ہمارا اصل دشمن اب امریکہ ہے،بھارت نہیں

ہمارا اصل دشمن اب امریکہ ہے،بھارت نہیں
ہمارا اصل دشمن اب امریکہ ہے،بھارت نہیں

  

خدا نہ کرے مجھے لگتا ہے جنوبی ایشیاء کا یہ ہمارا خطہ کسی بڑی بربادی کے دہانے پر آ کھڑا ہوا ہے۔ ہمارے مشیر امور خارجہ و قومی سلامتی نے اتوار کے روز (31مئی 2015ء) اسلام آباد میں ’’نظریہ ء پاکستان کونسل‘‘ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے جو یہ کہا ہے کہ پاکستان کی جوہری اہلیت نے بھارت کے خواب چکنا چور کر دیئے ہیں تو اس کا مطلب سمجھنے یا سمجھانے کے لئے کسی بزرجمہر کی ضرورت نہیں۔کچھ دنوں سے بھارت کے وزیر دفاع اور دوسرے اکابرین جس قسم کی بولیاں بول رہے تھے اور جس طرح کی انہونی باتیں کہہ رہے تھے ان کا جواب صرف اور صرف وہی تھا جو سرتاج عزیز صاحب نے دے دیا ہے۔

ایک عرصے سے ہم دعویٰ کرتے آ رہے ہیں کہ پاکستان ایک ذمہ دار جوہری ملک ہے۔ لیکن یہ حقیقت بھی سب کے سامنے ہے کہ نہ صرف یہ کہ اس کے پاس 100سے زائد جوہری وار ہیڈز موجود ہیں اور بھارت کے کونے کونے تک مار کرنے والے (شاہین) میزائل ہیں، بلکہ ایسے جوہری وارہیڈز بھی بنائے جا چکے ہیں جن کو ’’بیٹل فیلڈ نیو کلیئر وار ہیڈز‘‘ کہا جاتا ہے۔ یہ سائز میں بھی چھوٹے ہوتے ہیں اور ان کی بربادی اور تباہ کاری کا دائرہ بھی زیادہ وسیع نہیں ہوتا۔ لیکن ان کی ہمہ گیر ہلاکت انگیزی سے بھی کسی ذی روح کو مفر نہیں۔ ان وارہیڈز کا تجربہ دنیا کے اکثر ممالک نے کر رکھا ہے (جن میں پاکستان بھی شامل ہے) یہ بات دوسری ہے کہ بین الاقوامی صورت حال کی مصلحتیں ان کے اعلان میں مانع ہوجاتی ہیں۔

بھارتی وزیر دفاع نے کانٹے سے کانٹا نکالنے اور اس قسم کی دوسری یا وہ گوئیوں کا سہارا لینے کے لئے جس وقت کا انتخاب کیا ہے اس پر بھی ضرور غور کیجئے۔۔۔ اس قسم کی بے ہودہ زبان اور اس قسم کی متبکرانہ سوچ بھلا بھارتیوں کے ذہن میں کیسے آ سکتی تھی؟۔۔۔ یہ تمام کچھ باہر سے آ رہا ہے، کسی نے ہمیں بھارت کے اندر سے یہ ’’اینٹ‘‘ نہیں ماری!

باہر سے جس کسی نے بھی یہ ’’اینٹ‘‘ ماری ہے، اس کا نام کسے معلوم نہیں؟وہ خود 13برس تک ہمارے ہمسائے میں بیٹھ کر گھات میں رہا کہ کسی طرح پاکستان کے جوہری ترکش کو نشانہ بنائے، لیکن اگر آپ 2001ء سے 2014ء کے بارہ تیرہ برسوں کو یاد کریں تو آپ کو معلوم ہو گا کہ پاکستان لاکھ اندرونی خطرات سے دوچار رہا، لیکن وہ پے بہ پے اور یکے بعد دیگرے ایسے میزائلوں کے تجربات بھی کرتا رہا جو نیو کلیئر وارہیڈز کو اپنی نوکوں پر رکھ کر لے جا سکتے تھے۔ ان کی رینج آہستہ آہستہ بڑھتی رہی، ان کی انواع و اقسام میں رفتہ رفتہ اضافہ ہوتا رہا اور ان تجربات کی اطلاعات بھی دھیرے دھیرے ان قوتوں تک پہنچتی رہیں جو ہمارے ہمسائے میں آکر بیٹھی ہوئی تھیں۔

پاکستان ملٹری کو یہ کریڈٹ دینا چاہیے کہ انہوں نے انتہائی نامساعد حالات کے باوجود بھی اپنے دفاع کی کم سے کم ضروریات کو پسِِ پشت نہیں ڈالا۔۔۔ لیکن برادرانِ محترم! پاکستان نے جس وقت اور جس لمحے کے لئے یہ سب کچھ اکٹھا کیا تھا، وہ وقت اور وہ لمحہ اب آن پہنچا ہے!

