شعبان المعظم کی فضیلتیں کیا ہیں؟

شعبان المعظم کی فضیلتیں کیا ہیں؟

  

علامہ شہزاد مجددی بعض روایات کی نشاندہی کرتے ہیں ماہِ شعبان المعظم میں حضور اکرم ؐ کا بکثرت روزے رکھنا احادیث صحیحہ سے ثابت ہے۔اسی طرح بندوں کے اعمال کا بارگاہ الٰہی میں پیش کیا جانا اور سال بھر کے امور حکمت کا طے پانا بھی بعض مستند روایات میں مروی ہے۔ ماہِ شعبان کی 15 ویں رات یعنی ’’شب برأۃ‘‘ کے حوالے سے بھی صحیح و ضعیف روایات ملتی ہیں جن سے اس رات کی اہمیت اور خصوصیت ظاہر ہوتی ہے۔البتہ اس رات میں کوئی خاص اور متعین نماز یا نوافل سرکار دو عالم ؐ سے پڑھنا یا اُن کے بارے میں کوئی مبنی بر فضیلت حکم ارشاد فرمانا محدثین کرام کے نزدیک صحیح و ثابت نہیں ہے۔

حضور ؐ سے منسوب جو روایات اس حوالے سے عام طور پر واعظین یا مقررین بلا تحقیق بیان کرتے ہیں وہ اکثر غیر مستند ، موضوع اور من گھڑت ہیں، ان موضوع روایات کی نشاندہی سے پہلے مناسب ہو گا کہ شعبان اور شب برأت کے فضائل میں وارد ہونے والی صحیح روایات بھی بیان کر دی جائیں تا کہ شب برأت کی فضیلت یا وجود کا سِرے سے انکار کرنے والے متشدّدین کی کچھ تشفی ہو سکے۔

صحیح بخاری میں ام المؤمنین عائشہ صدیقہؓ سے روایت ہے:

ترجمہ: ’’نبی کریم ؐ شعبان سے بڑھ کر کسی اور مہینہ میں روزے نہیں رکھتے تھے‘‘۔

’’گویا آپ پورا شعبان روزے سے رہتے‘‘۔

بخاری اور مسلم وغیرہ‘ میں وارد درج بالا الفاظ کے حوالے سے خود حدیث کے متن میں وضاحت موجود ہے کہ اس سے مراد شعبان کا اکثر حصہ روزے کی حالت میں گزارنا ہے۔

الجامع الترمذی میں حضرت انس ابن مالکؓ سے روایت ہے:

نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام سے پوچھا گیا: رمضان کے بعد کون سے روزے افضل ہیں؟ تو آپ ؐ نے فرمایا: ’’شعبان کے‘‘۔ (الذکاۃ: رقم: ۵۹۹)

اس روایت کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ اسے ترمذی نے امام بخاری سے روایت کیا ہے۔اس حدیث کی سند میں ایک راوی صدقہ بن موسیٰ ہے جسے ابن معین اور نسائی و غیرہما نے ضعیف کہا ہے۔ البتہ حافظ ابن حجر کہتے ہیں: ’’صدوق لہ اوھام‘‘ سچا مگر کچھ وہمی ہے۔ (تحفۃ الأحوذی: الذکاۃ: رقم:۵۹۹)

ماہِ شعبان میں کثرت صیام کے حوالے سے ایک مشہور روایت حضرت ام المؤمنین ام سلمۃؓ سے مروی ہے، فرماتی ہیں:

’’ میں نے نبی کریم ؐ کو یکے بعد دیگرے دو مہینوں کے مسلسل روزے رکھتے نہیں دیکھا، سوائے شعبان اور رمضان کے‘‘۔

حضرت عبداﷲ بن مبارک رحمہ اﷲ پورا شعبان روزہ رکھنے کے حوالے سے وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

