ہر سال تعلیمی حصے کا بجٹ فروغ علم کیلئے ناکافی ہوتا ہے ،غلام عباس

ہر سال تعلیمی حصے کا بجٹ فروغ علم کیلئے ناکافی ہوتا ہے ،غلام عباس

  

 لاہور( ایجوکیشن رپورٹر ) اسلامی تحریک طلبہ نے کہا ہے کہ ہرسال تعلیمی حصے کا بجٹ فروغ علم کیلئے ناکافی ہوتا ہے جس کے باعث تعلیمی مسائل میں آئے روز اضافہ ہو رہا ہے تعلیم کے ساتھ ہر سال یتیموں جیسا سلوک کیا جاتا ہے جو کہ ایک سازش کاحصہ ہے بجٹ کے بعدحکمران فروغ علم کے نام پر بیرون ملک سے امداد مانگتے ہیں جس کے نتیجے میں پاکستان پر اغیار کی زبان انگریزی ،اسلامی مواد کا درجہ بدرجہ اخراج کرکے نصاب تعلیم سیکولر کیا گیا ہے یہ سلسلہ اب بھی جاری وساری ہے، طلبہ برادری کا مطالبہ ہے کہ نظام تعلیم کو بیرون،اغیار سے بچانے کیلئے تعلیمی بجٹ میں خاطر خواہ اضافہ کیا جائے اسلامی تحریک طلبہ پاکستان کے چیئرمین غلام عباس صدیقی،صدر شاہد نذیر،جنرل سیکرٹری ذکی الدین،ترجمان محمدعدنان نے اپنے خصوصی بیان میں کہا ہے کہ تعلیم کا بجٹ کم از کم چھ فیصد ہونا چاہیے وفاقی حکومت بجٹ میں تعلیم کا حصہ کم از کم چھ فیصد مختص کرے سابقہ ادوار میں مختص کیا گیا تعلیم بجٹ تعلیم جیسے اہم شعبے کے ساتھ کھلا مذاق ہے اب یہ مذاق بند ہونا چاہیے۔   تاکہ پاکستان کا نظام تعلیم اسلامی اقدارو روایات کے تحت پاکستانی ماہرین تعلیم ہی قومی زبان میں جدید تقاضوں کو مد نظر رکھتے ہوئے تشکیل دے سکیں ،تعلیمی مسائل کا خاتمہ صرف اور صرف تعلیمی بجٹ میں مناسب اضافے سے وابستہ ہے اسلامی تحریک طلبہ پاکستان اغیار سے تعلیم کے نام پر فنڈ لینے کو لعنت سمجھتی ہے اس لعنت کے خاتمے تک جدوجہد جاری رہے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکمران قومی خزانے سے اپنی فضول عیاشیوں کو بند کرکے فروغ علم کی طرف توجہ دیں ۔ایک قوم،ایک قرآن،ایک رسولﷺ کی حامل پاکستانی قوم کو ایک ہی نظام تعلیم کی ضرورت ہے اس کے بغیر ملک ترقی نہیں کر سکتا۔

مزید :

میٹروپولیٹن 4 -