کون نہیں جانتا کہ گوادر۔ خنجراب مواصلاتی نیٹ ورک سے دنیا کی کس قوت کو خطرہ ہے؟ جو کام سوویت یونین سے نہ ہو سکا اور جس کے لئے اس کو علاقائی شکست و ریخت کا سامنا ہوا، وہ کام اب ایک ایسی قوم کے کاندھوں پر آ پڑا ہے، جس کا امتحان گزشتہ تقریباً 70برسوں سے لیا جا رہا ہے۔

جون 1999ء میں جب کارگل کا میدانِ کارزار گرم تھا تو مجھ سے ایک بڑے دبنگ قسم کے منہ پھٹ صحافی نے پوچھا تھا ’’6ستمبر1965ء کب دہرایا جائے گا؟‘‘ میں نے جواب دیا تھا ’’جب 6ستمبر 1965ء دہرانے والا باہمی خودکشی کرنے کی کوشش کرے گا!‘‘ اگر 16برس پہلے بھارت 6سمتبر نہیں دہرا سکا تھا تو اب اس میں کون سی نئی روح داخل ہو گئی ہے کہ وہ ’’کانٹے سے کانٹا‘‘ نکالنے کی بڑھکیں مارنے لگا ہے۔۔۔ ہو نہ ہو یہ کسی غیر کی ’’صحبت‘‘ کا اثر ہے!

محفل میں غیر کی یہ پڑی ہو کہیں نہ خو

دینے لگا ہے بو سے بغیر التجا کئے

ذرا سوچئے کہ حالیہ ایام میں پاکستان نے کون سا نیا کارگل شروع کیا تھا، کون سی بھارتی پارلیمنٹ پر حملہ کیا تھا اور کون سے بمبئی تاج ہوٹل پر اٹیک کیا تھا کہ جناب منوہر پریکار کو چادر سے باہر پاؤں پھیلانے پڑے۔ ان کو معلوم ہونا چاہیے کہ جس قوت نے انہیں شہ دے کر ان کے غبارے میں ہوا بھرنے کی کوشش کی ہے، اس کا اپنا آشیانہ بادِ سموم کے بگولوں کی زد پر آنے کو ہے۔ کسی عالمی قوت کو یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ جوہری توانائی کا جِن اگر کسی بھی بوتل سے باہر آ گیا تو باقی جنات بوتلوں کے اندر بند نہیں رہ سکیں گے!

پاک چین مجوزہ تجارتی راہداری ،بھارت کے لئے نہیں، کسی ’’اور‘‘ کے لئے خطرہ ہے۔ اگلے روز ہمارے وزیراعظم نے آئی ایس آئی ڈائریکٹوریٹ میں جا کر آرمی چیف اور آئی ایس آئی چیف سے جو بریفنگ لی اور اس کے بعد جو بیان دیا، وہ سب نے دیکھا اور پڑھا۔ کیا بھارت اور بھارت کے سفید فام آقاؤں نے نہیں پڑھا؟ پاکستان نے پکا عزم کر رکھا ہے کہ وہ یہ راہداری والا منصوبہ ضرور پروان چڑھائے گا۔ اس کے لئے جس ’’سٹیٹ آف دی آرٹ‘‘ ٹائپ سیکیورٹی فورس کی تشکیل کی جا رہی ہے، اس کی خبر سب سے پہلے امریکہ کو ہوئی ہوگی اور پھر بھارت کو۔ اس ڈویژن کا ہیڈکوارٹر ایبٹ آباد میں قائم ہو چکا ہے۔ کئی ’’منتخب‘‘ بٹالینیں بھی مختص ہو چکی ہیں اور ان کو ان مقامات پر پہنچنے کے احکامات بھی صادر ہو چکے ہیں جہاں جہاں ان کو ڈیپلائے کیا جائے گا۔ گزشتہ دنوں آل پارٹیز کانفرنس میں جناب احسن اقبال نے جو میراتھن بریفنگ دی اور جس پر سب سیاسی ناخداؤں نے لبیک کا نعرہ لگایا تو اس کے بعد بھارت اور اس کے مربیّوں کو معلوم ہو جانا چاہیے تھا کہ پاکستان اس منصوبے پر فوری اور سنجیدگی سے عمل پیرا ہونا چاہتا ہے۔ ۔۔۔اب تو چند مہینوں کی نہیں، چند دنوں کی تاخیر بھی پاکستان کے مستقبل کے لئے خطرناک ،بلکہ زہر ناک ہو سکتی ہے!

جناب سرتاج عزیز کا کہنا تھا:’’ پاکستان کے دشمنوں نے ’پاک چائنا اکنامک کاریڈار‘ (PCEC) کو سبوتاژ کرنے کی سازشیں شروع تو کر دی ہیں لیکن ہم ان کو بتانا چاہتے ہیں کہ ان کے مذموم عزائم کبھی بھی کامیاب نہیں ہوں گے‘‘۔

