خون کا حساب لینے کا وقت

خون کا حساب لینے کا وقت

  

کمانڈر سدرن کمانڈ لیفٹیننٹ جنرل ناصر جنجوعہ نے کہا ہے کہ دشمن چاہتے ہیں پاکستان میں خون ہمیشہ بہتا رہے دشمنوں کو ان کے کیمپوں سے نکال کر عبرتناک سزا دیں گے۔ ہمارا دشمن ذہنی پستی کا شکار ہے اور اب ہمارے بچوں کو مارنے لگا ہے۔ سانحہ مستونگ میں پشتونوں اور بلوچوں کو لڑانے کی کوشش کی گئی، مگر ہم سب مل کر دشمن سے لڑیں گے، اور بزدل دہشت گردوں سے ایک ایک قتل کا حساب لیں گے۔ کوئٹہ میں سانحہ مستونگ کے شہدا کے لئے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے لیفٹیننٹ جنرل ناصر جنجوعہ نے کہا اگلی صدی پاکستان کے حوالے سے بلوچستان کی صدی ہے، وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے مستونگ قتلِ عام میں ’’را‘‘ملوث ہے شواہد ہیں کہ سرحد پر ’’را‘‘ کی براہ راست مداخلت ہے، اس کے دو مقاصد ہیں ایک دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان ناکام ہو دوسرا اقتصادی راہداری متاثر ہو۔

لیفٹیننٹ جنرل ناصر جنجوعہ نے دہشت گردوں کو ان کے کیمپوں سے نکال کر عبرتناک سزا دینے کے جس عزم کا اظہار کیا ہے پوری قوم اس میں ان کے ساتھ ہے اور قوم سے جس قسم کا تعاون بھی مطلوب ہوگا وہ دہشت گردی کی اس جنگ میں دشمنوں کا قلع قمع کرنے میں مصروف پاک فوج کے سرفروشوں کے شانہ بشانہ ہوگا۔ لیکن اب وقت آ گیا ہے جس دشمن کا بلوچستان کی دہشت گردی میں ملوث ہونے کا بار بار ذکر کیا جا رہا ہے اس پر جوابی وار بھی کیا جائے، خواجہ محمد آصف نے تو ایک بار پھر کہہ دیا ہے کہ مستونگ قتلِ عام میں ’’را‘‘ ملوث ہے تو پھر سوال یہ ہے ’’را‘‘ کو سزا دینے کے لئے کیا کیا جا رہا ہے؟ ہوتا یہ ہے کہ بلوچستان میں ہر چند روز بعد دہشت گردی کی کوئی نہ کوئی واردات ہو جاتی ہے۔ سیکیورٹی اداروں کے ارکان پر حملے ہوتے ہیں حکومت کی سطح پر دہشت گردوں کے قلع قمع کے اعلانات سامنے آتے ہیں۔ پھر ایک دو دن کا وقفہ آتا ہے پھر کوئی بڑی واردات ہو جاتی ہے۔ ان وارداتوں میں ’’را‘‘ کے ملوث ہونے کا ذکر بھی پرانا ہو چکا ہے پانی سر سے گزر چکا ہے۔ اب عملی اقدام کا وقت ہے اور ہماری جوابی حکمت عملی بھی سامنے آنی چاہئے۔ ہمارے اداروں کو اب سر جوڑ کر بیٹھنا چاہئے اور یہ طے کرکے اُٹھنا چاہئے کہ خدا نخواستہ کسی اگلی واردات سے پہلے ہم نے جوابی اقدامات کرنے کا کیا پروگرام بنایا ہے۔

خواجہ محمد آصف کا یہ فرمان بالکل درست ہے کہ دشمن ہمیں دہشت گردی کی جنگ میں ناکام کرنا چاہتا ہے۔ پاک چائنہ راہداری روٹ بھی اس کا ہدف ہوسکتا ہے کہ وہ گوادر کے مقابلے میں ایرانی بندرگاہ چاہ بہار کی ترقی کے معاہدے کر رہا ہے۔کمینے دشمن سے اور توقع بھی کیا کی جا سکتی ہے اور اگر ہم نے اس سے کچھ امیدیں لگا رکھی ہیں تو پھر یا تو ہم نے اس کی دشمنانہ نفسیات کو سمجھا نہیں یا پھر ہماری عقل پر پڑا ہوا پردہ صحیح طرح سے اترا نہیں، دشمن ہمیں ناکام کرنا چاہتا ہے تو محض اس کے چاہنے سے کیا ہوتا ہے جب تک ہم ہمت ہار کر نہ بیٹھ جائیں۔ ہمیں دشمن کے عزائم کا تجزیہ کرکے جوابی کارروائی کی ضرورت ہے۔ پہلے تو ہم یکسو ہو جائیں کہ جو دشمن دہشت گردی میں ملوث ہے وہ وہی ہے جس کا ہم ذکر کر رہے ہیں تو پھر جوابی کارروائی سے خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں۔ ہم ایک ایٹمی قوت ہیں اور ایٹمی قوت کا دہشت گردی کے ہاتھوں یوں لہولہان ہو جانا شرمندگی کی بات ہے، ہمیں ساری صورت حال کا صحیح ادراک کرکے جوابی کارروائی کے لئے تیار ہو جانا چاہیے۔ یہ بھی دیکھ لینا چاہئے ایسی صورت حال میں دوسرے ملک کیا کرتے ہیں ۔

