اسرائیل نے اسلامی تحریک کے نائب صدر کمال الخطیب پر قبلہ اول میں داخلے پر چھ ماہ کیلئے پابندی عائد کر دی

اسرائیل نے اسلامی تحریک کے نائب صدر کمال الخطیب پر قبلہ اول میں داخلے پر چھ ...

  

مقبوضہ بیت المقدس (این این آئی)اسرائیلی حکام نے 1948ء کے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں سرگرم اسلامی تحریک کے نائب صدر الشیخ کمال الخطیب کے مسجد اقصیٰ میں داخلے پر 6ماہ کیلئے پابندی عائد کر دی ہے۔الشیخ کمال الخطیب نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک کے اپنے صفحے پر پوسٹ بیان میں بتایا کہ اسرائیلی فوج کی سینٹرل کمانڈ کے عہدیدار نے انہیں بتایا ہے کہ ان کے مسجد اقصیٰ میں داخلے کیلئے مزید 6ماہ کی پابندی عائد کی گئی ہے۔انہوں نے بتایا کہ صہیونی فوجیوں کی جانب سے تبایا گیا کہ الشیخ کمال الخطیب کی قبلہ اول میں داخلے پر عائد پابندی میں 6ماہ کی توسیع کی جا رہی ہے۔ نئی توسیع 27 مئی 2015ء کو کی گئی ہے اور یہ پابندی 25 نومبر 2015ء تک برقرار رہے گی۔الشیخ کمال الخطیب نے صہیونی فوج کی جانب سے عائد پابندی کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس نوعیت کی پابندیاں فلسطینیوں کیخلاف مذہبی اعلان جنگ ہیں اور یہ صرف سیاسی بنیادوں پر عائد کی جا رہی ہیں جن کی کوئی آئینی اور قانونی حیثیت نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ بیت المقدس صرف فلسطینی قوم کا ہے اور قبلہ اول پورے عالم اسلام کا ہے۔

صہیونی چاہے جتنا بھی زور لگا لیں وہ قبلہ اول اور بیت المقدس کو ہم سے چھین نہیں سکتے ہیں۔الشیخ کمال الخطیب نے کہا کہ بیت المقدس کی تاریخ ایسے واقعات سے بھری پڑی ہے۔ یہ طریقہ صلیبیوں نے بھی اختیار کیا تھا لیکن 90سال کے بعد صلاح الدین ایوبی نے بیت المقدس کو ایک بارپھر آزاد کرایا اور اس کے اصلی باشندوں کے حوالے کیا تھا۔دوسری جانب اسلامی تحریک نے بھی صہیونی حکام کی جانب سے الشیخ کمال الخطیب کے قبلہ اول میں داخلے پرپابندی میں 6ماہ کی توسیع کی شدید مذمت کرتے ہوئے انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اسرائیلی کی جانب سے فلسطینیوں پر قبلہ اول میں داخلے پر پابندیوں کے خلاف موثر آواز اٹھائیں۔

مزید :

عالمی منظر -