قومی مسائل اور تقریبات میں اقلیتوں سے غیر مساوی سلوک!

قومی مسائل اور تقریبات میں اقلیتوں سے غیر مساوی سلوک!

  

زبانی کلامی تو تقریباً ہر سیاسی جماعت کے رہنما اقلیتوں کے لئے خیر سگالی کے جذبات کے اظہار کے لئے ان کی تقریبات میں مہمانانِ خصوصی کے طور پر تشریف لا کر اُن کے تشکیل پاکستان اور قیامِ پاکستان کے لئے کردار اور تگ و تاز کا تذکرہ بھی شدومد سے کرتے ہیں اور اُن کی طبی، تعلیمی اور عسکری خدمات کو خراجِ تحسین بھی بجا طور پر پیش کیا جاتا ہے، لیکن عملاً صورتِ حال یہ ہے کہ کارکنان پاکستان میں کسی اقلیت کے فرد کا کبھی تذکرہ نہیں کیا جاتا اور نہ ہی قائد اعظمؒ کے ساتھ اُن کے رہنماؤں کی تصاویر ہی وہاں آویزاں دکھائی دیتی ہیں۔ اس سلسلے میں ہم یہاں مسیحیوں کا خصوصی طور پر ذکر کریں گے۔ پنجاب اسمبلی کے پہلے سپیکر دیوان بہادر ایس پی سنگھا نے اپنے ساتھیوں سمیت ،جن میں ماسٹر فضل الٰہی سی، گیپن، چودھری چندولعل، کے ایل رلیا کرم شامل تھے۔ قیام پاکستان کے دوران قائداعظمؒ کے ساتھ تشکیل پاکستان کے دوران یک جہتی کا اظہار کرتے ہوئے باؤنڈری کمیشن کے سامنے مسیحیوں کا شمار مسلمان ہم وطنوں کے ساتھ کرنے کی درخواست کی تھی اوراسی کے نتیجے میں پنجاب کے کئی اضلاع جن میں گرداسپور، لدھیانہ، ہوشیار پور شامل تھے، پاکستان میں شامل ہونے کا امکان ہوا ،جسے پنڈت جواہر لعل نہرو کی سازش سے ناکام بنا دیا گیا۔ اس دوران مسیحی رہنماؤں کی قائداعظمؒ سے ملاقاتوں کی تصاویر بھی دستیاب ہیں، لیکن وہ کبھی شائع نہیں کی گئیں۔ فوٹو گرافر ایف ای چودھری کے پاس بھی یہ ذخیرہ موجود تھا ،لیکن ایسے لگتا ہے کہ تحریکِ کارکنانِ پاکستان مسیحیوں کو کوئی کریڈٹ دینے کے لئے تیار نہیں۔

اِسی طرح مسیحیوں کی طبی، تعلیمی اور عسکری خدمات کا تذکرہ نہ تو یوم پاکستان 14 اگست اور نہ ہی یوم پاکستان 23 مارچ، نہ ہی دفاع پاکستان 6 ستمبر کو کیا جاتا ہے ۔ستم ظریفی تو یہ ہے کہ ان مواقع پر ہونے والی قومی تقریبات میں میڈیا سمیت سرکاری اور غیر سرکاری حلقوں میں اقلیتوں کے مذہبی، عسکری، ادیبوں، دانشووں اور سماجی رہنماؤں کو یکسر نظر انداز کر دیا جاتا ہے،یہاں تک کہ قومی بحرانوں اور مسائل کے دوران بھی اقلیتوں کی رائے لینے کی ضرورت محسوس نہیں کی جاتی۔ یہی حال نصابی اور تاریخی کتب کا ہے، وہاں بھی اقلیتوں،خصوصاً مسیحیوں کے حوالے سے ایک لائن بھی نظر نہیں آتی، بلکہ ان کے عقائد و رسومات کے حوالے سے بے سرو پا اور دل آزار مواد شامل کیا گیا ہے ،جس سے کشیدگی اور نفاق کے بیج نشو ونما پاتے ہیں اور تعصب و نفرت کا ماحول تشکیل پاتا ہے۔ بعض سیاسی جماعتوں کے رہنما جوشِ خطابت میں یہاں تک کہہ جاتے ہیں کہ ہم ایک مسیحی کو ملک کا وزیر اعظم دیکھنا چاہتے ہیں۔ یہ الفاظ بلاول بھٹو کے ہیں، لیکن غالباً وہ آئینِ پاکستان کا مطالعہ نہیں کرتے ،جہاں صاف لکھا ہے کہ کوئی غیر مسلم پاکستان کا وزیر اعظم اور اب اٹھارویں ترمیم کے مطابق صدر بھی نہیں بن سکتا،ان ترامیم کے دوران اقلیتی رہنماؤں سے مشورہ تک نہیں کیا گیا اور آئین پاکستان کی تشکیل و تکمیل کے دوران کسی اقلیتی رہنما سے مشورے کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی، اس لئے ہم اسے متفقہ آئین نہیں مانتے کیونکہ اس پر کسی اقلیتی رہنما کے دستخط نہیں، جبکہ اقلیتوں کے بغیر نہ یہ ملک مکمل ہے اور نہ ہی قومی پرچم، جبکہ قومی پرچم میں سفید حصہ اقلیتوں کے لئے ہے اور ان کے لئے امن و امان اور تحفظ کی ضمانت ہے۔

