قوم کی تلاش میں بھٹکتا اپنا پاک وطن

قوم کی تلاش میں بھٹکتا اپنا پاک وطن
قوم کی تلاش میں بھٹکتا اپنا پاک وطن

  

رات کے تین بج رہے ہیں۔ لندن کی یخ بستہ رات کورے اور ٹھنڈ کی چادر لپیٹے اوندھے پڑی ہے۔ میری کھڑکی سے باہر کچھ پرندوں کے چہکنے کی آوازیں شب کے آخری پہر کے سکون کو گدگدا رہی ہیں۔ پورے ماحول میں قبرستان کی سی خاموشی ہے اور پُرامنی کے ان حالات میں شب بسری کرنے والوں کی اکثریت خوابِ خرگوش کے مزے لے رہی ہے ، لیکن ان میں کچھ ایسے بھی ضرور ہیں کہ جن کی راتوں کے مقدر میں کروٹیں اور دنوں میں آہیں لکھی ہیں۔ یہ نیم خوابی یا کم خوابی کی وجہ کوئی بیماری ہو سکتی ہے، عمر کا کوئی خاص حصہ ہو سکتا ہے، کوئی صدمہ یا دلِ ناتواں پہ لگی کوئی گہری چوٹ ہو سکتی ہے اور یا پھر کوئی فکر اس بے تابی کی اصل ہے۔ وجہ کوئی بھی ہو، مگر اس سے متأثر اس کا بستر ہوتا ہے یا صحت، کوئی دوسرا ہرگز نہیں۔ ہنڈیا اُبل کے اپنے کنارے پہلے جلاتی ہے۔ میں پہرِ آخرِ شب یہ سطریں لکھ کر اپنے ہی کنارے جلا رہا ہوں۔ سالہا سال تک لکھنے، کڑھنے اور پھر بے حسی دیکھتے رہنے کے بعد یہ قسم کھائی تھی کہ اب یہ گناہِ بے لذت ہرگز نہیں کرنا اور پھر اپنی اس قسم کی لاج کوئی تین سال تک قائم بھی رکھی، مگر لاکھ کوششوں کے باوجود اب خود کو روک نہیں سکا۔ آج قسم ہی نہیں ٹوٹی ، کفارہ بھی ادا ہوا۔ مجھے اپنی کوتاہ فکری، بے عملی، اپنی بساط اور شاید کسی سخت ردِ عمل کا بہت خُوب اندازہ ہے، مگر کہے بغیر بات بنتی ہے اور نہ ہی سکون ملتا ہے۔

مجھے برطانیہ میں رہتے ایک عشرہ ہو چلا ہے اور اس عرصے نے پاکستانی قوم کے کردار و عمل کے کچھ ایسے ہولناک اور عبرتناک پہلو میرے سامنے کھولے ہیں کہ جن سے ہر کسی کی آنکھیں پوری طرح کھُل اُٹھتی ہیں، چودہ طبق بھی روشن ہو جاتے ہیں اور حضرتِ انسان کے پاس سوائے کفِ افسوس ملنے کے کوئی چارہ بھی نہیں رہ جاتا۔ صدیوں کی غلامی نے مزاجاً ہمیں غلام بنا چھوڑا ہے، یہ بات قابلِ تسلیم ہے، لہٰذا ہم چاپلوسی اور شخصیت پرستی میں کسی بھی حد تک چل گزرتے ہیں۔ ہمیں یہ مانتے بھی کوئی عار نہیں کہ ہم عالمی سطح پر ایک مستند دھوکے باز قوم کی شہرت رکھتے ہیں۔ ہمیں چنداں اعتراض نہیں کہ اقوامِ عالم ہمارا نام سنتے ہی کانوں کو ہاتھ لگانے لگتے ہیں۔ ہمیں اندازا ہے کہ امریکی سفارت کار نے پاکستان سے واپس جا کے لکھا تھا کہ ’’یہ قوم پیسے کے لئے اپنی ماں تک بیچ دیتی ہے،، اور ہمارے قومی پس منظر کے حوالے سے اس نے شاید تجزیہ ٹھیک ہی کیا ہو، ہمیں اس پر بھی ملال نہیں، کیونکہ ہمارے سیاہ کرتوت ہمارے کردار کی چغلی بیچ چوراہے کھاتے پھرتے ہیں۔ انفرادیت کی بات یکساں مختلف ہو سکتی ہے، مگر یہاں ہم بحیثیتِ مجموعی پاکستانی قوم کو چھیڑ رہے ہیں۔ ہم بھوکے تھے، ننگے تھے، ناکام تھے، کام چور تھے، بد دیانت تھے، رشوت خور تھے، ظالم اور قابض تھے، دھوکے باز اور منافع خور تھے ہم سبھی تھے، لیکن بے حس نہیں تھے۔ ہم کمزور ہونے کے باوجود اپنی آنکھوں کے سامنے ہوتے ظلم کو دیکھ کے تڑپ اٹھتے اور نتائج سے قطعی بے خوف ہو کر ظالم کا ہاتھ پکڑ لیتے تھے، مگر غیرت نام تھا جس کا وہ ہماری قوم سے کوسوں دور ہجرت کر گئی۔ اس بے حسی کا نوحہ ہمیں انفرادی اور اجتماعی دونوں سطحوں میں پڑھنا چاہیے۔ ایک حس ہی تو ہے جو انسان کو کسی جانور سے ممیز کرتی ہے اور جب احساس کو ہی دیس نکالا مل جائے تو انسانیت کوچ کر جاتی ہے اور آج ہم اسی بے حسی کا شکار ہیں۔

