پنجاب گورنمنٹ سرونٹس ہاؤسنگ فاؤنڈیشن کی دریا دلی

پنجاب گورنمنٹ سرونٹس ہاؤسنگ فاؤنڈیشن کی دریا دلی
پنجاب گورنمنٹ سرونٹس ہاؤسنگ فاؤنڈیشن کی دریا دلی

  

ماضی میں سابق وزیر اعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی نے ریسکیو 1122 اور ٹریفک کی بہتری کے لئے سٹی ٹریفک پولیس سسٹم کے قیام کے ساتھ ساتھ پنجاب کے سرکاری ملازمین کو ان کی ریٹائرمنٹ کے بعد لاہور، راولپنڈی، ملتان، فیصل آباد سمیت دوسرے شہروں میں اقامتی سہولتیں فراہم کرنے کے بعد پنجاب گورنمنٹ سرونٹس ہاؤسنگ فاؤنڈیشن قائم کی تھی۔ جس نے لوگوں کی طرف سے ممبر شپ کے لئے درخواستیں وصول کی تھیں اور ایک ہی ہلے میں اتنی درخواستیں وصول کر لیں کہ اس کی ہمت جواب دے گئی اور مزید درخواستوں کی وصولی کا دروازہ مستقل طور پر بند کر دیا۔ اس فاؤنڈیشن نے موہنوال میں اراضی حاصل کر کے اس پر ایک کالونی تیار کر دی ہے جس کی الاٹمنٹ کا سلسلہ ابھی تک جاری ہے۔ لیکن اس کے بعد حکومت کی تبدیلی یا کام کی نا تجربہ کاری یا محکمانہ چپقلش یا حکومتی گرفت میں کمزوری کی وجہ سے مزید تعمیرات کا سلسلہ بند کر دیا گیا۔ یہی نہیں لاہور میں نیو ایئرپورٹ کے قریب اور ہربنس پورہ کے قریب جن سکیموں کا بنایا جانا طے تھا انہیں سرخ فیتے کی نذر کر دیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ فاؤنڈیشن نے اپنے ارکان سے جو رقوم وصول کی ہیں ان پر بنک کی طرف سے ملنے والے منافع کو کچھ عرصہ تک ان ملازمین کے اکاؤنٹس میں جمع کرانے کے بعد اب یہ سلسلہ بھی بند کر دیا گیا ہے۔

اس سلسلے میں کسی کو کچھ معلوم نہیں کہ یہ رقوم کس کے استعمال میں آ رہی ہیں۔ آیا ان رقوم سے فاؤنڈیشن کے ارباب اختیارات اپنے مکانات تعمیر کر رہے ہیں یا ایک پراپرٹی ڈیلر کے بقول لوگوں سے اور پراپرٹی ڈیلروں سے بھاری رقوم لے کر وہ اپنے مکان بنا رہے ہیں۔ لیکن یہ بات واضح ہے کہ وہ پراپرٹی ڈیلروں سے یہ بھاری رقوم بلا وجہ حاصل نہیں کر رہے بلکہ وہ اس کے عوض ان پراپرٹی ڈیلروں کو فاؤنڈیشن کے خفیظہ ریکارڈ تک رسائی دے رہے ہیں۔ اس ریکارڈ کی مدد سے یہ پراپرٹی ممبران کے ایڈریس حاصل کر کے انہیں خطوط ارسال کر رہے ہیں اور انہیں مجوزہ سکیموں میں ان کی باری آنے یا نہ آنے کے بارے میں معلومات دے کر انہیں پلاٹ بیچنے اور اس کا مناسب معاوضہ دینے کا مشورہ دے رہے ہیں۔ اس طرح وہ ان پلاٹوں کی الاٹمنٹ سے پہلے ہی ان کی خرید و فروخت کر کے کثیر رقوم کما رہے ہیں۔ ہاں جو پراپرٹی ڈیلر ان افسروں کی جن کا تقرر غالباً ڈیبوٹیشن پر ہو اور وہ اس میں توسیع کروا رہے ہیں جس سے بہتوں کا بھلا ہو رہا ہے۔ نقصان ہو رہا ہے تو ان ملازمین کا جو محکمانہ ترقی کے خواب آنکھوں میں سجائے نا امیدیوں کی بھول بھلیوں میں چکر کھا رہے ہیں۔

