بچوں سے بھیک منگوانے کا مکروہ دھندا جاری ،این جی او ز فنڈا کٹھا کرنے میں مصروف

بچوں سے بھیک منگوانے کا مکروہ دھندا جاری ،این جی او ز فنڈا کٹھا کرنے میں ...

  

 لاہور(سروے : دیبا مرزا )صوبائی دارالحکومت سمیت پنجاب بھر میں بچوں کے حقوق کے لئے کام کر نے والی ہزاروں سر گرم تنظیموں کے با وجود شہر بھر کی اہم شا ہراؤں پر بچے بھیک ما نگتے اور محنت مزدوری کر تے نظر آتے یہ معصوم بچے ان اداروں کی کاکردگی پر سوا لیہ نشان ہیں یہ این جی اوز محض فنڈ اکھٹا کر نے میں مصروف ہیں روزنامہ پاکستان کی رپورٹ کے مطابق شہر بھر میں اہم شاہراؤں پر گاڑیوں کے شیشے صاف کر تے ،دوکانوں پر مزدوری کر تے یہ بچے ان اداروں کی بے حسی کا منہ چڑا تے نظر آ تے ہیں ۔بانڈڈ گداگری کے ذریعے روزانہ ہزاروں روپے کمائے جاتے ہیں گروہوں کے ماسٹر مائنڈ معصوم اور نو عمر بچوں کو مختلف مقامات پر صبح سویرے ہی چھوڑ جاتے ہیں اور شام کو واپس لے جاتے ہیں شہر کے پوش و معروف ترین چوراہوں ،سڑکوں پر گداگری کے مختلف ریٹ مقرر ہیں اور بچوں کے ذریعے گداگری کو باقاعدہ کاروبار بنا دیا گیا ہے ان سب باتوں سے انجان یہ بچے سارا دن گداگری ،مزدوری کرتے ہیں۔ روزنامہ’’پاکستان‘‘ کی طرف سے کئے گئے سروے میں یہ بات نظر آئی کہ یہ بچے بھی دوسرے بچوں کی طرح خواہشات اور خواب رکھتے ہیں۔مین مارکیٹ سٹاپ پر بھیک مانگتے ہوئے بچے احمد نے بتایا کہ میں اپنے انکل کے پاس رہتا ہوں مجھے پڑھنے کا شوق ہے لیکن انکل کہتے ہیں کہ پڑھائی بہت مہنگی ہے اس لئے پہلے پیسے جمع کرو پھر تم پڑھو گے اس نے کہا کہ میں صبح یہاں پر آتا ہوں اور پھر میں رات 10بجے واپس جاتا ہوں۔ ایک اوربچے امجد نے بتایا کہ میرا پڑھنے کو دل کرتا ہے میں چھ بہنوں کا ایک بھا ئی ہوں اس لئیگاڑیوں کے شیشے صاف کر تا ہوں پیسے مانگتا ہوں کچھ لوگ تو پیسے دے دیتے ہیں لیکن جب کچھ لوگ جو بڑی بڑی گاڑیوں میں بیٹھے ہوتے ہیں مجھے ڈانتے ہیں تو میرا دل کرتا ہے کہ میں رؤں اور اپنے امی ابو کے پاس چلا جاؤں۔جاوید اور منیر نے بتایا کہ ہم لوگ پچھلے کئی سالوں سے لاہور کی مختلف سڑکوں پر بھیک مانگتے ہیں ہمارا ماموں جس نے ہمیں اپنے پاس رکھا ہوا ہے وہ صبح ہمیں اٹھاتا ہے اور اذانوں کے وقت یہ لوگ سڑکوں پر آجاتے ہیں۔ایک سوال کے جواب میں بچوں نے بتایا کہ اب تو ہم لوگ عادی ہوگئے ہیں ہمیں یہ اب روز کی روٹین لگتی ہے۔ انہوں نے بتا یا کہ اگر ہم لوگ بھیک نہیں ما نگتے تو ہم لوگوں کو مارپڑتی ہے اور کھا نا بھی نہیں ملتا جب کہ دوسری طرٖف اداروں کے ترجما نوں سے با ت کی جا ئے تو وہ موقف میں محض ٹال مٹول سے کام لیتے ہیں ۔ ضرورت اس بات کی ہے سٹرکوں پر بھیک ما نگتے ان معصوم پھو لوں کو اگر بچا یا نہ گیا تو ان کو مرجھا نے سے کو ئی نہیں روک سکتا اور ہما را مستقبل یہ بچے وقت سے پہلے ہی روشن ہو نے کے بجا ئے تا ریک ہو جا ئیں گے ۔

مزید :

میٹروپولیٹن 1 -