ایم پی اے کا قتل۔۔۔حکومت کے لئے لمحہ فکریہ

ایم پی اے کا قتل۔۔۔حکومت کے لئے لمحہ فکریہ

  

کامونکی میں ٹارگٹ کلنگ کی افسوسناک واردات میں برسر اقتدار پارٹی کے رکن اسمبلی رانا شمشاد ان کے صاحبزادے اور ایک دوست کو قتل کر دیا گیا جبکہ ان کا محافظ زخمی ہو گیا۔ اندھا دھند فائرنگ کر کے تینوں افراد کو موت سے ہمکنار کیا گیا۔ محافظ کی حالت بھی نازک بتائی جاتی ہے۔اس واردات کی ایف آئی آر یا پولیس رپورٹ کچھ بھی ہو یہ واردات کسی سانحہ سے کم نہیں۔ پھر بہتر امن و امان والے صوبہ کا دعویٰ رکھنے والی انتظامیہ کے لئے تو یہ لمحہ فکریہ ہے کہ برسر اقتدار جماعت کے رکن اسمبلی کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ واردات موٹر سائیکل سواروں نے کی۔اس واردات کے سوگ میں نہ صرف کامونکے بلکہ اِردگرد کے دوسرے علاقوں میں بھی سوگ کی کیفیت ہے کہ رانا شمشاد خاندانی سیاست کے وارث ہیں ان کے والد بھی رکن اسمبلی منتخب ہوئے اور یہ خود چوہدری پرویز الٰہی کی کابینہ میں وزیر تھے۔ یہ واردات پولیس کے لئے چیلنج ہے۔ یوں بھی کامونکی ا ور مریدکے ایسے علاقے ہیں جن میں لڑائی جھگڑے اور قتل جیسی وارداتیں زیادہ ہوتی ہیں اور یہاں ہونے والی اندھی واردات کا سراغ بھی نہیں ملتا۔ تھانوں میں تعینات عملہ یا تو تجربہ کار نہیں ہوتا یا پھر تجاہل عارفانہ سے کام لیا جاتا ہے کہ پولیس روائتی سستی سے کام لیتی ہے۔یہ واردات تو صریحاً ایک چیلنج کی حیثیت رکھتی ہے پولیس اپنا فرض نبھائے اس واردات کے اصل مجرم پکڑے جائیں تو اور بھی کئی وارداتوں کا سراغ مل سکتا ہے۔ حکومت کو اس قتل کے سراغ کے لئے خصوصی توجہ دینا ہو گی۔

مزید :

اداریہ -