اس سے پہلے پاکستان آرمی کھل کر (اور پہلی بار نام لے کر) بتا چکی ہے کہ ’’را‘‘ پاکستان میں دہشت گردی کروا رہی ہے۔ گزشتہ ماہ ہمارے سیکرٹری خارجہ اعزاز احمد چودھری بھی یہی بات کہہ چکے ہیں اور مزید یہ بھی کہ ہم نے بھارت کو برملا بھی کہہ دیا ہے کہ اس کی انٹیلی جنس ایجنسی یہ سب کرتوتیں کر اور کروا رہی ہے۔ تبھی تو بھارتی وزیر دفاع کو کہنا پڑا کہ اگر بکری، بکرے کو سینگ مارے گی تو بکرا بھی بکری کوضرور سینگ مارے گا۔ لیکن بھارتی بکرے کو معلوم ہونا چاہیے کہ اب گزشتہ 16برسوں سے بکری کی سیننگ اتنے لمبے اور اتنے نوکیلے ہو چکے ہیں کہ کوئی بکرا اس کے نزدیک پھٹکنے کی حماقت نہیں کر سکتا۔

اگر دو ممالک جوہری ہتھیاروں سے لیس ہوں تو ان میں وہ ملک جو روائتی ہتھیاروں میں کمزور ہوگا وہ ’’بوقت ضرورت‘‘ فرسٹ نیو کلیئر سٹرائیک کا ارتکاب ضرور کرے گا کہ یہ اس کی بقایا فنا کا مسئلہ ہوگا۔ دوسرے لفظوں میں دو جوہری ممالک کے مابین اگر دشمنی موجود ہو تو طاقتور جوہری ملک کو کمزور جوہری ملک سے خوفزدہ رہنا چاہیے کہ جوہری حملے میں ’’پہل‘‘ کرنے کی مجبوری کمزور فریق کے پاس ہوگی، طاقتور کے پاس نہیں۔

ہماری قومی سلامتی کے مشیر نے بروقت بھارت کو انتباہ کر دیا ہے کہ مشتری ہوشیار رہے۔ یہ نوبت یہاں تک کبھی نہ آتی اگر پاکستان کے پاس ایسے ثبوت اور شواہد موجود نہ ہوتے کہ انڈیا، پاک چین تجارتی راہداری کے منصوبے میں ٹانگ اڑانے پر ادھار کھائے بیٹھا ہے۔

اب کوئی دن ہی جاتا ہے کہ اس راہداری پر تعمیری کام شروع ہو جائے گا۔ اس تعمیر پر پاکستان آرمی کیا کیا حفاظتی اقدامات لیتی ہے، اس کے خدوخال واضح ہو چکے ہیں۔ شاہراہ کے جن حصوں پر کام شروع ہونے والا ہے، ان کے قرب و جوار میں سیکیورٹی فورسز کی پیشگی موجودگی اور اس کے تحفظاتی اقدامات شروع ہو چکے ہیں۔ تعمیراتی میٹریل، تعمیراتی مشینری، لوکل افرادی قوت، چینی ماہرین اور کاریگروں کی آمد کا سلسلہ شروع ہونے کو ہے۔ گوادر سے خنجراب تک یہ پہلی ’’مغربی شاہراہ‘‘ سوائے سندھ کے باقی تین صوبوں سے گزرے گی۔ پلاننگ ڈویژن پر بلاشبہ بہت بھاری ذمہ داری آن پڑی ہے۔ تعمیراتی کام کی مانیٹرنگ ہفتہ واری نہیں، بلکہ روزانہ کی بنیاد پر کی جائے گی اور اس میں سول اور ملٹری اربابِ کارکویک دل اور یک جان ہو کر کام کو آگے بڑھانا ہوگا۔ یہ ایک عظیم لیکن مہیب منصوبہ ہے۔ لیکن دنیا کے جتنے بھی عظیم منصوبے آج تک پایہ ء تکمیل کو پہنچے ہیں،وہ مہیب تھے اور ان میں جانوں کا ضیاع ضرور ہوا ہے، خواجہ وہ ٹیکنیکل مراحل کی مشکلات ہوں، زمینی مشکلات ہوں یا سیکیورٹی مشکلات ہوں۔۔۔ عجیب اتفاق ہے کہ موجودہ راہداری منصوبے میں یہ تینوں مشکلات بیک وقت اور بدرجہ اتم موجود ہیں اور موخرالذکر مشکل تو سب سے اتم ہے۔لیکن انسان جب کوئی کام کرنے پر تُل جائے تو خدا خود اس کے ہمراہ ہو جاتا ہے!

ایک بات ہمیں نہیں بھولنی چاہیے کہ اس ’’اکنامک کاریڈور‘‘ کے اعلان کے بعد ہمارا اصل دشمن بھارت نہیں، امریکہ ہے۔ یہ مسئلہ پاکستان اور چین کی سویلین اور عسکری قیادت کے مابین سٹرٹیجک ڈائیلاگ کا متقاضی ہے جس کا انعقاد جلد سے جلد ہونا چاہیے۔ امریکہ ۔ بھارت۔ اسرائیل گٹھ جوڑ کا توڑ ایک بڑا مہیب (Formidable) چیلنج ہے اور پاکستانی قیادت کا ایک بڑا امتحان ہے۔۔۔ ہمارے میڈیا کو بھی اس سلسلے میں عوامی آگہی کا رول ادا کرنا ہے اور جلدکرنا ہے۔

مزید :

کالم -