داعش سے نمٹنے کیلئے یکساں حکمت عملی مرتب کئے جانے کی ضرورت ہے ٗروس

داعش سے نمٹنے کیلئے یکساں حکمت عملی مرتب کئے جانے کی ضرورت ہے ٗروس

  

ماسکو (این این آئی)روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے کہا ہے کہ داعش سے نمٹنے کیلئے اقوام متحدہ کے جھنڈے تلے یکساں حکمت عملی مرتب کئے جانے کی ضرورت ہے ٗ روس اور امریکہ کے درمیان نئی سرد جنگ کے بارے میں بیانات بے بنیاد ہیں ایک انٹرویو میں سرگئی لاوروف نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اس حکمت عملی کا تعلق نہ صرف شام اور عراق سے ہونا چاہئے بلکہ اس پورے خطے سے بھی ہونا چاہئے جہاں دولت اسلامیہ سرگرم عمل ہے اور وہاں دولت اسلامیہ کی طرف سے خطرے کا سامنا ہے۔ روسی وزیر خارجہ نے شمالی افریقہ اور دیگر علاقوں میں دولت اسلامیہ کی سرگرمیوں پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جن ممالک کو اس کا مقابلہ کرنا پڑ رہا ہے ان کو عالمی برادری کی طرف سے مدد و حمایت کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو ممالک ان ملکوں کی مدد کرنے کیلئے تیار ہیں ۔

انہیں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے مینڈیٹ حاصل کرنا چاہئے اور ان ممالک کی حکومتوں سے رابطہ برقرار رکھتے ہوئے اقدامات کرنے چاہئیں۔روسی وزیر خارجہ نے کہاکہ روس امریکہ تعلقات میں موجودہ کشیدگی کی نطریاتی بنیاد نہیں ہے تاہم روس اور امریکہ کے درمیان تعلقات سے متعلق سنگین مسائل موجود ہیں۔ روس کے وزیر خارجہ نے کہا کہ اس وقت کثیر القطبی عالمی نظام قائم ہو رہا ہے، نئے سیاسی اور معاشی مراکز ابھر کر سامنے آ رہے ہیں اس لیے ان نئی طاقتوں اور پرانی مغربی طاقتوں کے درمیان اختلافات پیدا ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کی زیر قیادت مغرب ساری دنیا کو اپنے کنٹرول میں رکھنا چاہتا ہے لیکن موجودہ حالات میں یہ ناممکن ہے۔ روس امریکہ تعلقات کا تذکرہ کرتے ہوئے سرگئی لاوروف نے کہا کہ روس کے لیے امریکہ کے ساتھ تعلقات کلیدی اہمیت کے حامل نہیں۔ روس کا موقف ہے کہ امریکی پالیسی غلط ہے کیونکہ آج کسی بھی عالمی مسئلہ کو تنہا یا کسی ایک ملک کے ساتھ تعاون کرتے ہوئے حل کیا جانا ناممکن ہے۔

مزید :

عالمی منظر -