دوسرے ملکوں کی مثال کو سامنے رکھیں جنہیں دہشت گردی کا سامنا رہا تو نظر آتا ہے کہ انہوں نے دہشت گردی کے ایک ہی بڑے واقعے کے بعد ایسا بندوبست کر لیا کہ ان کے دشمن کو دوسری واردات کرنے کا حوصلہ نہ ہوا، امریکہ پر نائن الیون کو ہونے والا حملہ بیک وقت اس کے اقتصادی اور فوجی استحکام کی علامتوں پر حملہ تھا، تین اغوا شدہ جہازوں سے بیک وقت تین اطراف سے حملہ کیا گیا۔نیو یارک کا ٹون ٹاور زمین بوس ہو گیا ہزاروں لوگ موت کے منہ میں چلے گئے۔ امریکی سلامتی کے ذمہ دار ادارے فوراً اس ٹوہ میں لگ گئے کہ یہ کون لوگ ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے اپنی دانست میں جن لوگوں کا سراغ لگایا ان کا دنیا بھر میں ناطقہ بند کر دیا۔ یہاں تک کہ ایک آزاد ملک افغانستان پر حملہ کر کے پہلے اس کی حکومت ختم کی، پھر تدریجاً اس میں اپنی افواج داخل کیں اور جن لوگوں کو اس نے امریکہ پر حملے کا مجرم گردانا ان پر اوراُن کے سہولت کاروں پر افغانستان کی سرزمین تنگ کر دی، امریکہ جس نتیجے پر پہنچا اس کی روشنی میں اس نے اقدام کیا۔ اور پھر دہشٹ گردوں کے تعاقب میں یوں مصروف ہو گیا کہ پیجھے مڑ کر نہیں دیکھااور نتیجے کے طور پر کسی دہشت گرد تنظیم کو اس کی زمین پر دوسرا حملہ کرنے کی جرأت نہ ہوئی، پوری قوم بھی ہائی الرٹ ہو گئی اور کسی نے کسی دہشت گرد کو کوئی سہولت نہ دی۔

اسی طرح دوسرے کئی یورپی ملکوں میں بھی دہشت گردی شروع ہوئی لیکن ایک یا زیادہ سے زیادہ چند وارداتوں کے بعد یہ سلسلہ رک گیا، دُنیا میں غالباً ایک ہی مثال ہمارے ملک کی ہے جس میں دہشت گردی کا آغاز ہوا تو آج تک خون رس رہا ہے۔ لیفٹیننٹ جنرل ناصر جنجوعہ نے بالکل درست نشان دہی کی کہ دشمن چاہتے ہیں پاکستان میں خون ہمیشہ بہتا رہے۔ دشمن کی یہ خواہش اور کوشش تو ضرور ہو سکتی ہے لیکن اسے ناکام بنانے کے لئے ہم کہاں تک جا سکتے ہیں یہ بھی تو سوچنے کی بات ہے یہ درست ہے کہ ہمارے وسائل محدود ہیں ہر شعبے میں ہماری محدودات بھی ہیں لیکن ہمارے لئے لمحہ فکریہ ہے کہ کبھی کبھی تو یوں لگتا ہے دہشت گرد اور ان کے سرپرست ہمیں بے دست و پا کرنے پر کمربستہ ہیں۔ مستونگ میں واردات کر کے یہ لوگ پھر غائب ہو گئے اور ہم ’’را‘‘ کے ملوث ہونے کا ڈھنڈورا پیٹ رہے ہیں اگر ’’را‘‘ ملوث ہے اور ثبوت بھی موجود ہیں تو ہم نے اب تک اس کے خلاف کیا کارروائی کی ہے کیا حکمت عملی اختیار کی ہے کیا کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں؟ اب ’’را‘‘ کے خلاف زبانی جمع خرچ سے آگے بڑھ کر عملی اقدام کرنا ہوگا، بہت ہو چکا ہے اب دشمنوں پر یہ ثابت کرنا پڑے گا کہ جو ہو چکا ہے وہ پہلے ہی بہت زیادہ ہے اب ہر کسی سے جو بھی اس کا ذمہ دار ہے خون کا حساب لینا ہوگا۔ ’’بدلہ لینے میں ہی زندگی ہے‘‘ کیا اس سنہری اصول کو ہم فراموش نہیں کرچکے؟

مزید :

اداریہ -