’’ اس حدیث کا مطلب ہے کہ آپ ؐ مہینے کا اکثر حصہ روزہ رکھتے تھے‘‘۔

مسند احمد اور سنن نسائی میں حضرت اسامہ بن زیدؓ سے مروی ہے: رسول اﷲ ؐ کبھی ایسے مسلسل روزہ رکھتے کہ ہم سمجھتے اب آپ افطار نہیں فرمائیں گے اور کبھی یوں مسلسل بغیر روزہ کے رہتے کہ ہم گمان کرتے اب آپؐ روزہ نہیں رکھیں گے مگر ہفتہ کے دو دن، اگر تو وہ ایام صیام میں آ جاتے تو فبہا ورنہ آپ ان دو دنوں کا روزہ رکھتے تھے اور آپ کسی اور مہینہ میں اتنے روزے نہ رکھتے تھے کہ جتنے شعبان میں۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اﷲؐ ! آپؐ کبھی اس طرح روزہ رکھتے ہیں، لگتا ہے کہ اب افطار نہیں کریں گے اور کبھی یوں مسلسل بغیر روزہ کے رہتے ہیں کہ لگتا ہے اب روزہ نہیں رکھیں گے سوائے دو دنوں کے، اگر تو یہ آپ کے ایام صیام میں آ جائیں تو ٹھیک ورنہ آپ ان دو دنوں کا روزہ رکھتے ہیں، فرمایا:کون سے دو دن؟ اسامہ نے عرض کیا: پیر اور جمعرات کا دن، فرمایا: یہ دو دن وہ ہیں جن میں اعمال رب العالمین کی بارگاہ میں پیش کیے جاتے ہیں اور میں یہ پسند کرتا ہوں کہ میرے اعمال اس طرح پیش ہوں کہ میں روزہ دار ہوں، اسامہ بن زید نے عرض کیا! میں نے شعبان سے زیادہ کسی اور مہینہ میں آپ کو روزہ رکھتے نہیں دیکھا۔ تو آپ ؐ نے فرمایا:

’’ یہ رجب اور رمضان کے درمیان وہ مہینہ ہے جس کی اہمیت سے لوگ غافل رہتے ہیں اور یہی مہینہ ہے جس میں اعمال ربّ العالمین عزّوجل کی طرف اٹھائے جاتے ہیں اور میں یہ پسند کرتا ہوں کے میرے اعمال اس حال میں اٹھائے جائیں کہ میں روزہ سے ہوں‘‘۔

’’نصف شعبان سے متعلق صحیح احادیث‘‘

شب برأت یا شعبان کی پندرھویں رات کے حوالے سے صحیح، حسن اور مقبول روایات متعدد صحابہ کرام علیھم الرضوان سے مروی ہیں، جن کی فہرست حسب مراتب کچھ یوں ہے:

۱) حضرت ابو بکر صدیق ؓ

۲) حضرت عائشہ صدیقہ ؓ

۳) ابو موسیٰ اشعری ؓ

۴) معاذ بن جبل ؓ

۵) ابو ھریرۃ ؓ

۶) عبداﷲ بن عمرو بن عاص ؓ

۷) کثیر بن مرۃ الحضرمی ؓ

۸) ابو ثعلبہ الخشنی ؓ

۹) عوف بن مالک وغیرھم رضی اﷲ تعالیٰ عنھم

پہلی روایت حضرت سیدنا ابو بکر صدیق ؓ سے روایت ہے:

’’ اﷲ تبارک وتعالیٰ شعبان کی 15ویں رات کو آسمان دنیا کی طرف ( اپنے شایان شان) نزول فرماتا ہے اور ہر کسی کو بخش دیتا ہے سوائے اس انسان کے جس کے دل میں کینہ ہو یا وہ اﷲ عزوجل کے ساتھ کسی کو شریک کرنے والا ہو۔

’’موضوع روایات‘‘

موضوع روایات یعنی وہ من گھڑت اور جعلی حکایات جنھیں حدیث کہہ کر بیان کیاجاتا ہے اس اعتبار سے بھی نہایت خطرناک ہیں کہ ان کے فروغ اور تشہیر سے غیردین ، دین بن جاتا ہے اور سادہ لوح مسلمان ان کو حدیث نبوی سمجھ کر اپنا لیتے ہیں اور ثواب سمجھ کر اُن پر عمل کرتے رہتے ہیں جس سے خاص طور پر نئی نئی رسوم و بدعات جنم لیتی ہیں اور عقائد و نظریات میں انتشار پیدا ہوتا ہے۔

موضوع روایت کے بارے میں ائمہ حدیث کا متفقہ فیصلہ ہے:

اس کو روایت کرنا جائز نہیں سوائے بیان وضعیت کے۔

علامہ ابن جوزی اور امام سیوطی علیھما الرحمہ نے دو روایات نقل کی ہیں:

پہلی روایت حضرت ابوھریرۃ ؓ سے مروی ہے:

’’جس نے شعبان کی15ویں رات 12 رکعات نماز پڑھی اور ہر رکعات میں ’’قل ھواﷲ احد‘‘ 30 بار پڑھی تو وہ دنیا سے نہیں جائے گا جب تک اپنا ٹھکانہ جنت میں نہ دیکھ لے‘‘۔ (یہ روایت موضوع ہے)

دوسری روایت حضرت علیؓ سے مروی ہے:

