عمران خان کے کارکنوں کے کمال

عمران خان کے کارکنوں کے کمال
عمران خان کے کارکنوں کے کمال

  

خیبرپختونخوا کے بلدیاتی انتخابات لڑائی، مار کٹائی سے بھرپور نظر آئے۔ میڈیا کے مطابق خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع میں دس سے زائد افراد قتل کر دیئے گئے۔ مختلف واقعات میں زخمی ہو جانے والوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ پی پی پی ، مسلم لیگ (ن) اور اے این پی خیبرپختونخوا میں اپوزیشن میں ہے، مگر جماعت اسلامی پی ٹی آئی کی اتحادی ہے، ہر مشکل وقت میں جماعت اسلامی پی ٹی آئی کے لئے آسانیاں پیدا کرتی رہی ہے، پی ٹی آئی اس وقت اگر کے پی کے میں حکومت میں ہے اور قومی اسمبلی میں اس کے ارکان کی واپسی ہوئی ہے تو یہ سب جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق کی ’’مہربانی‘‘ ہے، جنہوں نے وزیراعظم نوازشریف کو اس بات پر آمادہ رکھا کہ کچھ بھی ہوجائے تحریک انصاف کے اراکان اسمبلی کے استعفوں کو منظور نہ کیا جائے، گو کہ پی ٹی آئی کے جو ایم این ایز یا ارکان صوبائی اسمبلی اس وقت اسمبلیوں میں موجود ہیں، آئینی و قانونی ماہرین ان کی حیثیت کو غیر قانونی تصور کرتے ہیں، مگر جماعت اسلامی کے امیر قانون اور آئین سے زیادہ ’’اخلاقی‘‘ طور پر پی ٹی آئی کے ممبران کی واپسی کو درست سمجھتے ہیں۔

قارئین جانتے ہیں کہ جن دنوں ’’دھرنا نگر‘‘ آباد تھا، جماعت اسلامی کے امیر کی کوشش تھی کہ ’’دھرنا نگر‘‘ آباد رہے یا برباد ہو جائے تحریک انصاف کے ارکان کے استعفے منظور نہیں ہونے چاہیں۔ اس تفصیل میں جانے کی ضرورت صرف اس لئے ضروری تھی کہ تحریک انصاف کے کارکنوں نے اپنی مخالف سیاسی جماعتوں کے کارکنوں کو مارا پیٹا، لیکن بدقسمتی سے انہوں نے اپنی حلیف جماعت کے کارکنوں کو بھی نہیں چھوڑا، یہی وجہ ہے کہ خیبرپختونخواسے تعلق رکھنے والی ساری جماعتوں نے پی ٹی آئی پر دھاندلی اور غنڈہ گردی کا الزام لگایا ہے،ن جماعتوں کا کہنا ہے کہ بلدیاتی انتخابات میں سرکاری مشینری کو استعمال کرتے ہوئے مخالف جماعتوں کے امیدواروں کے حامیوں اور ووٹروں کو پولنگ سٹیشنوں پر پہنچنے ہی نہیں دیا گیا،ضلعی انتظامیہ نے حکمران جماعت کے امیداوروں کو ہر طرح سے سپورٹ کیا، بعض پولنگ سٹیشنوں پر پولنگ کا وقت بڑھا دیا گیا اور یہ رعائت صرف حکمران جماعت کے امیدواروں کو دی گئی۔ اپوزیشن جماعتوں کے ان الزامات کے جواب میں کے پی کے وزیراعلیٰ پرویز خٹک نے میڈیا کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبائی حکومت نے شفاف انتخابات کرانے کے لئے صوبائی الیکشن کمیشن کے ساتھ مکمل تعاون کیا۔ دھاندلی کے الزامات جھوٹ پر مبنی ہیں، تاہم وزیراعلیٰ نے ایک دلچسپ بات یہ کی کہ قومی الیکشن اور بلدیاتی الیکشن میں بہت فرق ہوتا ہے۔ بلدیاتی الیکشن میں جس کا ’’ہاتھ‘‘ پڑتا ہے، وہ ’’ہاتھ‘‘ دکھا جاتا ہے۔وزیراعلیٰ کے اس بیان کا مطلب یہ ہے کہ ان کے نزدیک علاقائی انتخاب میں دھاندلی کوئی انہونی بات نہیں ہے۔ان انتخابات میں دھاندلی ہوتی رہتی ہے، میڈیا کو چاہیے کہ وہ اس بات کو ’’ایشو‘‘ نہ بنائے۔

وزیراعلیٰ کے اس بیان کے بعد سوال پیدا ہوتا ہے کہ الیکشن تو الیکشن ہوتا ہے۔چاہے قومی، صوبائی یا پھر بلدیاتی ہو، دھاندلی کسی بھی الیکشن میں ہو، دھاندلی ہی ہوتی ہے۔ خود عمران خان دھاندلی کے خلاف تحریک چلائے ہوئے ہیں، وہ قومی، صوبائی اور موجودہ حکومت کو ’’دھاندلی زدہ‘‘ قرار دیتے ہوئے، ہر دوسرے دن حکومت گرانے کی دھمکی دیتے رہتے ہیں، اب بھی انہوں نے کہا ہے کہ ان کا اس بات پر ایمان ہے کہ موجودہ حکومت اس سال ختم ہو جائے گی۔بہرحال خیبرپختونخوا کے بلدیاتی انتخابات کا موازنہ اگر بلوچستان اور پنجاب کے کنٹونمنٹ الیکشن کے ساتھ کیا جائے تو بلوچستان اور پنجاب میں کسی بھی جگہ دھاندلی کا الزام نہیں لگایا گیا۔امن و امان کے حوالے سے یہ انتخابات بہت پُرامن تھے۔ بلوچستان جیسے حساس صوبے میں بھی پولنگ کے دنوں میں کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں ایا، پنجاب کے کنٹونمنٹ انتخاب میں بھی امن و امان کی صورت حال بہت اچھی تھی، لیکن خیبرپختونخوا بلدیاتی انتخابات میں ہر طرح کی بدنظمی اور مار دھاڑ نظر آئی اور اس حوالے سے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا بہت کمزور ثابت ہوئے۔ چاہیے تو یہ تھا کہ وہ خیبرپختونخوا کے بلدیاتی انتخابات کو ایک مثالی بلدیاتی انتخابات کے طور پر لیتے ہوئے امن و امان کی صورت حال پر خصوصی توجہ دیتے، مگر انہوں نے اس حوالے ے اپنا رول ادا نہیں کیا۔ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے بارے میں ان کے مخالفوں کی رائے یہ ہے کہ وہ صوبے کے معاملات کو چلانے کی اہلیت نہیں رکھتے، مگر وزیراعلیٰ کے مشیروں اور وزیروں کی رائے یہ ہے کہ وزیراعلیٰ پرویز خٹک صوبے کے معاملات کو بہت اچھے طریقے سے چلا رہے ہیں۔