آپ ایک لمحے کو اپنی آنکھیں موندیئے، ٹھنڈی سانس لیجیے اور تصور کی آنکھ سے منظر ملاحظہ کیجیے۔ ماں اپنے پانچ بچوں کے ساتھ گھر میں ہے۔ بچے باپ کو فون کرتے ہیں کہ گھر واپسی پہ کچھ کھانے کو لیتے آئیے۔ سبھی بچے دو سے دس سال کے پیٹے میں ہیں۔ آگ گھر کو لپیٹ میں لیتی ہے۔ ماں، دائیں بائیں اور کبھی اوپر نیچے دہائیاں دیتی پھرتی ہے، مگر کوئی پرسانِ حال نہیں ملتا۔ آگ بجھانے کے لئے سرکاری خرچ پر پالے گئے سارے کارندے فون بند کر کے اوندھے پڑے رہتے ہیں اور پانچ معصوم جانیں جل کر خاکستر بن جاتی ہیں۔ یہ ایک حادثہ تھا، مگر سانحہ یہ ہے کہ مدد کرنے کے رُوپ میں آنے والے جلاد معصوم بچیوں کی جلی ہوئی لاشوں کے کانوں سے سونے کی بالیاں نوچ لیتے ہیں۔ لاشوں کی بے حرمتی تو ایک طرف، دو سال کی معصوم بچیوں کی لاشوں کو نو چنے والے یہ گِدھ ہماری معاشرتی بے حسی کا عملی ثبوت ہیں۔ ہمارا مجموعی رویہ اب یہ بنتا چلا جا رہا ہے کہ ہم اپنی کوتاہیوں کا ذمے دار دوسروں کو ٹھہراتے ذرا دیر نہیں لگاتے۔ بار بار بجلی جانے کے در پردہ ہمیں امریکی سازش نظر آنے لگتی ہے۔ جینا دو بھر کر دینے والی مہنگائی پچھلی حکومتوں کی کارستانی قرار دی جاتی ہے۔

ہم نہ جانے اس ٹھیلے والے کے بارے میں کیوں نہیں سوچتے کہ جس کے وزن والے آلات پورا وزن نہیں رکھتے۔ ہم عوامی جگہ پر قابض اس ریڑھی والے کو کس کھاتے میں ڈالیں گے کہ جس نے آدھی سڑک روک کر مسافروں کی زندگی عذاب بنا چھوڑی ہے۔ منرل واٹر کے نام پر غلیظ پانی پلانے والوں کو کیا نام دیا جائے گا۔ مرچوں میں اینٹوں کا برادا ملانے والوں کو کیا پکارا جائے گا۔ حلال گوشت میں مردار اور گدھوں کا گوشت ملا کے بیچنے والوں کی بابت کیا حکم آئے گا۔ حرمتِ قرآن کی آڑ میں میاں بیوی کو بھٹے کی چمنی میں جھونک دینے والے ’’غیرت مندوں،، کو کس نام سے تعبیر کیا جائے گا۔ دہشت گرد قرار دے کر دو جوانوں کو راکھ بنا دینے والوں کو کیا کہا جائے گا۔ ڈاکو کہہ کر دو بھائیوں کو لاٹھیوں اور اینٹوں سے مار دینے والوں کو کس ایجنسی کے کھاتے میں ڈالا جائے گا۔ حکومتیں تو دور ٹھہریں، ہمیں اپنی بغلوں میں پہلے جھانکنا چاہیے۔ ہمارے اپنے کرتوت سیاہ ترین ہیں اور ذمے دار بیرونی ایجنسیاں ہیں۔ پیسے لے کر ڈگریاں بیچنے والے اپنے پاپی پیٹ کے لئے دھندا چلا رہے تھے۔ باہر کا کوئی خفیہ ہاتھ ان سے یہ کام نہیں کروا رہا تھا۔ یہ سارے کالے اعمال بہ بانگِ دُہل اعلان کر رہے ہیں کہ یہ ایک مقید ہجوم ہے جسے سرحدات کی جیل میں قید کر دیا گیا ہے۔