مسلسل آئینی ترامیم نے اس غیر متفقہ آئین کا بھی حلیہ بگاڑ دیا ہے۔ انہی ترامیم کے دوران اقلیتوں کو وفاق سے نکال کر صوبائی مسئلہ بنا دیا گیا اور مرکز میں اقلیتوں کی وزارت ہی ختم کر دی گئی۔ یہ کام پیپلزپارٹی کے عہد میں ہوا جس کے بانی نے اس وزارت کی بنیاد رکھی تھی ، اس کے ساتھ ہی وفاقی مشاورتی کونسل برائے اقلیتی امور، وفاقی ثقافتی کونسل برائے اقلیتی امور اور اسی طرح صوبائی سطح پر اقلیتوں کے لئے مشاورتی کونسل ،بلکہ ضلعی سطح پر بھی اقلیتوں کے مسائل کے حل کے لئے مشاورتی کونسلیں قائم کی تھیں، جو اب نا پید ہو چکی ہیں۔ اقلیتی ثقافتی کونسل کے زیر اہتمام فنونِ لطیفہ اور ہر شعبہ حیات میں اقلیتی فنکاروں، ادیبوں، شاعروں، گلوکاروں، مصوروں، موسیقاروں کو ان کی خدمات کے اعتراف میں کیش نیشنل کلچرل ایوارڈ بھی دیئے جاتے تھے۔ جواب یاد پارینہ بن چکے ہیں۔ اقلیتوں کے نام نہاد ہمدرد قومی رہنما لفظ اقلیت ختم کرنے کی بات کرتے ہیں ،حالانکہ اقوام متحدہ کے چارٹرمیں، جس پر پاکستان نے بھی دستخط کئے ہیں، اقلیتوں کے حقوق درج ہیں اور وطن عزیز کی مذہبی اقلیتوں کی اپنی یہی شناخت ہیں۔ قائد اعظم کے نظریہ پاکستان کے مطابق جسے مسخ کر دیا گیا ہے، اقلیتیں پاکستان کی دوسرے پاکستانیوں کی طرح برابر کے شہری ہیں۔

ان سب باتوں کے ہوتے ہوئے آج تک کسی قومی رہنما نے نہ تو اقلیتوں کو وفاق بدر کرنے کا نوٹس لیا اور نہ ہی سنجیدگی اور درد مندی سے ان کے مسائل و مصائب سے انہیں نجات دلانے کے لئے کوئی لائحہ عمل تیار کیا، البتہ جب کوئی سانحہ رونما ہو جاتا ہے تو رنگین بیانات کے ٹشو پیپر سے ان کے آنسو پونچھنے کی کوشش کی جاتی ہے ،جیسے ہی ان بیانات کی سیاہی مدھم پڑتی ہے، انہیں بھلا دیا جاتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ وطن عزیز میں اقلیتوں کو مزید دوسرے درجے کے شہری بنانے کی بجائے آئین کو متفقہ بنانے کے لئے آئین کی بنیادی روح ،جس کے مطابق تمام شہری برابر ہیں، کے منافی شقوں کو ختم کیا جائے تاکہ اقلیتیں بھی اپنی اہلیت، دیانت ،قابلیت اور مقبولیت کی بنیاد پر صدر اور وزیر اعظم بن سکیں۔ اس کے علاوہ قومی امور و مسائل میں اقلیتوں سے مشاورت کا اہتمام کیا جائے۔ نصابی کتب سے دل آزار مواد خارج کیا جائے۔ تاریخ کے مضمون میں اقلیتوں، خصوصاً مسیحیوں کی ہر شعبہ حیات میں خدمات کا اندراج کر کے اعتراف کیا جائے۔ قومی تقریبات میں اقلیتوں کے دانشوروں، سماجی اور مذہبی رہنماؤں کو بھی نمائندگی دی جائے۔ تمام سیاسی جماعتوں کے لئے قانون بنایا جائے اور الیکشن کمیشن اُنہیں پابند کرے کہ وہ انتخابات میں براہ راست نمائندگی اور ان کے ساتھ نامزدگی کے نام پر ہونے والی دھاندلیوں کا بھی نوٹس لینا چاہئے۔ یہ وہ امور ہیں جن پر عمل پیرا ہو کر اقلیتوں کو تحفظ بھی دیا جا سکتا ہے اور ان کے احساس محرومی کو بھی دور کیا جا سکتا ہے۔

مزید :

کالم -