31 مئی کو نیشنل گرڈ میں 132.642 ملین یونٹ بجلی شامل ہوئی

31 مئی کو نیشنل گرڈ میں 132.642 ملین یونٹ بجلی شامل ہوئی

  

 لاہور(کامرس رپورٹر)واپڈا کے زیرانتظام ہائیڈل پاور سٹیشنوں سے31 مئی کو نیشنل گرڈ میں 132.642 ملین یونٹ بجلی شامل ہوئی جبکہ گذشتہ سال اسی دِن 104.17ملین یونٹ بجلی پیدا ہوئی جو کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں 28.472 ملین یونٹس زیادہ ہے۔ پن بجلی کی پیداوار میں یہ اضافہ صوبوں کی ڈیمانڈ پر ارسا کے ذریعے ڈیموں سے پانی کے زیادہ اخراج کی بدولت ہوا ہے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ ڈیموں کی تعمیر کا بنیادی مقصدصوبوں کی ضروریات کے مطابق زرعی مقاصد کیلئے پانی کی فراہمی ہے جبکہ پن بجلی کی پیداوار ان کا ثانوی مقصد ہے۔ ہائیڈل پاور سٹیشنوں سے بجلی کی پیداوار ارسا کے انڈنٹ کے مرہون منت ہے۔ واپڈا ہر سال قومی نظام کو اوسطاً 30 ارب یونٹ سستی پن بجلی مہیا کرتا ہے۔ پن بجلی کی یہ مقدار بجلی کے نرخوں کو کم سطح پر رکھنے میں کتنا اہم کردار ادا کرتی ہے ، اس بات سے عیاں ہے کہ جنوری 2015 ء کے اعداد و شمار کے مطابق پن بجلی کی فی یونٹ پیداواری لاگت 2 رو پے62پیسے ہے جبکہ گیس سے بجلی کا ایک یونٹ پیدا کرنے پر 7 روپے43 پیسے،کوئلے سے 12روپے91 پیسے ، گنے کے پھوک سے 12 روپے98 پیسے، فرنس آئل سے 17روپے58 پیسے ، ہائی سلفر ڈیزل سے 23روپے 43 پیسے، نیو کلیئر سے 5 روپے98 پیسے اور ہوا سے 11روپے 62 پیسے لاگت آتی ہے، اعداد و شمار کے مطابق بجلی کی فی یونٹ اوسط قیمت 10 روپے 03پیسے ہے۔واپڈا ہائیڈل پاور سٹیشنوں کی مجموعی پیداواری صلاحیت تقریباً 7 ہزار میگاواٹ ہے جو ملک میں بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت کا تقریباً ایک تہائی ہے۔ یہ امر باعث اطمینان ہے کہ واپڈا کے بعض پن بجلی گھر 50 سال سے زائد پرانے ہونے کے باوجود بہتر دیکھ بھال اور موثر آپریشن کی وجہ سے ابھی بھی پوری صلاحیت کے مطابق بجلی پیدا کرسکتے ہیں۔

مزید :

کامرس -