یہ کہانیاں تو ہمارے اندرونی معاملات کی ہیں۔ ہم اِن واقعات سے عالمِ دُنیا میں اُس طرح بدنام نہیں ہوتے کہ جس طرح سمندر پار بسنے والوں کی چھوٹی حرکتیں ہمیں اقوامِ عالم کی نظروں میں متأثر کرتی ہیں۔ پاکستان میں تو ہم گنوار تھے، نا ہنجار تھے، کودن تھے، مگر برطانیہ آ بسنے اور سالہا سال یہاں رہنے کے باوجود اگر ہم کچھ سیکھ نہ پائے، تو اس میں قصور ماحول کا نہیں تھا۔ ہمارے اپنے اندر کی زمینیں بنجر تھیں۔ بد قسمتی سے کہنا پڑتا ہے کہ ہم وہ سارے برے اطوار اپنے ساتھ ہی پاکستان سے اٹھا لائے کہ جن کی بدولت ہم اپنے ملک میں بھی مکروہ جانے جاتے تھے۔ یہاں پرائے دیس میں بھی ہم نے اپنا رویہ نہیں بدلا جس سے بحیثیتِ ایک پاکستانی ہم سب کو مختلف مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اب حالت یہ ہے کہ ہم اپنے معاملات درست کرتے نہیں اور اس کا قصور وار قرار دیتے ہیں یہاں کے نظام کو۔ میں یہاں کے نظام کا وکیل ہرگز نہیں۔ یہاں بھی بے شمار خامیاں ہوں گی، مگر وہ کوتاہیاں صرف پاکستانیوں کے لئے خاص نہیں۔ ہم خود فریبی کے شکار جب بھی اکٹھے ہوں گے، گوروں کے تعصب کا راگ الاپنے لگیں گے، کیونکہ یہی سب سے آسان کام ہے۔ خود کو بدلنا تو دراصل حقیقی تبدیلی ہے، مگر اس میں خاصی محنت درکار ہے اور ہم محنت سے تو ایسے بھاگتے ہیں جیسے کنکر سے پرندہ۔

انسانی ضمیر ایک حد تک اس کے کالے کرتوتوں پر لعنتیں بھیجتا ہے، مگر جب حضرتِ انسان باز نہیں آتا، تو یہ ضمیر اپنی آنکھیں مُوند لیتا ہے، ہمیشہ کے لئے اور اس حالت کو مردہ ضمیر پکارا جاتا ہے۔ ہم بحیثیتِ مجموعی ایسی حالت سے دوچار ہیں۔ اپنے ملک کی چار دیواری میں ہم جو کرتے تھے، کرتے تھے۔ وہ ہمارا اندرونی اور ذاتی معاملہ تھا، مگر ملک سے باہر آ کر بھی جب ہم نے اپنے لچھن نہ بدلے، تو اس چلتے پھرتے پاکستان نے دنیا بھر میں ہمیں رسوا کر دیا۔ مجھے برطانیہ میں رہنے والے ان لوگوں پر رحم آتا ہے کہ جو پاکستانی حالات پر تو ٹسوے بہاتے ہیں، مگر اپنے کرتوت ٹھیک نہیں کرتے کہ جن کی وجہ سے ملکِ عزیز کی خوش نمائی داغ دار ہوتی چلی جا رہی ہے۔ ہماری ناشکری کی انتہا یہ ہے کہ ہمیں ایک ملک اڑسٹھ سال قبل مل تو گیا، لیکن وہ ملک اپنی قوم کی تلاش میں تاحال سرپٹ بھاگ رہا ہے۔ اس ملک کو کوئی حادثاتی رہبر ایک قوم ہرگز عطا نہیں کر سکتا۔ اس منہ زور ہجوم کو ایک قوم بنانے والا قدرت ہی بھیجے تو بھیجے، ورنہ قومی درد میں ڈوبے نابغے مارنے کا ہمارا ازلی شوق ہمیں سوئے منزل کبھی نہیں جانے دے گا۔ ملکِ پاک دہائیوں سے اپنی قوم کے لئے چیخ رہا ہے، مگر ہمارے کانوں پر اس کی پکار نہ جانے دستک کیوں نہیں دے رہی۔ ہمیں اجتماعی نیند سے بیدار ہونا اور اپنے وطن کی پکار پر کان دھرنے ہوں گے اور جلد دھرنے ہوں گے، کیونکہ نظامِ قدرت زیادہ دیر رُک کر کسی قوم کی بیداری کا انتظار نہیں کرتا۔

مزید :

کالم -