہے نے کہا کہ کشمیری جیوے جیوے پاکستان کا نعرہ لگاتے رہیں گے۔سید علی گیلانی نے کہا کہ ہماری بھارتی عوام سے کوئی دشمنی نہیں ہے لیکن انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ بھارتی ریاست نے کشمیریوں کی سرزمین پر کس طرح زبردستی فوجی قبضہ کررکھا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم اس ظالمانہ فوجی قبضے کے خلاف ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ بھارت پاکستان کو مسئلہ کشمیر میں فریق تسلیم نہ کرکے اپنے غرور اور ہٹ دھرمی کامظاہرہ کررہا ہے۔ انہوں نے کہا اگر ایسا ہے تو پھر بھارت نے پاکستان کے ساتھ ایک سو پچاس مرتبہ کیوں مذاکرات کئے ۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان مسئلہ کشمیر کا بنیادی فریق ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی عوام کو معلوم ہونا چاہیے کہ ان کے حکمران اقتدار کے نشے میں غرق ہیں جو بے حرمتی، قتل ، لوگوں کو غائب کرنے میں ملوث ہے اور انہوں نے کشمیر پر فوجی قبضہ کررکھا ہے جوبنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی یہ جارحیت زیادہ دیر تک قائم نہیں رہ سکتی اور اس کو باالآخر کشمیر سے جانا ہوگا۔ سید علی گیلانی نے کہا کہ پی ڈی پی اور بی جے پی کی کٹھ پتلی حکومت نے کشمیریوں کے خلاف سازشیں کی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں ان کی فریب کاری سے گھبرانا نہیں چاہیے۔ انہوں نے کہا ریاست جموں و کشمیر جغرافیائی طور پر ایک وحدت ہے جس میں ہر مذہب کے لوگ رہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر ایک متنازعہ علاقہ ہے اور ہم اس کو تقسیم کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔انہوں نے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ اپنی مسلم شناخت کی حفاظت کریں۔ حریت رہنما نے کہا کہ اردوزبان کے خلاف غیر اعلانیہ جنگ شروع کی گئی ہے ۔ جموں میں سکولوں میں اردو کے استاد ہی نہیں ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ قابض انتظامیہ نے اردو زبان کو ختم کرنا چاہتی ہے تاکہ ہماری ثقافت کو ختم کرسکے ۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اس طرح کے منصوبوں کا مقابلہ کرنے کے لیے اسلامی تعلیمات اور اردو زبان کو فروغ دینا چاہیے جس کے لیے ہمیں مدرسے اور دارالعلوم کھولنے چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ بھارتی ثقافت کی یلغار نے کشمیری ثقافت کو تباہ کردیا ہے۔ حریت رہنمانے کہا کہ بھارتی ریاست کشمیری نوجوانوں کو دبانہیں سکتی اوروہ مستقبل میں بھی پاکستان کے ساتھ اپنی محبت کا اظہار کرتے رہیں گے جس طرح وہ گزشتہ 68سال سے کرتے آئے ہیں ۔ انہوں نے پوچھا کہ سارا بھارت کشمیریوں کے پاکستانی پرچم لہرانے سے کیوں بوکھلا گیا ہے۔ سید علی گیلانی نے کہا کہ پاکستان کشمیریوں کو حق خودارادیت دینے کی حمایت کرتا رہا ہے اور کشمیر ی اس حمایت کے لیے پاکستان کے احسان مند ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری پاکستان سے محبت کرتے ہیں اور اس قدرتی جذبے کو کشمیریوں کے دلوں سے ختم نہیں کیا جاسکتا۔ اجلاس میں آزادی پسند رہنماؤں، دانشوروں، علماء، مذہبی دانشوروں، وکلاء، ڈاکٹرز، تاجر یونینوں، سول سوسائٹی کے ارکان، مصنفین اور طلباء تنظیموں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ نمائندہ اجلاس میں بھارت کی فرپرقہ ست حکومت کی مذموم اورخطرناک پالیسیوں پر سیر حاصل گفتگو کی گئی اور فرقہ پرستوں کے ایجنڈے کو شکست دینے کے لیے ایک مشترکہ لائحہ عمل بنایا گیا۔اس تاریخی اور اہم اجلاس میں جن اہم شخصیات نے شرکت کی ان میں آزادی پسند رہنما شبیر احمد شاہ ، آغا سید حسن الموسوی الصفوی ،ایڈوکیٹ میاں عبدالقیوم، ایڈوکیٹ زاہد علی، مولانا غلام رسول حامی، جموں کے نمائندے محمد شریف سرتاج،وادی پیر پنچال کے نمائندے شاہد سلیم، تحریک صوت الاولیاء کے انجینئر عمر الطاف،حمایت الاسلام کے سربراہ مولانا خورشید احمد قانونگو، تنظیم المکاتب کے سربراہ مولانا غلام علی گلزار، محمد یاسین خان، کشمیر اکانومک الائنس کے سراج احمد، کشمیر ٹریڈرز فیڈریش کے صدر محمد صادق بقال، ڈاکٹر میر مشتاق، خرم پرویز ، شکیل قلندر، عبدالمجید زرگر، زیڈ جی محمد، ڈاکٹر جاوید اقبال، انجینئر انور عشائی، پروفیسر بشیر احمد، محمد اشرف صحرائی، حاجی غلام نبی سمجھی، سید علی گیلانی کی زیر قیادت فورم کی تمام اکائیوں کے سربراہان و نمائندگان اور تحریک حریت کے ضلعی صدور شامل ہیں۔ شرکاء نے موجودہ صورتحال پر اپنے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ اجلاس میں متفقہ طور پر ایک قرارداد منظور کی گئی۔

مزید :

عالمی منظر -