ایگزیکٹ سے بڑا سکینڈل

ایگزیکٹ سے بڑا سکینڈل
ایگزیکٹ سے بڑا سکینڈل

  

یہ ایگزیکٹ سکینڈل سے بڑا سکینڈل ہے کہ پاکستان تحریک انصاف نے خیبر پختونخوا میں اپنی سیاسی ساکھ کھو دی ہے، تحریک انصاف کی لیڈرشپ اور کارکنوں کو اب اچھی طرح سمجھ آگیا ہوگا کہ سیاست میں کہنا آسان اور کرکے دکھانا مشکل ہوتا ہے، وہ 2013کے عام انتخابات کے حوالے سے جس آئیڈیلزم کا شکار رتھے ، خیبر پختونخوا میں اس آئیڈیل ماحول کا عملی مظاہرہ کرنے میں ناکام رہے ہیں، ابھی تو انہوں نے ایک ارب درخت لگانے کا وعدہ پورا کرکے دکھانا ہے جس کے لئے خزانے سے لاکھوں ، کروڑوں روپے کی اشتہار بازی پہلے ہی ہو چکی ہے ۔

ادھر اطلاعات ہیں کہ این اے 125میں ممکنہ ری پولنگ کے لئے پی ٹی آئی ٹی وی اینکر مبشر لقمان کا نام فائنل کرنے جا رہی ہے لیکن سابق گورنر اور پی ٹی آئی کے چیف آرگنائز ر برائے پنجاب چوہدری محمد سرور اس کی مخالفت کر رہے ہیں۔ اس سے قبل چیئرمین پی ٹی آئی ریحام خان سے شادی کرکے اپنی بہنوں سمیت اپنے پورے فین کلب کو حیران کر چکے ہیں۔ تب ہی آرمی پبلک سکول پر دہشت گردوں نے حملہ کیا تھا اور خان صاحب اپنی دلہن کے ساتھ فوٹو سیشن کے لئے پہنچ گئے تھے۔قومی اسمبلی میں واپسی پر بھی انہیں منہ کی کھانا پڑی ہے۔ اسی طرح سے خان صاحب کے چند فیصلوں سے ریٹائرڈ جسٹس وجیہہ الدین کو سبکی کا سامنا ہے۔ اطلاعات کے مطابق پارٹی میں تین گروپ بن چکے ہیں اوران کے درمیان سخت لڑائی جاری ہے۔ عمران خان تسلسل کے ساتھ ایسے فیصلے کر رہے ہیں جو ایک کپتان صرف کرکٹ گراؤنڈ میں ہی کھڑا ہو کر سکتا ہے، سیاست کے میدان میں ایسے فیصلوں کی کوئی وقعت نہیں ہوتی۔

2013کے عام انتخابات میں پی ٹی آئی کوصوبائی اسمبلی کی 124سیٹوں میں سے 45فیصد سیٹیں ملی تھیں، اب مقامی حکومتوں کے انتخابات میں 35فیصد سے زیادہ نہیں مل سکی ہیں۔ پی ٹی آئی کا ووٹ بینک کم ہوا ہے جس کا مطلب ہے کہ خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کی مقبولیت کم ہوئی ہے ۔ اس کے مقابلے میں اے این پی کو 2013کے انتخابات میں صوبائی اسمبلی کی 124سیٹوں میں سے پانچ سیٹیں ملی تھیں ، اب وہ 30سے 35سیٹیں لے جانے کی پوزیشن میں ہے، گویا کہ اے این پی نے اپنی ساکھ کو بحال کرلیا ہے۔انتخابات پر نظر رکھنے والی تنظم فافن نے 2013کے انتخابات کی طرح خیبر پختونخوامیں مقامی حکومتوں کے انتخابات کی مانیٹرنگ بھی کی اور خیبرپختونخوا حکومت اور الیکشن کمیشن کو ذمہ دار ٹھہرایا کہ ان دونوں کی وجہ سے انتخابات صاف اور شفاف طور پر منعقد نہیں ہوسکے ہیں۔ الیکشن کمیشن کی عملداری پولنگ بوتھ کے اندر تھی، اس سے باہر خیبرپختونخوا کی انتظامی مشینری کی تھی لیکن پی ٹی آئی نے سار ا ملبہ الیکشن کمیشن پر پھینک دیا ہے ، حالانکہ دھاندلی میں ملوث ہونے پران کے ایک وزیرگنڈا پورکے خلاف بھی ایف آئی آرہوئی ہے ۔میاں افتخار حسین کی گرفتاری علیحدہ سے پی ٹی آئی کے لئے بدنامی کا باعث بنی ہے۔ شاید اسی بدنامی سے بچنے کے لئے اب ان کی رہائی کا انتظام کیا جا رہا ہے۔

پی ٹی آئی نے 2013کے عام انتخابات کو مشکوک بنانے کے لئے جو ماحول بنایا اب وہی ان کے گلے پڑگیاہے ۔ وہ جس رائی کو پہاڑ بنا رہے تھے وہی پہاڑ ان پر آن آگرا ہے، اب پی ٹی آئی والے کہتے ہیں کہ بے ضابطگیاں تو ہر الیکشن میں ہوتی ہیں۔

پی ٹی آئی پر مشکل وقت ہے، خیبر پختونخوا میں مقامی حکومتوں کے انتخابات کے بعد اس کی تعریف کم اور اس پر تنقید زیادہ ہوئی ہے۔پی ٹی آئی ترقی معکوس کا شکار نظر آرہی ہے۔پارٹی میں مزید شکست و ریخت ہو سکتی ہے۔ اس سے بھی 5بڑا نقصان یہ ہوسکتا ہے کہ پنجاب میں جو لوگ پی ٹی آئی کو مقامی حکومتوں کے انتخابات سے قبل جوائن کرنے جا رہے تھے ،وہ سوچ میں پڑ گئے ہوں گے کہ کہیں وہ گھاٹے کا سودا تو نہیں کرنے جا رہے۔پی ٹی آئی خطرے کی زد میں ہے۔یہ بلاول بھٹو کے ایکٹو ہونے کا بہترین وقت ہے۔ شاید اسی لئے وہ پاکستان پہنچ گئے ہیں، خیبر پختونخوا میں مقامی حکومتوں کے انعقاد کے بعد پی ٹی آئی انڈرپریشر ہے۔عمران خان ایک غیر مقبول ہوتی ہوئی سیاسی جماعت کے مقبول لیڈر بنتے جا رہے ہیں۔مقامی سطح انتخابات میں کے اسمبلیوں میں پی ٹی آئی کی تنہا اجارہ داری ثابت نہیں ہو سکی ہے، پانسا کسی وقت بھی پلٹ سکتا ہے۔

مزید :

کالم -