’’میں نے رسول اﷲ ؐ کو نصف شعبان کی رات دیکھا، آپ نے قیام کیا اور 14 رکعات ادا کیں، پھر بعد فراغت بیٹھ گئے اور پھر 14 بار سورۃ الفاتحہ پڑھی اور 14بار النّاس اور ایک بار آیۃ الکرسی پڑھی اور لقد جاء کم رسول کی آیت پڑھی تو جب اپنی نماز سے فارغ ہوئے تو میں نے اس عمل کے بارے میں سوال کیا تو آپ نے فرمایا: جو تم نے دیکھا ہے جو شخص ایسا کرے گا تو اس کے لئے 20 مقبول حج اور 20 سال کے مقبول روزوں کا ثواب ہے، پس اگر اس نے اس دن صبح روزہ کی حالت میں کی تو اس کے لئے 2 سال گزشتہ اور 2 سال آئندہ روزے کا ثواب ہے‘‘۔

امام سیوطی ؒ اسے نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

یہ روایت موضوع ہے، اس کی اسناد تاریک ہیں اور محمد بن مہاجر نے اسے گھڑا ہے۔ (میں کہتا ہوں) اسے بیہقی نے شعب الایمان میں روایت کیا ہے۔

اور کہا: شبہ ہے کہ یہ حدیث موضوعات میں سے نہ ہو۔

حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی علیہ الرحمہ نے بھی ’’ماثبت بالسنۃ فی ایام السنۃ‘‘ (ص۸۶) میں اس روایت کو نقل کرنے کے بعد امام بیہقی کے انہی الفاظ کو نقل کیا ہے۔

(ملا علی قاری ؒ کی وکالت)

ملا علی قاری اپنے رسالہ میں جو انہوں نے لیلۃ القدر اور لیلۃ البرأۃ کے بارے میں لکھا ہے، امام بیہقی کے اس کلام کو نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں:

ترجمہ: میں کہتا ہوں: بعض راویوں کی جہالت سے حدیث کا موضوع ہونا لازم نہیں آتا اور ایسے ہی الفاظ میں نکارت کا ہونا بھی مقتضائے وضعیت نہیں ہے، مناسب یہ ہے کہ اُس روایت پر ضعف کا حکم لگایا جائے اور پھر ضعیف کا فضائل اعمال میں قابل عمل ہونا تو بالاتفاق جائز ہے۔باوصف اس کے کہ نفل نماز کا اصولی طور پر اس رات میں پڑھنا بطریق صحیحہ خود رسول اﷲؐ سے ثابت ہے اور کمیت و کیفیت کے اعتبار سے ان میں پایا جانے والا ضعف مضر نہیں ہے، پس بلا شبہ نماز بہترین عمل ہے اور اس سے ماوراء النہر، خراسان، روم، ایران اور ہند و غیرہامیں پڑھی جانے والی سو رکعت نماز جس میں دس دس بار سورۃ اخلاص پڑھی جاتی ہے کا جواز واضح ہوتا ہے جیسا کہ صاحب ’’قوت القلوب‘‘ اور امام غزالی نے ’’احیاء‘‘ میں بیان کیا ہے۔ اور اگرچہ ان نمازوں کا وجود بسند صحیح حضور اکرمؐ سے ثابت نہیں ہے لیکن ان پر عمل پیرا ہونے میں کوئی چیز مانع نہیں اگرچہ مستقل ہی کیوں نہ ہو، ہاں ان کے سنّت ہونے کا اعتقاد رکھنا صحیح نہیں ہے اور اسی طرح ان نمازوں کو بعض فقھاء کے نزدیک جماعت کے ساتھ ادا کرنا بھی درست نہیں ہے۔

’’علامہ لکھنوی کی گرفت‘‘

علامہ عبدالحئی لکھنوی حنفی ؒ لکھتے ہیں :(الآثار: ص۷۷)

ترجمہ: میں کہتا ہوں: اس میں کئی مثالیں ہیں، تو یقینامحض بعض رواۃ کا مجہول ہونا حدیث کے موضوع ہونے کا متقاضی نہیں ہے لیکن اس روایت کے ساتھ وابستہ موجودہ قرائن اس کا تقاضا کرتے ہیں، پس جب کسی حدیث کی سند جید نہ ہو اور اس کے طریق میں سے کوئی طریق (سند) مجہول، ضعیف اور ساقط راوی سے خالی نہ ہو اور ایسے ہی مجروحین سے بھی اور پھر خود متن حدیث رکاکت سے خالی نہ ہو تو یہ اس روایت کے موضوع ہونے پر دلالت کرتا ہے۔

باقی رہا فضائل اعمال میں ضعیف حدیث پر عمل کا معاملہ تو اس پر اتفاق کا دعویٰ باطل ہے، ہاں یہ جمہور کا مذہب ہے لیکن وہ بھی مشروط ہے کہ حدیث شدید الضعف نہ ہو اور اگر ایسا ہو تو وہ فضائل میں بھی قابل قبول نہیں ہے۔ باقی رہا اس رات میں نوافل کا معاملہ تو لیلۃ البراۃ کو عبادت و نوافل کے ساتھ زندہ رکھنے کے استحباب میں تو کوئی کلام نہیں ہے۔ انتھی‘‘