یہاں سوال یہ ہے کہ اگروزیراعلیٰ خیبرپختونخوا واقعی اچھے ایڈمنسٹر یٹرہیں تو پھر خیبرپختونخوا میں کسی بھی حادثے یا واقعے کے وقت وہ حرکت میں کیوں نہیں آتے؟ اس حوالے سے کہا جاتا ہے کہ خیبرپختونخوا کی حکومت کے اصل نگران جہانگیر ترین ہیں۔ وہ پنجاب میں بیٹھ کر خیبرپختونخوا کی حکومت چلاتے ہیں، اعلیٰ سطح کے تبادلوں سے لے کر چپراسی تک کی تعیناتی اور برطرفی جہانگیر ترین کے حکم پر ہی ہوتی ہے۔ صوبے کے دیگر معاملات کے حوالے سے بھی جہانگیر ترین کے ہی حکم کا انتظار کیا جاتا ہے، جہانگیر ترین جب کسی واقعے یا حادثے کے حوالے سے نوٹس لیتے ہیں تو پھر وزیراعلیٰ حرکت میں آتے ہیں، وزیراعلیٰ کی اکثر و بیشتر معاملات سے لاعلمی یا دوری کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ انہیں جہانگیر کے حکم کا انتظار کرنا پڑتا ہے، بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے خیبرپختونخوا میں جہانگیر ترین نے ہی پارٹی ٹکٹ تقسیم کئے تھے، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کو صرف چند ٹکٹ دیئے گئے جو انہوں نے اپنے قریبی عزیزوں اور دوستوں کے حوالے کر دیئے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ خیبرپختونخوا کی سیاست سے دور پنجاب میں رہنے والے جہانگیر ترین نے خیبرپختونخوا میں ایسے لوگوں کو ٹکٹ تقسیم کر دیئے جو تحریک انصاف کے عام کارکنوں کے لئے قابل قبول نہیں تھے، سو یہی وجہ تھی کہ خیبرپختونخوامیں تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے کئی کارکنوں نے آزاد حیثیت میں الیکشن لڑا اور اپنی ہی جماعت کے ٹکٹ ہولڈرز کو شکست دلانے کے لئے پوری کوشش کی۔ الیکشن کے دوران لڑائی جھگڑے کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ تحریک انصاف کے کارکنوں نے پارٹی قیادت سے ناراضی کا غصہ دیگر جماعتوں کے کارکنوں پر نکالا۔

یوں اپنی ہی پارٹی کے خلاف غم و غصے کے شکار کارکنوں نے دیگر سیاسی جماعتوں کے کارکنوں پر تشدد کیا اور مخالف امیدواروں کے ساتھ بدتمیزی کی۔ ان حالات میں کہا جا سکتا ہے کہ تحریک انصاف کے کارکن سیاست میں گالی گلوچ، لڑائی جھگڑے اور دھونس دھاندلی کے رویئے کو فروغ دے رہے ہیں۔ عمران خان کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ نہ صرف خود شائستہ اعداد اپنائیں بلکہ اپنے کارکنوں کو بھی شائستگی کے دائرے میں لائیں، کیونکہ اگر جماعت کے کارکنوں نے اپنا رویہ نہ بدلا تو دیگر سیاسی جماعتوں کے کارکن بھی جواباً لڑائی جھگڑے اور دنگافساد کرنے کے راستے پر چل نکلیں گے، جو ملک کے سیاسی ماحول کے لئے کوئی مناسب بات نہیں ہوگی۔ بہرحال خیبرپختونخوا میں تحریک انصاف کو اکثریت مل گئی ہے یا انہوں نے حاصل کرلی ہے۔ ان حالات میں اگر اپوزیشن جماعتوں کے درمیان اتحاد ہو جائے تو بلدیاتی ادارے تحریک انصاف کے ہاتھ سے نکل بھی سکتے ہیں اور اگر اس طرح کے حالات بن گئے تو پھر خیبرپختونخوا میں تحریک انصاف کی صوبائی حکومت کو مشکلات بھی پیش آ سکتی ہیں، لیکن اس طرح کا ماحول بننے سے خیبرپختونخوا کے عوام کا بھلا ہو سکتا ہے، کیونکہ عوام اس وقت بہت مشکلات میں ہیں، ان کے صوبے کا وزیراعلیٰ کچھ نہیں کر سکتا، البتہ بلدیاتی اداروں کے قیام سے ممکن ہے عام آدمی کی مشکلات میں کمی آ جائے۔

مزید :

کالم -