فاؤنڈیشن کے ارباب اختیار بھی اس سلسلے میں بے خبر نہیں البتہ وہ شاید کوئی محکمانہ کارروائی کرنے کے موڈ میں نہیں یا انہیں اس کا اختیار حاصل نہیں کیونکہ ایک دل جلے پراپرٹی ڈیلر نے ان افسروں کے بارے میں درخواست بھی حکام بالا کو دے رکھی ہے جس پر افسر مجاز نے کارروائی کرنے کا حکم تو دیا ہے مگر اس حکم پر عمل درآمد کا کوئی ارادہ نظر نہیں آتا۔ یوں جو پراپرٹی ڈیلر ان افسروں کی گڈ بکس میں ہیں وہ فاؤنڈیشن کے سارے خفیہ ریکارڈ تک رسائی حاصل کر کے ممبران کے اڈریس بھی حاصل کر رہے ہیں بلکہ انہیں اپنی ترجیحات تبدیل کرنے کا مشورہ دے رہے ہیں اور مجوزہ سکیموں میں پلاٹوں کے ریٹس اور اپنی پیشکش سے بھی آگاہ کر رہے ہیں۔ اس سلسلے میں ممبران کو خطوط بھی لکھے جا رہے ہیں اور بعض اوقات ممبران کی رضا مندی کے بغیر ہی ان کی ترجیحات بھی تبدیل کی جا رہی ہیں۔ بالکل اس طرح جیسے ماضی بعید میں انٹرمیڈیٹ بورڈ کے امتحانات میں حصہ لینے والے امیدواروں کے گھروں کے ایڈریس بورڈ آفس سے حاصل کر کے انہیں گیس پیپرز والے اپنے گیس پیپرز کے اشتہارات ارسال کرتے تھے اور خوب دولت کماتے تھے۔ ایک آرمی افسر کی شکایت پر بورڈ کے سابق چیئرمین خواجہ غلام صادق نے سخت اقدامات کر کے اس سلسلے کا خاتمہ کر دیا۔ مگر فاؤنڈیشن میں یہ سلسلہ پوری تیاری سے جاری ہے۔

اس سلسلے میں وزیر اعلیٰ پنجاب کو ضرور توجہ دینی چاہئے اگرچہ یہ سکیم ان کے پیش رو اور سیاسی مخالف نے شروع کی تھی مگر دوسری سکیموں کی طرح یہ سکیم بھی پنجاب کے غریب ملازمین کی بہبود کے لئے ہے اور اگر وزیر اعلیٰ پنجاب اس سلسلے میں ہونے والی غفلت اور بد عنوانی کا سراغ کسی تحقیقاتی ایجنسی، محکمہ انٹی کرپشن یا کسی آڈٹ کے محکمہ سے کروائیں گے تو لوگوں میں یہ تاثر بھی کم ہوگا کہ موجودہ وزیر اعلیٰ سرکاری ملازمین کے خلاف ہیں اور انہیں فائدہ پہنچنے کے کسی پروگرام کے حق میں نہیں خواہ ان کی تنخواہوں میں اضافے کا سلسلہ ہو یا ان کے میڈیکل الاؤنسز و ہاؤس رینٹ میں اضافے کا سلسلہ یا ان کی پنشن میں اضافے اور 75 سال کے بعد پنشن میں دوگنا اضافے کا مسئلہ۔۔۔اس سلسلے میں ہم یہ بات بھی گوش گزار کریں گے کہ پاکستان پیپلزپارٹی نے ہمیشہ سرکاری ملازمین کو مالی منعفت پہنچانے میں پہل کی ہے اور جب انتخابات کا مرحلہ آتا ہے تو سرکاری ملازمین بھی اس کا صلہ دیتے ہیں۔ ہم نے انتخابات کے دوران اس کا عملی مظاہرہ بھی دیکھا ہے اور پی ٹی آئی نے گزشتہ انتخابات میں ایک حلقہ انتخاب سے ایک محکمہ کے سرکاری ملازمین کو تبدیل کروا کر اس کا نتیجہ بھی بھگت لیا ہے۔

مزید :

کالم -