علامہ لکھنوی شب برأت میں عبادت و نوافل کا استحباب اور اس سلسلہ میں وارد احادیث کا تذکرہ کرنے کے بعد مزید لکھتے ہیں:

’’یہ عام مشاہدہ ہے کہ جو لوگ ان خاص راتوں میں اس قسم کی نمازیں ادا کرتے ہیں وہ اتفاقاً ایسا نہیں کرتے بلکہ وہ ان کے شرعاً ثابت ہونے کا اعتقاد رکھتے ہیں اور یہ گمان کرتے ہیں کہ ان نمازوں کا کوئی خاص ثواب ملتا ہے سو اس بناء پرسدّ ذرائع کے لیے ان نمازوں سے منع کیا جانا غیر شریعت کو شریعت سمجھے جانے کے اندیشے سے لازم ہے۔

باقی رہا غزالی و غیرہ کا،، احیاء،، میں ان نمازوں کا بیان کرنا تو اس کا کوئی اعتبار نہیں کیونکہ یہ بات بارہا کہی جا چکی ہے کہ ایسی نمازوں اور نوافل کا ’’احیاء‘‘ ، ’’قوت القلوب‘‘ اور ’’غنیۃ الطالبین‘‘ وغیرہ کتب صوفیہ میں مذکور ہونا ہر گز معتبر نہیں اور امام عراقی نے احادیث احیاء کی تخریج میں کہا ہے کہ نصف شعبان کی نماز والی حدیث باطل ہے۔

’’ملا علی قاری کا اپنا بیان‘‘

ملا علی قاری علیہ الرحمہ اپنی مشہور کتاب ’’موضوعات کبیر‘‘ (ص۸۹) میں خود لکھتے ہیں:

ترجمہ: اور ایسے ہی نماز عاشورہ اور صلوٰۃ الرغائب بالاتفاق موضوع ہیں، اسی طرح رجب کی بقیہ راتوں کی نمازیں اور رجب کی ستائیسویں رات کی نماز اور نصف شعبان کی رات والی سو رکعت نماز جس کی ہر رکعت میں دس بار سورۃ اخلاص پڑھی جاتی ہے اور ان نمازوں کا تذکرہ قوت القلوب، احیاء علوم الدین اور ثعلبی وغیرہ کی تفسیر میں ہونے سے دھوکہ نہ کھاؤ‘‘۔

علامہ ابن القیم الجوزیہ ان روایات کو نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں:

ترجمہ: یہ نماز اسلام کے چار سو سال بعد وضع کی گئی اور اس کا آغاز بیت المقدس سے ہوا، سو اس کے ثبوت کے لیے متعدد احادیث گھڑی گئیں۔

علامہ طاہر پٹنی نے اس مقام پر مجوسی اور برامکہ کی آتش پرستی کا بھی ذکر کیا ہے کہ کیسے انھوں نے ان راتوں میں چراغاں اور آتش پرستی کے رجحانات کو فروغ دیا۔

ترجمہ: ماہ رجب کی فضیلت سب مہینوں پر ایسی ہے جیسی قرآن کی فضیلت دوسرے سب کلاموں پر اور ماہ شعبان کی فضیلت ایسی ہے جیسی میری فضیلت تمام انبیاء پر اور ماہ رمضان کی فضیلت تمام مہینوں پر ایسی ہے جیسی اﷲ کی فضیلت تمام بندوں پر‘‘۔ابن حجر عسقلانی نے کہا: یہ روایت موضوع ہے۔

امام جلال الدین السیوطی اپنی کتاب ’’الأمر بالاتباع والنھی عن الابتداع‘‘ میں امام ابن الصلاح کے حوالے سے لکھتے ہیں:

’’نصف شعبان کی فضیلت ثابت ہے اور اس رات کو عبادت کے ساتھ زندہ رکھنا مستحب ہے لیکن انفرادی طور پر ، بغیر اجتماع کے اور امور بدعات میں لوگوں کی دلچسپی پر حیرت ہے جو وہ ان دو راتوں میں روا رکھتے ہیں اور رسول اﷲ ؐ کے تاکید فرمودہ امور ثابتہ سے ان کی کوتاہی باعث تعجب ہے‘‘۔ (ص۱۷۰)

فقہ حنفی کی شامل نصاب مشہور کتاب ’’نورالایضاح‘‘ میں بھی ان خاص راتوں میں

مساجد میں اجتماع کی بجائے انفرادی عبادت پر زور دیا گیا ہے۔

مزید :

ایڈیشن 1 -